نوری کلیگل

نوري كيليجيل

–

إسطنبول

عثمانی جنرل، وزیرِ حرب انور پاشا کے سوتیلے بھائی۔ انہوں نے لیبیا میں تنظیمِ مخصوصہ کی کارروائیوں کو منظم کیا، پھر قفقاز میں اسلام فوج کی قیادت کی اور 1918 میں باکو میں داخل ہوئے اور اس کے فاتح کہلائے۔ جنگ کے بعد انہوں نے اسطنبول میں اسلحہ فیکٹری قائم کی اور 1949 میں اس کے دھماکے میں جاں بحق ہوئے؛ ادرنہ قاپی شہداء قبرستان میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
military
خطہ
anatolia-balkans
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد القادر حاج علی · عبد الحمید خان بھاشانی

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    نوری کلیگل (1889–1949)، جو نوری پاشا کے نام سے بھی مشہور ہیں، عثمانی جنرل اور وزیرِ حرب انور پاشا کے سوتیلے بھائی تھے۔ انہوں نے لیبیا میں تنظیمِ مخصوصہ کی کارروائیوں کو منظم کیا، قفقاز میں اسلام فوج کی قیادت کی اور 1918 میں باکو فتح کیا، اور جنگ کے بعد اسطنبول میں اسلحہ فیکٹری بنائی جس کے دھماکے میں 1949 میں ان کی موت ہوئی۔ 1

    لیبیا

    انفنٹری مشین گن کپتان نوری بے فروری 1915 میں ایک جرمن جہاز پر میجر جعفر العسکری اور دس ہزار سونے کے سکوں کے ساتھ لیبیا بھیجے گئے، تاکہ اطالویوں اور انگریزوں کے خلاف تنظیمِ مخصوصہ (Teşkilat-ı Mahsusa) کی کارروائیوں کو مقامی قوتوں کے ساتھ منظم و ہم آہنگ کریں۔ 1917 میں عثمانی جنرل سٹاف نے لیبیا کے ساحلی علاقوں کے لیے افریقہ گروپس کمانڈ بنائی اور لیفٹیننٹ کرنل نوری بے کو اس کا پہلا کمانڈر مقرر کیا۔ 1

    قفقاز اور باکو

    روسی انقلاب نے روس کو جنگ سے باہر کر دیا تو ان کے بڑے سوتیلے بھائی انور پاشا نے انہیں لیبیا سے واپس بلایا، ترقی دی، اور رضاکاروں پر مبنی اسلام فوج کی تشکیل و قیادت انہیں سونپی۔ وہ 25 مئی 1918 کو یلیزاویت پول (گنجہ) پہنچے اور اپنی افواج منظم کیں؛ 15 ستمبر 1918 کو باکو کی جنگ کے بعد اسلام فوج اور اس کے آذربائیجانی اتحادی باکو میں داخل ہوئے۔ انگریزی مضمون ایرکسن (2001) اور آرمینی نسل کشی میوزیم-انسٹیٹیوٹ کے حوالے سے بتاتا ہے کہ ان کی قیادت کے دوران نوری نے باکو شہر میں 30,000 آرمینی شہریوں کے قتلِ عام کی نگرانی کی، اور اس کے زمرے انہیں آرمینی نسل کشی کے مرتکبین میں شمار کرتے ہیں۔ ترک یادداشت میں وہ «باکو فاتحی» یعنی فاتحِ باکو کہلاتے ہیں۔ 1 2

    فیکٹری اور وفات

    جنگ کے بعد نوری اسطنبول میں آباد ہوئے اور سوتلوجے میں اسلحہ فیکٹری قائم کی۔ 2 مارچ 1949 کو فیکٹری پھٹ گئی اور وہ اس میں جاں بحق ہوئے۔ وہ اسطنبول کے ادرنہ قاپی شہداء قبرستان میں دفن ہوئے۔ مآخذ ان کی پیدائش میں اختلاف رکھتے ہیں: دونوں مضامین کے معلوماتی خانے 1889 اور مناستر (بیتولا) دیتے ہیں، جسے یہ ریکارڈ اختیار کرتا ہے، لیکن ترک مضمون کی تمہید اور زمرے 1890 اور اسطنبول دیتے ہیں، اور وکی ڈیٹا میں 1881 کی غیر مدعوم قیمت بھی موجود ہے؛ اس لیے ان کی پیدائش متنازع درج کی گئی ہے۔ 2 3

    ان کے دین کا سوال

    کوئی بھی ماخذ ان کا دین بیان نہیں کرتا: نہ کسی مضمون کے متن یا معلوماتی خانے میں کوئی دین نامزد ہے، اور نہ وکی ڈیٹا میں ان کے لیے کوئی دینی بیان موجود ہے۔ تنظیمِ مخصوصہ میں ان کی خدمات اور «اسلام فوج» نامی قوت کی قیادت تنظیمی و عسکری حقائق ہیں، ذاتی وابستگی کا اثبات نہیں، اس لیے میوزیم کے دو ماخذوں کے اصول کے تحت ان کا عقیدہ نامعلوم درج کیا گیا ہے۔ 1 2 3

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرف مآخذ کے اندراجات، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخہ ہونی چاہیے اور اس ماخذ کا نام لے جس نے ہر حقیقت بدلی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    إسطنبول
    Buried in
    إسطنبول
    Sibling of
    اسماعیل انور پاشا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    اسماعیل انور پاشا· إسطنبول· جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول

    ماخذ

    1. Nuri Killigil — English Wikipedia
    2. Nuri Killigil — Turkish Wikipedia
    3. Nuri Killigil — Wikidata Q2598603
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “نوری کلیگل”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/nuri-killigil/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    اسماعیل انور پاشا

    عثمانی فوجی کمانڈر اور سیاست دان، جمعیتِ اتحاد و ترقی کے «تین پاشاؤں» میں سرکردہ، 1914 سے 1918 تک وزیرِ حرب اور پہلی جنگِ عظیم میں عملاً سپہ سالار۔ انہوں نے صاریقامش کی تباہی کی قیادت کی، شکست کے بعد فرار ہوئے اور غیر حاضری میں سزائے موت پائی، پھر وسطی ایشیا میں بالشویکوں کے خلاف بسمچی تحریک کی قیادت کی اور 1922 میں مارے گئے؛ ان کی باقیات 1996 میں اسطنبول میں دوبارہ دفن ہوئیں۔