شہزادہ محمد صباح الدین

الأمير محمد صباح الدين

–

إسطنبول

شہزادہ محمد صباح الدین (پیدائش: استنبول، 13 فروری 1879ء – وفات: نوشاتیل، سوئٹزرلینڈ، 30 جون 1948ء)، عثمانی شہزادے، ماہرِ سماجیات اور لبرل مفکر؛ سلطان عبدالمجید اول کی صاحبزادی سنیحہ سلطان کے بیٹے؛ «تشبُّثِ شخصی و عدمِ مرکزیت» کی انجمن اور احرار پارٹی کے بانی، اتحاد و ترقی کے لبرل مخالف اور بارہا جلاوطن رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sociologist · سیاست دان · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · آغا خان سوم · احمد لطفی سید

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    شہزادہ محمد صباح الدین (پیدائش: استنبول، 13 فروری 1879ء – وفات: نوشاتیل، سوئٹزرلینڈ، 30 جون 1948ء) عثمانی شہزادے، ماہرِ سماجیات اور لبرل مفکر تھے؛ والدہ سنیحہ سلطان سلطان عبدالمجید اول کی صاحبزادی تھیں۔ 1 2 وہ ترکی میں علمِ سماجیات کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں اور لی پلے و دیمولاں کے سماجی علوم کے پیروکار تھے۔ 1

    زندگی اور عہد

    1899ء کے اواخر میں وہ اپنے والد اور بھائی کے ہمراہ، والد کی عبدالحمید ثانی سے ناچاقی کے بعد، برطانیہ و جنیوا سے ہوتے ہوئے پیرس جا بسے اور جلاوطن نوجوانانِ ترک کے قائد بن گئے۔ 1 1902ء میں انھوں نے «معارضین کی پہلی کانگریس» بلائی جس میں ان کا غیر مرکزی حکومت اور نجی اقدام کا موقف اتحاد و ترقی کے مرکزی آئینی موقف سے ٹکرایا، اور 1906ء میں «تشبُّثِ شخصی و عدمِ مرکزیت» کی انجمن قائم کی۔ 1 1908ء کے انقلاب کے بعد استنبول لوٹ کر «احرار پارٹی» بنائی؛ 1913ء میں اپنے حامیوں کے ہاتھوں محمود شوکت پاشا کے قتل کے بعد دوبارہ فرار ہوئے، 1919ء میں واپس آئے، 1924ء میں آلِ عثمان کی جلاوطنی کے قانون کے تحت سوئٹزرلینڈ چلے گئے اور وہیں وفات پائی؛ 1952ء میں ان کی میت استنبول لائی گئی۔ 1 2 ان کی کتابوں میں «ترکیہ کیسے بچایا جا سکتا ہے؟» اور عدمِ مرکزیت پر ان کے «ایضاحات» شامل ہیں۔ 1

    موقف و نقد

    یہ حصہ ماخذوں میں منقول مواقف کی پیش کش کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    صباح الدین نے انتظامی عدمِ مرکزیت اور آزاد کاروبار کو اتحاد و ترقی کی مرکزی قومی معیشت کے مقابل رکھا، اور ان کے افکار کو ترکی کی وسط دائیں سیاست کی بنیاد مانا جاتا ہے۔ 1 ان کے مسلک کا سوال اس ریکارڈ کا نازک ترین مسئلہ ہے: انگریزی مضمون کے معلوماتی خانے میں مذہب «سنی اسلام» درج ہے مگر متن میں اس پر کوئی بحث یا حوالہ نہیں۔ 1 عربی مضمون کی مذہبی خانہ خالی ہے، ترکی مضمون میں یہ خانہ ہے ہی نہیں، اور وکی ڈیٹا صرف عمومی «اسلام» دیتا ہے۔ 3 2 4 دو مستقل ماخذوں کی شرط اور شبہ کی حکمرانی کے تحت ان کا مسلک ریکارڈ میں نامعلوم رکھا گیا ہے اور یہ قراءت ریکارڈ کے نوٹ میں محفوظ ہے۔

    حوالہ جات

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا

    ماخذ

    1. Prince Sabahaddin — English Wikipedia
    2. Prince Sabahaddin — Turkish Wikipedia
    3. Prince Sabahaddin — Arabic Wikipedia
    4. Prince Sabahaddin — Wikidata Q2110643
    • Prince Sabahaddin — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “شہزادہ محمد صباح الدین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/prince-sabahaddin/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع العرب بإسطنبول

    Draft card for Arap Camii (the Arab Mosque) in Galata, Istanbul, the former Latin church converted to a mosque and known for its pier-supported minaret; per the cited architecture survey, the page not yet checked.