راسونا سعید

راسونا سعيد

–

جاكرتا

مینانگکاباؤ مقررہ اور انڈونیشی قوم پرست کارکن (1910ء–1965ء): دینیہ پوتری اور سوماترا طوالب مدارس سے تربیت پائی، تیس کی دہائی میں پرمی کی جانب سے مغربی سوماترا کا دورہ کر کے پرجوش استعمار مخالف تقریریں کیں، 1932ء میں قید ہوئیں، خواتین کے لیے مساوی تعلیم کی مہم چلائی اور 1974ء میں قومی ہیرو قرار پائیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · activist
خطہ
southeast-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحلیم محمود · عبد الجبار الجومرد · عبد الله بن الصديق الغماري · عبد الحي عارفي · عبد الحمید خان بھاشانی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    راسونا سعید (14 ستمبر 1910ء – 2 نومبر 1965ء) مغربی سوماترا کے مانینجاؤ سے تعلق رکھنے والی مینانگکاباؤ مقررہ اور قوم پرست کارکن تھیں، جن کی تقریروں نے ولندیزی استعمار کی مخالفت کو خواتین کی تعلیم کے حق سے جوڑا۔ انہوں نے اسلامی مدارس میں کام کیا، پرساتوان مسلمین انڈونیشیا (پرمی) کی جانب سے تقریریں کیں، استعماری حکومت نے انہیں قید کیا، اور آزادی کے بعد وہ قومی نمائندہ اداروں میں رہیں؛ 1974ء میں انڈونیشیا نے انہیں قومی ہیرو قرار دیا۔ 1 2 3

    مانینجاؤ اور تعلیم

    وہ مانینجاؤ میں ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئیں جسے مضامین دیندار مسلمان بیان کرتے ہیں: ان کے والد حاجی محمد سعید تاجر اور آزادی کے کارکن تھے اور کئی چچا معلم تھے۔ خاندانی پس منظر شخصی وابستگی نہیں ہوتا، اور ان کا ریکارڈ یہی کہتا ہے۔ انہوں نے مقامی دینی مدارس، پاڈانگ پانجانگ کے دینیہ پوتری لڑکیوں کے مدرسے — جہاں وہ معاون معلمہ بھی رہیں — اور سوماترا طوالب کے ماحول میں تعلیم پائی۔ انڈونیشی مضمون مزید کہتا ہے کہ انہوں نے عبد الکریم امر اللہ، المعروف حاجی رسول، سے دینی تعلیم گہری کی؛ مگر یہ جملہ اسی پیراگراف میں ہے جسے مضمون خود حوالہ طلب قرار دیتا ہے، اس لیے یہ صرف مضمون کا بیان نقل کیا گیا ہے اور اس پر شاگردی کا کوئی رشتہ نہیں بنایا گیا۔ 1 2 4

    خطابت، پرمی اور قید

    تیس کی دہائی میں انہوں نے پرمی کے لیے مغربی سوماترا کا دورہ کر کے پرجوش تقریریں کیں، استعماری پالیسی اور خواتین کو تعلیم سے محروم رکھنے پر حملہ کیا اور استعمار کے خلاف عوامی بحث میں قرآن سے استدلال کیا۔ استعماری حکومت نے ان پر کڑی نظر رکھی اور 1932ء میں انہیں قید کر دیا۔ عوامی خطابت اور پارٹی وابستگی کوئی اسلامی مکتب نہیں، اور کوئی مضمون ان کے لیے کوئی مکتب نامزد نہیں کرتا۔ 1 2

    آزادی کے بعد اور وفات

    1945ء کے بعد وہ نمائندہ اور خواتین کی تعلیم کی وکیل کے طور پر عوامی زندگی میں رہیں۔ وہ 2 نومبر 1965ء کو جکارتہ میں چھاتی کے کینسر سے وفات پاگئیں اور کالیباتا ہیروز قبرستان میں دفن ہوئیں۔ بعد میں جکارتہ کی ایک بڑی شاہراہ ان کے نام سے منسوب ہوئی۔ 1 2 3

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرّف ماخذی اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظر ثانی کی تاریخ درج ہو اور ہر تبدیل شدہ حقیقت کا ماخذ نامزد ہو۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    جاكرتا
    Buried in
    جاكرتا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامعة شريف هداية الله الإسلامية الحكومية· عبد الکریم امر اللہ· آغوس سالم· أحمد محمد الطيب· بی جے حبیبی· ڈیڈی کوربوزیئر· حاجی عبد الملک کریم امر اللہ· کاسمان سنگودیمیدجو

    ماخذ

    1. Rasuna Said — English Wikipedia
    2. Rasuna Said — Indonesian Wikipedia
    3. Rasuna Said — Wikidata Q7295346
    4. Rasuna Said — Urdu Wikipedia
    • Rasuna Said — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “راسونا سعید”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/rasuna-said/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامعة شريف هداية الله الإسلامية الحكومية

    State Islamic university in Jakarta, where the Grand Imam gave his address to Muslims in Asia and the world on 23 February 2016; its rector said the curriculum follows Al-Azhar's faculties.