ایک نظر میں
- کردار
- سائنس دان
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
مبارک احمد خان ایک بنگلہ دیشی سائنس دان ہیں جو پٹ سن (جوٹ) کے تجارتی استعمالات و امکانات پر تحقیق کرتے ہیں اور سائنسی تحقیق کی ڈیٹابیس سکوپس کے مطابق جوٹ کے مطالعے میں دنیا کے سرکردہ سائنس دان سمجھے جاتے ہیں۔ وہ 1984ء سے بنگلہ دیش جوہری توانائی کمیشن سے وابستہ رہے اور اس کے ڈائریکٹر جنرل (2015ء–2017ء) بنے، اور 2017ء سے بنگلہ دیش جوٹ ملز کارپوریشن کے سائنسی مشیر ہیں۔ ان کی ایجادات میں سونالی بیگ، جو جوٹ سیلیولوز سے بنا قابلِ تحلیل تھیلا ہے اور پالیتھین تھیلوں کا متبادل پیش کیا گیا ہے، اور جوٹن، جوٹ سے مضبوط نالی دار چادر، شامل ہیں؛ نیز گائے کی ہڈی سے بنائی گئی جدید زخم پٹی اور جوٹ سے بنے ہیلمٹ و ٹائلیں۔ انھیں 2024ء میں بنگلہ دیش کا سب سے بڑا شہری اعزاز، یوم آزادی ایوارڈ، ملا۔ 1 2
تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی
انھوں نے جہانگیر نگر یونیورسٹی سے بیچلر اور ماسٹرز ڈگریاں لیں اور 1991ء میں پولیمر و تابکاری کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی، جس کے بعد جرمنی، جاپان اور امریکا میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کام اور کئی دہائیوں میں آسٹریلیا، جرمنی، جاپان و امریکا میں تحقیقی فیلوشپیں حاصل کیں۔ انھوں نے 1984ء میں جوہری توانائی کمیشن کی تابکاری و پولیمر کیمسٹری لیبارٹری میں سائنسی افسر کے طور پر کام شروع کیا، سینئر اور پھر پرنسپل سائنسی افسر، چیف سائنسی افسر اور انسٹی ٹیوٹ آف ریڈی ایشن و پولیمر ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر کے عہدوں سے ہوتے ہوئے 2015ء سے 2017ء تک کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ وہ کئی بنگلہ دیشی جامعات میں پڑھا چکے ہیں اور 2012ء سے ڈھاکہ یونیورسٹی کے معاون پروفیسر ہیں؛ انھوں نے تین سو سے زائد ایم ایس سی اور بیس پی ایچ ڈی طلبہ کی نگرانی کی ہے۔ 1
ایجادات
خان پائیدار مواد پر اپنے کام کے لیے جانے جاتے ہیں۔ سب سے مشہور سونالی بیگ ہے: سیلیولوز پر مبنی قابلِ تحلیل حیاتی پلاسٹک تھیلا جو مٹی میں تین سے چار ماہ میں گل جاتا ہے اور پانی میں حل ہو جاتا ہے؛ اس کا نام 2017ء میں وزیر اعظم شیخ حسینہ نے رکھا تھا اور اسے آلودگی پھیلانے والے پالیتھین تھیلوں کا عملی متبادل پیش کیا گیا۔ ان کی دیگر ایجادات میں جوٹن (2009ء)، کم لاگت مکانات کے لیے جوٹ و پولیمر کی ہلکی و مضبوط نالی دار چادر؛ گائے کی ہڈی سے بنائی گئی جدید زخم پٹی؛ جوٹ و کائٹوسان سے بنا قابلِ تحلیل حفاظتی سامان؛ جوٹ اساس فوق جاذب سے سینیٹری نیپکن؛ جھینگے کے خول سے پودوں کی افزائش بڑھانے والا مادہ؛ اور 2016ء میں فارملین کا غیر مضر متبادل شامل ہیں۔ 1
اعزازات
انھیں بنگلہ دیش اکیڈمی آف سائنسز کا طلائی تمغا (انگریزی مضمون کی فہرست کے مطابق 2010ء)، قومی جوٹ ایوارڈ (2016ء)، فیڈریشن آف ایشین کیمیکل سوسائٹیز ایوارڈ (2017ء)، قومی ماحولیات ایوارڈ (2019ء)، ایم آئی ٹی سولو صحت سلامتی و وبا ایوارڈ (2020ء) اور 2024ء میں سائنس و ٹیکنالوجی کا یوم آزادی ایوارڈ ملا؛ ایشین سائنٹسٹ نے 2025ء میں انھیں ایشیا کے سرفہرست سو سائنس دانوں میں شامل کیا۔ 1
تاریخ پیدائش پر نوٹ
اس اندراج کے لیے پڑھا گیا کوئی مضمون ان کی تاریخ پیدائش نہیں دیتا: انگریزی مضمون انھیں ”سالِ پیدائش گم شدہ“ میں درج کرتا ہے اور بنگالی مضمون کے معلوماتی خانے میں تاریخ پیدائش کا خانہ خالی ہے۔ عجائب گھر کے ڈیٹا میں 1958ء کا سال صرف ویکی ڈیٹا سے، سال کی درستگی کے ساتھ، لیا گیا ہے، جس کی تفصیل ان کے ریکارڈ کے پیدائش والے نوٹ میں ہے۔ 1 2
مآخذ
- اوپر حوالہ شدہ معرّف ماخذ کيانات، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظر ثانی مؤرخ ہونی چاہیے اور اس ماخذ کا نام درج ہونا چاہیے جس نے ہر واقعہ تبدیل کیا۔
ماخذ
- Mubarak Ahmad Khan — English Wikipedia
- Mubarak Ahmad Khan — Wikidata Q56907915
- Mubarak Ahmad Khan — Urdu Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “مبارک احمد خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mubarak-ahmad-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.