نواب محمد اسماعیل خان

نواب محمد إسماعيل خان

–

دلهي

میرٹھ کے ہندوستانی مسلمان سیاست دان (اگست 1884 – 28 جون 1958)، آل انڈیا مسلم لیگ کے سرکردہ رہنما اور تحریک پاکستان کے بانی اراکین میں سے ایک۔ ٹونبرج اور سینٹ جانز کالج، کیمبرج سے تعلیم پائی اور انر ٹیمپل سے بیرسٹر بنے؛ 1930 سے 1947 تک متحدہ صوبوں کی مسلم لیگ کی قیادت کی، قرارداد پاکستان (1940) کی تدوین میں حصہ لیا، دو مرتبہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے، تقسیم کے بعد ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا، میرٹھ میں وفات پائی اور دہلی میں نظام الدین کے مزار کے پاس خاندانی قبرستان میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · lawyer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد الحمید خان بھاشانی · مولوی عبد الحق · عبد المعز

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    نواب محمد اسماعیل خان (اگست 1884 – 28 جون 1958) میرٹھ کے ہندوستانی مسلمان سیاست دان، آل انڈیا مسلم لیگ کے سرکردہ رہنما اور — انگریزی مقالے کے مطابق — پاکستان کے بانی اراکین میں سے ایک تھے، جن کا مقام محمد علی جناح کے بعد دوسرا بیان کیا جاتا ہے۔ 1 2 اردو مقالہ انگریزی مقالے کا خلاصہ ہے۔ 3

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ اگست 1884 میں میرٹھ میں پیدا ہوئے؛ والد نواب محمد اسحاق خان آئی سی ایس جج اور مسلم لیگ کے بانی رکن تھے، اور دادا اردو و فارسی کے شاعر نواب مصطفیٰ خان شفتا تھے۔ 1 بارہ برس کی عمر میں ٹونبرج اسکول بھیجے گئے، پھر سینٹ جانز کالج، کیمبرج سے تعلیم پا کر انر ٹیمپل سے بیرسٹر بنے اور 1908 میں ہندوستان لوٹ کر موتی لال نہرو کے ساتھ وکالت شروع کی۔ 1

    لیگ، خلافت اور علی گڑھ

    1910 میں مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے رکن بنے اور چار دہائیوں سے زائد اس میں رہے؛ 1930 سے 1947 تک متحدہ صوبوں کی مسلم لیگ کے قائد رہے، آل انڈیا خلافت کمیٹی کی صدارت کی اور تحریک خلافت میں ملک گیر دورے کیے۔ 1 1937 کے لکھنؤ اجلاس میں ان کی اپنی سمور ٹوپی، جو انہوں نے جناح کو پیش کی، «جناح کیپ» کے نام سے مشہور ہوئی۔ 1 وہ مارچ 1940 میں قرارداد پاکستان کے مرتبین میں شامل تھے۔ 1 علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے دو مرتبہ وائس چانسلر رہے — پہلی مرتبہ راس مسعود کے بعد 1930 کی دہائی میں، دوسری مرتبہ 1947–1948 میں۔ 1 3

    تقسیم کے بعد اور وفات

    1947 کے بعد انہوں نے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا — ان کا یہ قول نقل ہوتا ہے: «میں اپنے بھائیوں کو یہاں پیچھے کیسے چھوڑوں؟» — اور 1948 میں وائس چانسلری سے مستعفی ہو کر میرٹھ لوٹ گئے۔ 1 28 جون 1958 کو میرٹھ میں وفات پائی اور دہلی میں نظام الدین اولیا کے مزار کے پاس خاندانی قبرستان میں دفن ہوئے۔ 1 پاکستان پوسٹ نے 1990 میں «رواد آزادی» سلسلے میں ان کے اعزاز میں ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ 1

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Successor of
    راس مسعود
    Buried in
    دلهي
    Predecessor of
    ضیاء الدین احمد

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    شاہ محمد سلیمان· سید احمد خان· راس مسعود· دلهي· تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر

    ماخذ

    1. Nawab Mohammad Ismail Khan — English Wikipedia
    2. Nawab Mohammad Ismail Khan — Wikidata Q6982758
    3. Nawab Mohammad Ismail Khan — Urdu Wikipedia
    • Nawab Mohammad Ismail Khan — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “نواب محمد اسماعیل خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/nawab-mohammad-ismail-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    شاہ محمد سلیمان

    شاہ محمد سلیمان (1886ء–1941ء) ہندوستانی منصف اور طبیعیات دان تھے، الہ آباد ہائی کورٹ کے پہلے ہندوستانی چیف جسٹس (1932ء–1937ء)، بعد میں وفاقی عدالت کے جج اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر (1938ء–1941ء) رہے۔