ایک نظر میں
- کردار
- military · سیاست دان
- خطہ
- anatolia-balkans
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
اسماعیل انور پاشا (23 نومبر 1881 – 4 اگست 1922) عثمانی فوجی افسر اور سیاست دان تھے، 1914 سے 1918 تک وزیرِ حرب، اور طلعت و جمال کے ساتھ ان «تین پاشاؤں» میں سے ایک جنہوں نے پہلی جنگِ عظیم میں عثمانی ریاست پر حکومت کی۔ انگریزی مضمون انہیں ایک سزا یافتہ جنگی مجرم اور آرمینی، یونانی اور آشوری نسل کشیوں کے اہم مرتکبین میں سے ایک کہتا ہے۔ 1
انقلاب کے ہیرو
وہ قسطنطنیہ میں پیدا ہوئے، پل بان و بعد میں محکمۂ تعمیرات کے اہلکار احمد بے اور عائشہ دل آرا خانم کے بیٹے، اور 1902 میں عثمانی عسکری اکیڈمی سے فارغ ہوئے — مصطفی کمال کے ہم جماعت۔ مقدونیہ میں باغی جتھوں کے خلاف خدمات انجام دیتے ہوئے وہ اپنے چچا خلیل قوت کے ذریعے جمعیتِ اتحاد و ترقی میں شامل ہوئے اور اس کی مناستر شاخ کی مرکزی شخصیت بنے۔ جولائی 1908 میں انہوں نے احمد نیازی کے ساتھ پہاڑوں کا رخ کیا اور سلطان عبدالحمید دوم کو آئین بحال کرنے پر مجبور کیا؛ دونوں کو «آزادی کے ہیرو» کہا گیا، اور انور کا نام نوابوں کے مارچ میں یاد رکھا گیا۔ برلن میں فوجی اتاشی کی حیثیت سے انہوں نے جرمن قیادت سے روابط بنائے؛ 1911–1912 میں لیبیا میں لڑے، 23 جنوری 1913 کی بغاوت میں بابِ عالی پر دھاوا بولا، دوسری بلقان جنگ میں ادرنہ واپس لیا، اور 3 جنوری 1914 کو وزیرِ حرب اور چیف آف جنرل سٹاف بنے، چند ہفتوں بعد شہزادی ناجیہ سلطان سے شادی کر کے شاہی خاندان کے داماد بنے۔ 1 2
وزیرِ حرب
انور عثمانی-جرمن اتحاد اور ریاست کے جنگ میں داخلے کے معماروں میں سے ایک تھے۔ ان کی واحد میدانی قیادت قفقاز کی وہ مہم تھی جو صاریقامش پر ختم ہوئی، جہاں 1914–1915 کے موسمِ سرما میں ان کی 90,000 فوج کا بڑا حصہ جم کر یا مارا جا کر ختم ہوا؛ مضمون بتاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے اپنے آرمینی سپاہیوں کو الزام دیا، اور بعد میں مغربی آرمینیوں کی جلاوطنی اور پراکندہ قتلِ عام شروع کیے جن کا انجام آرمینی نسل کشی پر ہوا۔ 1918 میں ان کی اسلام فوج نے، ان کے سوتیلے بھائی نوری پاشا کی قیادت میں، باکو لے لیا۔ 4 اکتوبر 1918 کو برطرف ہونے کے بعد وہ 1–2 نومبر کی رات دیگر اتحادی قائدین کے ساتھ اسطنبول سے فرار ہو گئے، اور عثمانی فوجی ٹریبونل نے ریاست کو جنگ میں دھکیلنے اور یونانیوں و آرمینیوں کے خلاف قتلِ عام منظم کرنے پر انہیں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی۔ 1
وسطی ایشیا اور وفات
برلن اور ماسکو سے انہوں نے ترک قومی تحریک کی مدد کی کوشش کی جبکہ مصطفی کمال نے ان کی واپسی روکے رکھی۔ نومبر 1921 میں انہیں بسمچی بغاوت کچلنے میں مدد کے لیے بخارا بھیجا گیا، مگر وہ اس کے بجائے بسمچیوں سے جا ملے اور بالشویکوں کے خلاف ایک پان-ترک حملے کے لیے انہیں اپنی قیادت میں متحد کیا۔ 4 اگست 1922 کو سرخ فوج کے ایک گھڑ سوار بریگیڈ نے موجودہ تاجکستان کے گاؤں چیغن کے قریب آبِ دریا کے پاس ان کے صدر دفتر پر اچانک حملہ کیا اور وہ مارے گئے۔ پہلے وہیں دفن ہوئے، پھر 1996 میں ان کی باقیات ترکی لائی گئیں اور اسطنبول کے نصبِ آزادی قبرستان میں دوبارہ دفن ہوئیں، جہاں صدر سلیمان ڈیمیرل نے ترک قوم پرستی میں ان کی خدمات کو سراہا۔ مآخذ میں ان کی تاریخِ پیدائش یکساں نہیں: دونوں مضامین 23 نومبر 1881 دیتے ہیں، وکی ڈیٹا 22 نومبر دیتا ہے، اور ترک مضمون ان کی سوانح عمریوں سے 6 دسمبر 1882 بھی درج کرتا ہے؛ 23 نومبر کو اختیار کیا گیا ہے اور تاریخ متنازع درج ہے۔ 1 2 3
ان کے عقیدے کا سوال
انگریزی مضمون ان کا کوئی دین بیان نہیں کرتا، اور اس کا زمرہ «ترک اسلام پسند» ایک سیاسی تحریک کو بیان کرتا ہے، ذاتی وابستگی کو نہیں؛ ان کی پان-اسلامی اپیلیں اور جلاوطنی کی وہ مہر جو انہیں «تمام اسلام فوجوں کا سپہ سالار» کہتی تھی، سیاسی اوزار تھے۔ ترک مضمون کا معلوماتی خانہ اسلام عمومی طور پر دیتا ہے۔ وکی ڈیٹا اکیلا ایک مکتب نام لیتا ہے — سنی اسلام — اور وہ بھی ایک ہی ربطی حوالے کے ساتھ ایک منظم ڈیٹا قیمت کے طور پر۔ میوزیم کے دو ماخذوں کے اصول کے تحت، جو شخص کے لیے ذاتی طور پر مکتب نام لینے والے دو آزاد مآخذ مانگتا ہے، ان کا عقیدہ نامعلوم درج کیا گیا ہے۔ 1 2 3
مآخذ
- اوپر مذکور معرف مآخذ کے اندراجات،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخہ ہونی چاہیے اور اس ماخذ کا نام لے جس نے ہر حقیقت بدلی۔
تعلقات
- Born in
- إسطنبول
- Buried in
- إسطنبول
- Sibling of
- نوری کلیگل
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
نوری کلیگل· إسطنبول· جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول
ماخذ
- Enver Pasha — English Wikipedia
- Enver Pasha — Turkish Wikipedia
- Enver Pasha — Wikidata Q153899
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “اسماعیل انور پاشا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/enver-pasha/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.