ایک نظر میں
- کردار
- mathematician · سیاست دان · teacher
- خطہ
- south-asia
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
ضیاء الدین احمد (13 فروری 1873ء – 23 دسمبر 1947ء) میرٹھ کے ہندوستانی ریاضی دان، پارلیمنٹیرین اور ماہر تعلیم تھے، علی گڑھ تحریک کے مرکزی رہنما، جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کئی مدتوں تک وائس چانسلر رہے — نواب محمد اسماعیل خان کے بعد 1935ء سے شروع ہونے والی مدت میں — اور 1930ء سے 1947ء تک مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے۔ 1 2 3 اردو مقالے کا صندوق ان کی پیدائش کا سال 1878ء دیتا ہے؛ انگریزی اور عربی مقالے 1873ء دیتے ہیں، یہی عجائب گھر اختیار کرتا ہے اور اختلاف درج ہے۔ 4
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ میرٹھ میں پیدا ہوئے، پیدائشی نام ضیاء الدین احمد زبیری تھا، کمبوہ نواب خاندان سے تعلق تھا؛ والد حافظ معین الدین ضلعی عملے کے چھوٹے اہلکار تھے۔ 1 وہ تفاضلی، اسقاطی، الجبری اور تجزیاتی جیومیٹری اور لوگارتھم کے اطلاقات کے ریاضی دان تھے، 1895ء میں اسٹریچی گولڈ میڈل اور آئزک نیوٹن اسکالرشپ پائی، اور ایم اے او کالج نیز الہ آباد، کلکتہ، کیمبرج، گوٹنگن، پیرس اور بولونیا میں تعلیم پائی۔ 1 4 1917ء میں کلکتہ یونیورسٹی کے سیڈلر کمیشن اور سکین و شی کمیشنوں میں شامل رہے۔ 1
علی گڑھ
وہ ایم اے او کالج کے عملے میں شامل ہوئے اور 1920ء میں نئی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پہلے پرو وائس چانسلر بنے، پہلے وائس چانسلر راجا محمود آباد کے دور میں۔ 1 پھر 19 اپریل 1935ء کو وائس چانسلر بنے، براہ راست نواب محمد اسماعیل خان کے بعد — یہ ترتیب ان کے اپنے انگریزی و اردو مقالات اور اسماعیل خان کے مقالات سب کے تعاقب صندوقوں میں درج ہے۔ 1 4 5 ان کی پہلی مدت 30 اپریل 1938ء کو ختم ہوئی جب شاہ محمد سلیمان ان کے جانشین بنے؛ 24 اپریل 1941ء کو دوبارہ مقرر ہوئے، مزید خدمت کی، اور دسمبر 1946ء میں اپنے دوبارہ تقرر پر طلبہ کے احتجاج کے بعد مستعفی ہو گئے، جس کے بعد اگلے سال ان کی وفات کے وقت اسماعیل خان دوبارہ اس منصب پر تھے۔ 1 5
پارلیمنٹ اور عوامی خدمات
وہ 1930ء سے اپنی وفات 1947ء تک مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے، آخر میں مسلم لیگ کے چیف وہپ بنے، اور انگریزی مقالہ انہیں ریزرو بینک آف انڈیا اور اس کے 1935ء کے قانون کے قیام میں پیش پیش کردار کا حامل بتاتا ہے۔ 1 انہیں کمپینین آف دی آرڈر آف دی انڈین ایمپائر بنایا گیا اور 1938ء کی نئے سال کی اعزازات میں نائٹ کا خطاب ملا۔ 1 ان کی کتاب «نظام ہائے تعلیم: انگلستان، جرمنی، فرانس اور ہندوستان» 1929ء میں شائع ہوئی۔ 1
وفات اور یادگار
وہ 23 دسمبر 1947ء کو لندن میں نمونیا سے وفات پا گئے، آسٹریلیا سے واپسی کی پرواز میں فالج کے بعد۔ 1 2 ان کی خواہش پر جسد خاکی علی گڑھ لے جایا گیا، جہاں طلبہ نے انتظامیہ کی یونیورسٹی مسجد کی ابتدائی پسند کے برخلاف انہیں یونیورسٹی کے اندر سر سید احمد خان کی قبر کے پاس دفن کیا؛ ان کے مزار کے کتبے پر اقبال کا ایک شعر کندہ ہے۔ 1 ان کے پڑپوتے عاصم حسین نے ان کے اعزاز میں کراچی میں ضیاء الدین یونیورسٹی اور اس کے اسپتال قائم کیے، اور علی گڑھ میں ڈاکٹر ضیاء الدین احمد ڈینٹل کالج اور سر ضیاء الدین ہال ان کے نام پر ہیں۔ 1 ویکی ذخیرہ ان کا مذہب صرف عمومی طور پر «اسلام» دیتا ہے اور کوئی مقالہ ان کا مسلک نہیں بتاتا، اس لیے عجائب گھر ان کی وابستگی نامعلوم درج کرتا ہے۔ 3
تعلقات
- Predecessor of
- شاہ محمد سلیمان
- Successor of
- نواب محمد اسماعیل خان
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Ziauddin Ahmad — English Wikipedia
- Ziauddin Ahmad — Arabic Wikipedia
- Ziauddin Ahmad — Wikidata Q8071382
- Ziauddin Ahmad — Urdu Wikipedia
- Nawab Mohammad Ismail Khan — English Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ضیاء الدین احمد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ziauddin-ahmad/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.