ریاض الاسعد

رياض الأسعد

شامی فضائیہ کے سابق کرنل جنہوں نے جولائی 2011 میں انحراف کر کے فری سیرین آرمی کی بنیاد رکھی اور اس کے ابتدائی دور میں اس کی قیادت کی۔ بعد میں وہ 2017 سے 2024 تک شامی حکومت نجات کے فوجی امور کے نائب وزیر اعظم رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
جرنیل · سیاست دان
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    تعارف

    ریاض موسیٰ الاسعد (پیدائش 2 فروری 1961) شامی فضائیہ کے سابق کرنل ہیں جنہوں نے جولائی 2011 میں انحراف کر کے فری سیرین آرمی (FSA) کی بنیاد رکھی اور اس کے پہلے قائم مقام کمانڈر انچیف بنے۔ بعد میں وہ 2017 سے 2024 تک شامی حکومت نجات کے فوجی امور کے نائب وزیر اعظم رہے۔ 1

    فری سیرین آرمی کی بنیاد اور قیادت

    عربی مضمون کے مطابق وہ انیس برس کی عمر میں فضائیہ میں شامل ہوئے، بطور انجینئر خدمات انجام دیں اور کرنل کے عہدے تک پہنچے؛ اپنے بیان کے مطابق انہیں جبری اعتراف پر مجبور کیا گیا جس کے فوراً بعد انہوں نے 4 جولائی 2011 کو انحراف کا اعلان کیا۔ 2 29 جولائی 2011 کو انہوں نے دیگر منحرف افسروں کے ساتھ فری سیرین آرمی کے قیام کا اعلان کیا۔ انگریزی مضمون کے مطابق ان کی قیادت میں یہ فورس مارچ 2012 تک 75,000 جنگجوؤں تک پھیل گئی۔ انہوں نے کوفی عنان امن منصوبے کے تحت جنگ بندی کا اعلان کیا، پھر اسے ناکام قرار دے کر حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا، اور ستمبر 2012 میں کمانڈ مرکز ترکی سے شام کے اندر منتقل ہوا۔ 1

    بعد کے مراحل

    25 مارچ 2013 کو میادین کے قریب کار بم دھماکے میں ان کی دائیں ٹانگ کاٹنی پڑی۔ دسمبر 2012 میں سلیم ادریس ان کے جانشین موثر کمانڈر بنے تھے۔ 1 2 نومبر 2017 کو وہ حکومت نجات کے فوجی امور کے نائب وزیر اعظم مقرر ہوئے اور 2024 تک اس عہدے پر رہے۔ دسمبر 2024 میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد وہ دمشق واپس آئے اور کہا کہ فری سیرین آرمی نے ہیئت تحریر الشام کے ساتھ قریبی تعاون کیا تھا۔ 1

    موقف و تنقید

    اس حصے میں درج موقف مصادر میں منقول ہیں۔ مضمون کے مطابق بعض ساتھی افسروں نے کہا کہ فوج پر ان کا مکمل کنٹرول نہیں تھا، جس کی انہوں نے تردید کی؛ حوار کلس آپریشنز روم نے حکومت نجات میں ان کے کردار پر انہیں القاعدہ سے ساز باز کا الزام لگایا۔ ان کے بعض بیانات کو مضمون متنازع قرار دیتا ہے، جن میں خودکش بمباری کو انقلابی عمل کا حصہ کہنا اور النصرہ فرنٹ کا دفاع شامل ہے۔ 1

    حوالہ جات

    • "Riad al-Asaad"، انگریزی ویکیپیڈیا، 16 جولائی 2026 کی نظرثانی۔ 1
    • «رياض الأسعد»، عربی ویکیپیڈیا، 7 اکتوبر 2026 کی نظرثانی۔ 2
    • ویکی ڈیٹا آئٹم Q714040۔ 3

    ماخذ

    1. Riad al-Asaad — English Wikipedia
    2. رياض الأسعد — ويكيبيديا العربية
    3. Riad al-Asaad — Wikidata Q714040
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ریاض الاسعد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/riad-al-asaad/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔