ایک نظر میں
- کردار
- حکمران
- خطہ
- arabia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
نشو و نما اور عسکری زندگی
قابوس نے انگلستان کے سوفولک میں تعلیم پائی۔ رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ (1960ء) سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہوں نے برطانوی فوج میں مختصر مدت خدمات انجام دیں — اردو مقالہ کے مطابق تربیت مغربی جرمنی میں ہوئی — اور 1964ء/1966ء میں عمان واپس آئے، جہاں اردو مقالہ کے مطابق انہوں نے اپنے وقت کا بیشتر حصہ اسلامی قانون اور عمانی تاریخ کے مطالعے میں گزارا۔ صلالہ میں وہ والد کی عائد کردہ سخت پابندیوں کے تحت رہے۔ 1 2
اقتدار کی منتقلی اور عہد
23 جولائی 1970ء کو قابوس انتیس برس کی عمر میں برطانوی حمایت کے ساتھ والد کے خلاف کامیاب بغاوت کے ذریعے تخت پر بیٹھے، مقصد ملک کی تنہائی ختم کر کے تیل کی آمدنی جدید کاری پر لگانا تھا۔ انہوں نے ملک کا نام «مسقط و عمان» سے بدل کر «سلطنتِ عمان» رکھا۔ ظفار کی بغاوت (1962ء–1976ء)، جسے جنوبی یمن کی حمایت حاصل تھی، ایران کے شاہ، اردنی افواج اور برطانوی خصوصی افواج و رائل ایئر فورس کی مدد سے شکست کھا گئی۔ ان کے اقتدار کے آغاز میں عمان میں بنیادی ڈھانچہ، صحت اور تعلیم تقریباً ناپید تھی اور پکی سڑکیں چند کلومیٹر ہی تھیں؛ تیل کی آمدنی سے انہوں نے ملک کو جدید بنایا: اسکول و اسپتال بنے، غلامی ختم ہوئی، اور 1996ء میں ملک کا دستور (بنیادی قانون) نافذ ہوا۔ ان کی خارجہ پالیسی نے عمان کو غیر جانب دار اور علاقائی ثالث رکھا — اسی سلسلے میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اکتوبر 2018ء میں عمان کا دورہ کیا۔ 2011ء میں صحار سے شروع ہونے والے احتجاج میں تنخواہوں میں اضافے، مہنگائی میں کمی، روزگار اور بدعنوانی کے خاتمے کے مطالبات ہوئے؛ ان کے جوابات میں کابینہ کے ایک تہائی ارکان کی برطرفی شامل تھی، اور مصادر نے احتجاجی قائدین کی گرفتاریوں کی بھی خبر دی۔ قابوس نے کئی برسوں تک تمام بڑے عہدے خود اپنے پاس رکھے۔ 1 2
ذاتی زندگی
انگریزی مقالہ تصریح کرتا ہے کہ قابوس اباضی مسلک کے مسلمان تھے، وہ روایت جس نے تاریخی طور پر عمان پر حکمرانی کی ہے — یہ بات یہاں ویسے ہی درج ہے جیسے مقالہ کہتا ہے؛ عجائب گھر کے ڈیٹا ریکارڈ میں اس شہادت کی مکمل تفصیل اور مسلک کی درجہ بندی نہ کرنے کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ وہ کلاسیکی موسیقی کے پرجوش سرپرست تھے: 1986ء سے قائم ان کی 120 رکنی آرکسٹرا مکمل طور پر نوجوان عمانیوں پر مشتمل ہے، رائل اوپرا ہاؤس مسقط ان کی سرپرستی میں بنا، اور وہ پائپ آرگن کے شوقین تھے۔ 22 مارچ 1976ء کو انہوں نے اپنی چچازاد سیدہ نوال بنت طارق سے شادی کی، جن کا نام شادی پر کاملہ رکھا گیا؛ 1979ء میں طلاق پر یہ شادی ختم ہوئی اور کوئی اولاد نہ ہوئی۔ اردو مقالے کے مطابق انہیں نشانِ پاکستان (2001ء) اور جواہر لعل نہرو ایوارڈ (2004ء) سے نوازا گیا۔ 1 2
وفات اور جانشینی
آخری برسوں میں صحت کی خرابی کے بعد قابوس 10 جنوری 2020ء کو اناسی برس کی عمر میں وفات پا گئے؛ اردو مقالہ ان کی بیماری کو کینسر بتاتا ہے۔ ان کی کوئی اولاد اور کوئی عوامی طور پر نامزد وارث نہیں تھا: انہوں نے شاہی خاندان کو جانشین پر اتفاق کا ذمہ سونپا تھا، اور احتیاطاً ایک مہر بند خط میں اپنا پسندیدہ نام چھوڑا تھا۔ وفات کے بعد شاہی دربار نے اسی نام — ان کے چچازاد ہیثم بن طارق — کو سلطان قرار دیا۔ 1 2
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
- Predecessor of
- ہیثم بن طارق
- Member of
- آل بو سعيد
- Buried in
- مسقط
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ہیثم بن طارق· عزان بن قیس· فیصل بن ترکی البوسعیدی· تیمور بن فیصل· ترکی بن سعید· آل بو سعيد· مسقط· علی بن سعید
ماخذ
- Qaboos bin Said Al Said — English Wikipedia
- قابوس بن سعید — Urdu Wikipedia
- قابوس بن سعيد — Arabic Wikipedia
- Qaboos bin Said Al Said — Wikidata Q57331
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “قابوس بن سعید”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/qaboos-bin-said/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.