نصیب بے یوسف بیلی

نصيب بك يوسف بكلي

–

إسطنبول

آذربائیجانی صحافی اور سیاست دان (1881–1920)، ترک وفاقیوں کی جماعت کے بانی جو مساوات میں ضم ہوئی؛ پہلی آذربائیجانی کابینہ میں وزیرِ خزانہ و تعلیم اور بعد ازاں وزیرِ اعظم (1919–1920)؛ 1920 میں باکو سے فرار کے دوران قتل ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · صحافی
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبادی بانو بیگم · عباس حلمی ثانی · عبد الحفیظ بن الحسن · عبد القادر المغربي

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    نصیب بے یوسف بے اوغلو یوسف بیلی (5 جولائی 1881 – 31 مئی 1920)، جو اسوبیوف کے نام سے بھی معروف ہیں، آذربائیجانی صحافی اور سیاست دان تھے: ترک وفاقیوں کی جماعت کے بانی، آذربائیجان جمہوری جمہوریہ کی پہلی کابینہ میں وزیرِ خزانہ و تعلیم، اور 1919–1920 میں اس کے وزیرِ اعظم۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور کیریئر

    وہ گنجہ میں پیدا ہوئے، وہاں کے جمنازیم سے فارغ ہوئے اور 1902 میں اوڈیسا کی نووروسیا یونیورسٹی کی کلیۂ قانون میں داخل ہوئے۔ 1 یونیورسٹی بند ہونے پر وہ کریمیا چلے گئے اور 1907 سے اسماعیل گاسپرنسکی کے اخبار «ترجمان» سے وابستہ رہے؛ ان کی صاحبزادی شفیقہ سے شادی بھی ہوئی۔ 1 3 1908 میں استنبول گئے اور ترک سوسائٹی قائم کی؛ 1909 میں گنجہ لوٹے۔ 1 مارچ 1917 میں انہوں نے ترک وفاقیوں کی جماعت قائم کی جو جون میں مساوات میں ضم ہو گئی۔ 3 28 مئی 1918 کی پہلی حکومت میں وہ وزیرِ خزانہ اور وزیرِ تعلیم و مذہبی امور بنے، اور 14 اپریل 1919 کو وزیرِ اعظم؛ ان کے دور میں جنوری 1920 میں اتحادی سپریم کونسل نے آذربائیجان کی آزادی کو عملی طور پر تسلیم کیا۔ 1 2 ان کی حکومت 1 اپریل 1920 کو مستعفی ہوئی۔ 1

    وفات

    اپریل 1920 میں سرخ فوج کے باکو میں داخلے کے بعد وہ فرار ہوئے اور 31 مئی 1920 کو قتل کر دیے گئے؛ روسی مضمون جائے وفات کردامیر اور عربی مضمون اسی ضلع کا قارخون گاؤں بتاتا ہے۔ 2 3

    موقف اور تنقید

    اس حصے میں مواقف ماخذ کے بیان کے مطابق پیش کیے گئے ہیں؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    ان کا عقیدہ۔ کسی ماخذ نے یوسف بیلی کے لیے کوئی فرقہ یا مکتب نہیں بتایا: انگریزی، آذربائیجانی اور عربی مضامین خاموش ہیں، اور روسی مضمون میں مذہب سے متصل واحد بات ان کا وزارتی عہدہ (تعلیم و مذہبی امور) ہے — عہدہ ذاتی عقیدے کی گواہی نہیں۔ 1 2 ویکی ڈیٹا کی واحد مذہبی قدر عام «اسلام» ہے، لہٰذا ان کا عقیدہ «نامعلوم» درج ہے۔ 4

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا

    ماخذ

    1. Nasib bey Yusifbeyli — English Wikipedia
    2. Nasib bey Yusifbeyli — Russian Wikipedia
    3. Nasib bey Yusifbeyli — Arabic Wikipedia
    4. Nasib bey Yusifbeyli — Wikidata Q2660781
    • Nasib bey Yusifbeyli — Azerbaijani Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “نصیب بے یوسف بیلی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/nasib-bey-yusifbeyli/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع العرب بإسطنبول

    Draft card for Arap Camii (the Arab Mosque) in Galata, Istanbul, the former Latin church converted to a mosque and known for its pier-supported minaret; per the cited architecture survey, the page not yet checked.