ناصر حسین

ناصر حسين

انگلینڈ کے سابق کرکٹ کھلاڑی اور مبصر، جو 1968 میں مدراس، بھارت میں ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئے اور 1975 میں خاندان کے ساتھ انگلینڈ منتقل ہوئے۔ انھوں نے ایسیکس (1987ء–2004ء) اور انگلینڈ کے لیے 96 ٹیسٹ اور 88 ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے، 1999ء سے 2003ء تک 45 ٹیسٹ میچوں میں انگلینڈ کی کپتانی کی — ان کے دور میں ٹیم نے مسلسل چار سیریز جیتیں اور ٹیسٹ درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر پہنچی — 1997 میں آسٹریلیا کے خلاف 207 کا سب سے بڑا ٹیسٹ سکور بنایا، اور اسکائی اسپورٹس کے ممتاز مبصر بنے؛ ان کی خودنوشت «پلے انگ ود فائر» نے 2005 میں برٹش اسپورٹس بک ایوارڈز میں بہترین خودنوشت کا اعزاز جیتا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
athlete · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    ناصر حسین انگلینڈ کے سابق کرکٹ کھلاڑی اور مبصر ہیں، جو 28 مارچ 1968 کو مدراس، بھارت میں پیدا ہوئے، 1999ء سے 2003ء تک انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان رہے اور ان کا بین الاقوامی کیریئر 1990ء سے 2004ء تک رہا۔ 1 2 3 4

    دائیں ہاتھ کے سخت مزاج بلے باز کی حیثیت سے انھوں نے اول درجہ اور لسٹ اے کرکٹ کے 650 سے زیادہ میچوں میں 30,000 سے زیادہ رنز بنائے، جن میں 62 سنچریاں شامل ہیں۔ ایجبسٹن میں 1997ء کی ایشز کے پہلے ٹیسٹ میں بنایا گیا ان کا سب سے بڑا ٹیسٹ سکور 207 وزڈن نے «جینیئس سے چھوا ہوا» قرار دیا۔ انھوں نے 96 ٹیسٹ اور 88 ایک روزہ میچ کھیلے، ٹیسٹ میں 5,764 رنز بنائے اور 67 کیچ لیے۔ 1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    ناصر حسین مدراس میں ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد رضا جواد «جو» حسین کرکٹ اور فیلڈ ہاکی کے شوقین کھلاڑی اور اٹھارویں صدی کے نوابِ آرکاٹ محمد علی خان والاجاہ کی نسل سے تھے؛ ان کی والدہ شیریں (اصل نام پیٹریشیا پرائس) انگریز ہیں۔ والد نے 1975 میں خاندان کو انگلینڈ منتقل کیا اور حسین نے اپنی 2005ء کی خودنوشت میں یاد کیا کہ خاندان نے بچوں کی انگریزی تعلیم کی خاطر بھارت کی آسودہ زندگی ترک کی؛ خاندان الفورڈ میں آباد ہوا۔ 1

    بچپن میں وہ باصلاحیت لیگ اسپن باؤلر تھے، پھر پندرہ برس کی عمر میں قد بڑھنے سے گیند بازی متاثر ہوئی تو بلے بازی اختیار کی۔ انھوں نے یونیورسٹی آف ڈرہم سے قدرتی علوم پڑھے اور 1989 میں بی ایس سی کی ڈگری لی۔ 1

    کیریئر اور کپتانی

    وہ 1987 میں ایسیکس میں شامل ہوئے اور 1989 کی کاؤنٹی چیمپیئن شپ کے 990 رنز پر انگلینڈ کے لیے منتخب ہوئے، لیکن چوٹ اور خراب فارم کی وجہ سے 1996 تک باقاعدہ ٹیسٹ کھلاڑی نہ بن سکے۔ وہ 1999 میں ایلک اسٹیورٹ کے جانشین کے طور پر کپتان بنے اور 2003 میں استعفے تک 45 ٹیسٹ میچوں میں قیادت کی؛ ان کے دور میں انگلینڈ نے مسلسل چار ٹیسٹ سیریز جیتیں اور ٹیسٹ درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر پہنچی۔ اپنے آخری ٹیسٹ، مئی 2004 میں لارڈز میں نیوزی لینڈ کے خلاف، انھوں نے ناٹ آؤٹ 103 بنائے اور جیتنے والے رنز بنائے۔ 1

    ریٹائرمنٹ کے بعد

    ریٹائرمنٹ پر وہ اسکائی اسپورٹس کے مبصر بنے اور اس کے ممتاز مبصروں میں شامل ہوئے۔ ان کی خودنوشت «پلے انگ ود فائر» (2005ء) نے برٹش اسپورٹس بک ایوارڈز میں بہترین خودنوشت کا اعزاز جیتا۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    ماخذ

    1. Nasser Hussain — English Wikipedia
    2. Nasser Hussain — Arabic Wikipedia
    3. Nasser Hussain — Urdu Wikipedia
    4. Nasser Hussain — Wikidata Q3520174
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ناصر حسین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/nasser-hussain/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔