اسماعیل بن شریف

إسماعيل بن الشريف

~1645 · 1056 ھ –

مجلماسة → مكناسة

مراکش کے علوی سلطان 1672 سے 1727 میں وفات تک، علوی خاندان کے دوسرے حکمران، جن کے پچپن سالہ دور نے انہیں مراکش کی تاریخ کا سب سے طویل عہدے والا سلطان بنا دیا۔ تقریباً 1645 میں سجلماسہ میں پیدا ہوئے، بھائی الرشید کی وفات پر فاس میں سلطان قرار پائے، اپنے بھتیجے احمد بن محرز اور دیگر کے خلاف طویل جنگوں کے بعد ملک کو متحد کیا، مکناس کو دارالحکومت بنایا اور وہاں عظیم محل کمپلیکس تعمیر کرایا، اور المعمورہ، العرائش اور اصیلہ اسپین سے اور طنجہ انگلینڈ سے واپس لیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sultan
دور
إمبراطوريات البارود
خطہ
maghreb
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1600عیسوی1625عیسوی1650عیسوی1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی تقریباً
إمبراطوريات البارود ہم عصر: ملا جيوان · اسد خان · پاکوبوونو اول · یوسف نبی · لیو ژی

مکان میں

مجلماسة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    تعارف

    اسماعیل بن شریف (تقریباً 1645 – 22 مارچ 1727)، جو مولائے اسماعیل کے نام سے مشہور ہیں، 1672 سے اپنی وفات تک مراکش کے سلطان اور علوی خاندان کے دوسرے حکمران رہے۔ ان کا پچپن سالہ دور مراکش کے کسی بھی سلطان کا طویل ترین دور ہے اور مراکش کی طاقت کا نقطۂ عروج سمجھا جاتا ہے: انہوں نے طویل خانہ جنگیوں کے بعد ملک کو متحد کیا، ایک باقاعدہ فوج بنائی جس سے تاج کا قبائل پر انحصار کم ہوا، مکناس کو دارالحکومت بنایا اور وہاں ایک عظیم محل کمپلیکس تعمیر کرایا، اور اسپینیوں و انگریزوں کو ان کے زیرِ قبضہ بندرگاہوں سے نکال باہر کیا۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    وہ تقریباً 1645 (1056ھ) میں سجلماسہ میں پیدا ہوئے۔ وہ شریف بن علی کے ساتویں بیٹے تھے، جو تافیلالت کے امیر اور علوی خاندان کے پہلے حکمران تھے؛ خاندان اپنا نسب حسن الداخل سے ملاتا تھا۔ ان کی والدہ کے بارے میں روایتیں مختلف ہیں: «الاستقصا» کے مطابق وہ مبارکہ بنت یارک المغفریہ (وفات 1668) تھیں، جبکہ مورخ ابن زیدان کے نزدیک وہ صحرائی قبیلے مغفرہ کی ایک سیاہ فام لونڈی تھیں جو شریف بن علی کو ان کی قید کے دوران فدیے کے سلسلے میں دی گئی تھیں — اگر یہ روایت درست ہو تو ان کی پیدائش والد کی قید کے زمانے یعنی تقریباً 1637 کے لگ بھگ بنتی ہے، جیسا کہ انگریزی مضمون نے نوٹ کیا ہے۔ 1 2

    تخت تک کا راستہ

    ان سے پہلے تین حکمران ہوئے: ان کے والد مولائے شریف، پھر ان کے سوتیلے بھائی سیدی محمد اور مولائے الرشید۔ اسماعیل نے سیدی محمد کے خلاف الرشید کی بغاوت کی حمایت کی؛ سیدی محمد 3 اگست 1664 کو انگاد کی لڑائی میں مارے گئے، تو الرشید نے اسماعیل کو مکناس کی گورنری دی، 1667 میں انہیں فاس میں اپنا خلیفہ (نائب) بنایا اور شمالی مراکش کی فوجی کمان سونپی۔ الرشید 9 اپریل 1672 کو مراكش میں گھوڑے سے گر کر ہلاک ہوئے؛ اسماعیل فاس پہنچے اور 14 اپریل 1672 کو چھبیس سال کی عمر میں وہاں سلطان قرار پائے، اور پانی و آب و ہوا کی وجہ سے مکناس کو دارالحکومت بنایا۔ 1

    مراکش کا اتحاد

    جانشینی بلا مقابلہ نہ رہی۔ ان کے بھتیجے مولائے احمد بن محرز کو حوز کے قبائل اور سوس کے عربوں کی حمایت سے مراكش میں سلطان قرار دیا گیا۔ اسماعیل 4 جون 1672 کو مراكش میں داخل ہوئے، مگر پھر فاس نے بغاوت کر دی، ان کے کمانڈر زیدان بن عبید العمری مارے گئے، اور شہر نے چودہ ماہ آٹھ دن کے محاصرے کے بعد 28 اکتوبر 1673 کو فاس الجدید کے دروازے کھولے؛ خضیر غیلان 2 ستمبر 1673 کو القصر الکبیر میں مارا گیا۔ اسماعیل نے 1674 میں مراكش دوبارہ طاقت سے لیا، 1677 تک تادلہ میں دلائیہ زاویے کی بحالی کی کوشش اور تافیلالت میں اپنے بھائیوں کی بغاوت کچل دی، اور احمد بن محرز سے لڑتے رہے یہاں تک کہ وہ وسط اکتوبر 1685 میں ان سپاہیوں کے ہاتھوں مارے گئے جو انہیں پہچان نہ سکے — اسماعیل نے ان کے جنازے کا حکم دیا — جبکہ مزاحمت تیرہ سال کی جنگ کے بعد اپریل 1687 میں مولائے حران کے صحرا کی طرف فرار پر ختم ہوئی۔ 1692–93 کی مہم میں انہوں نے متوسط اطلس کے صنهاجہ بربر کو، جو "بلاد السیبہ" کی آخری جیب تھے، زیر کر لیا، اور یوں وہ پہلے علوی سلطان بنے جن کے قبضے میں پورا مراکش تھا۔ 1

    فوج اور مکناس

    ان کی فوجی کامیابیوں کی وجہ وہ مضبوط فوج ہے جو انہوں نے بنائی: گیش قبائل، خاص طور پر الودایہ، اور "حرسِ اسود" یعنی "عبید البخاری"، سیاہ غلام جو ان سے پوری طرح وفادار تھے؛ اس سے مرکزی اقتدار کا اکثر باغی قبائل پر انحصار بہت کم ہو گیا۔ مکناس میں انہوں نے پرانے شہر کے پہلو میں ایک عظیم قلعہ اور محل کمپلیکس بنایا جس میں شاندار رہائش گاہیں، باغات، عظیم دروازے، مساجد اور چالیس کلومیٹر سے زیادہ دیواریں شامل تھیں۔ 1 2

    بندرگاہوں کی بازیابی اور مشرقی جنگیں

    مراکش کو متحد کرنے کے بعد انہوں نے ملک میں عیسائی موجودگی ختم کرنے کا عزم کیا۔ ان کے جرنیل علی بن عبد اللہ الریفی نے 1680 سے طنجہ کا محاصرہ کیا؛ انگریزوں نے گیریژن کا خرچ زیادہ پا کر 1683 کی سردیوں میں اپنی قلعہ بندیاں اور بندرگاہ گرا دیں، اور 5 فروری 1684 کو مراکشی فوج شہر میں داخل ہوئی۔ المعمورہ 1681 میں فتح ہوئی، اس کے 309 اسپینی اور توپ خانہ قبضے میں آیا اور شہر کا نام المہدیہ رکھا گیا۔ العرائش 11 نومبر 1689 کو ایک ایسے محاصرے کے بعد لیا گیا جس میں اندازاً دس ہزار مراکشی مارے گئے اور 1600 اسپینی سپاہی قیدی بنے؛ اصیلہ کی اسپینی گیریژن پھر سمندر کے راستے نکل گئی اور 1691 میں مراکشی فوج نے اس پر قبضہ کر لیا۔ مشرق میں انہیں کم کامیابی ملی: 1692 میں تلمسان کی طرف پیش قدمی میں مولویہ کی لڑائی میں عثمانی ریجنسی آف الجزائر کے خلاف ناکام رہے، اور مغربی بیلک فتح کر کے بے کے محل کو لوٹنے کے بعد 1701 میں شلیف کی لڑائی میں پیچھے دھکیل دیے گئے؛ 1708 میں لغواط کامیابی سے حاصل ہوا، اور انہوں نے سبتہ کا محاصرہ کر کے اسے لینے کے قریب پہنچ گئے۔ 1

    خارجی تعلقات اور وفات

    طنجہ کی فتح کے باوجود انگریزوں نے اسپین کے خلاف ان کی حمایت کی اور دوستی و تجارت کے معاہدے کیے، 1704 میں سبتہ کے محاصرے کے دوران اس کی ناکہ بندی میں شامل ہوئے؛ انہوں نے معزول جیمس دوم کے پاس بھی سفارتیں بھیجیں، اسے مدد کی پیشکش کی اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ ان کا انتقال ایک بیماری کے بعد مکناس میں 22 مارچ 1727 (1139ھ) کو ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے حرم میں پانچ سو سے زیادہ خواتین تھیں اور ان کے ثابت شدہ بچوں کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ تھی؛ ان کی موت کے بعد ان کے فوجی حامی بادشاہ گر بن گئے، جو سلطانوں کو تخت پر بٹھاتے اور اتارتے رہتے تھے۔ 1 3

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Sibling of
    رشید بن الشریف· محمد بن شریف
    Born in
    مجلماسة
    Died in
    مكناسة
    Successor of
    رشید بن الشریف

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    رشید بن الشریف· محمد بن شریف· مجلماسة· احمد بن مبارک اللمطی· ماء العینین· محمد بن عبداللہ علوی· مكناسة

    ماخذ

    1. Moulay Ismail ibn al-Sharif — English Wikipedia
    2. Moulay Ismail ibn al-Sharif — Arabic Wikipedia
    3. Moulay Ismail ibn al-Sharif — Wikidata
    • Moulay Ismail ibn al-Sharif — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “اسماعیل بن شریف”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/moulay-ismail/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-03.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    رشید بن الشریف

    مولای رشید بن الشریف (1631ء – 9 اپریل 1672ء) مغرب کے پہلے علوی سلطان تھے، سلسلے کے بانی مولای شریف کے بیٹے۔ اپنے بڑے بھائی مولای محمد کے خلاف اٹھے، جو 1664ء میں انگاد کی لڑائی میں مارے گئے، اور تافیلالت میں ان کے جانشین بنے؛ 1667ء میں فاس فتح کر کے سلطان قرار پائے، پھر مراكش اور سوس کو مطیع کیا اور دلاء زاویہ کو ختم کر دیا، اس لیے بہت سے مؤرخین انہیں علوی اقتدار کا اصل بانی مانتے ہیں۔ پُل اور مدرسے بنائے اور سکہ درست کیا؛ مراكش میں گھوڑے سے گر کر وفات پائی اور ان کے بھائی مولای اسماعیل جانشین ہوئے۔