ایک نظر میں
- کردار
- حکمران
- خطہ
- maghreb
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
سیدی محمد بن عبد اللہ الخطیب، مشہور نام محمد سوم (ق۔ 1710ء – 9 اپریل 1790ء)، 1757ء سے 1790ء تک المغرب کے علوی سلطان رہے 1۔ اس سے پہلے وہ والد سلطان عبد اللہ بن اسماعیل کے عہد میں مراکش کے گورنر تھے اور 1748ء میں مختصر مدت کے لیے سلطان بھی رہے 1۔ مؤرخ عبد اللہ العروی نے انہیں «جدید المغرب کا معمار» قرار دیا 1۔
سلطنت کی بحالی
1757ء میں مولای اسماعیل کی وفات کے بعد کی طویل جانشینی کشمکش کے خاتمے پر جب وہ تخت پر بیٹھے تو ملک میں امن و استحکام لوٹ آیا 1۔ «عبید» (سیاہ فام محافظ دستے) کے نقصانات کو سمجھتے ہوئے انہوں نے ان کی طاقت گھٹا دی — 1775ء میں ان کے بیٹے یزید کو سلطان بنانے کی کوشش کے بعد ان کی ٹکڑیاں طنجہ، العرائش، رباط، مراکش اور سوس کی چھاؤنیوں میں بکھیر دیں — عرب گیش قبائل کا مقام بحال کیا اور پہاڑی بربروں کو قابو میں کیا 1۔ ان کے عہد میں 1776ء سے 1782ء تک خشک سالی اور شدید قحط اور 1779ء–1780ء میں طاعون آیا، جس میں انہوں نے گندم درآمد کی، محصول کم کیے اور خوراک و رقوم تقسیم کیں 1۔ وہ علمی مشاغل میں دلچسپی رکھتے تھے اور علما سے پُرزور تعلق رکھا جنہوں نے ان کی بعض تدابیر و اصلاحات کی حمایت کی 1۔ عربی مضمون کے مطابق ان کی تربیت ان کی دادی فقیہہ خناثہ بنت بکار نے کی، وہ 1143ھ میں ان کے ساتھ حج پر گئے اور محدث ابو العلاء ادریس العراقی سمیت اساتذہ سے تعلیم پائی 2۔
یورپ سے جنگیں اور شہروں کی تعمیرِ نو
جون 1765ء میں ایک فرانسیسی بیڑے نے العرائش پر گولہ باری کی؛ مغربی جہازوں نے اسے گھیر کر بھاری نقصان پہنچایا اور مہم ناکام بنا دی 1۔ 1769ء میں پرتگالیوں نے ان کے آگے بڑھنے کے خطرے سے مازاغان خالی کر دیا جس کا نام «الجدیدہ» رکھا گیا 1۔ 1774ء–1775ء میں ہسپانوی ملیلیا کا ان کا محاصرہ سو دن بعد ناکام رہا اور 1780ء کے معاہدۂ ارانخویس نے ملیلیا ہسپانوی رکھا جبکہ اسپین نے کچھ علاقے المغرب کو دیے 1۔ 1755ء کے لزبن زلزلے کے بعد انہوں نے دار البیضاء دوبارہ آباد کی، فرانسیسی معمار تھیوڈور کورنو سے نمونے کی بندرگاہی شہر الصویرہ بنوایا جو 1769ء سے خارجی تجارت کی اصل بندرگاہ بنی؛ رباط کو بھی شاہی شہر بنایا گیا جہاں دار المخزن محل اور مسجد السنہ بنیں 1۔ عربی مضمون ان سے قریب ساٹھ ادارے — مساجد، مدارس وغیرہ — منسوب کرتا ہے اور یہ بھی کہ انہوں نے قیدیوں، مسلمان ہوں یا عیسائی یا یہودی، کی رہائی کے لیے ریاستی بجٹ کا تیسرا حصہ مخصوص کیا اور اسے دینی فریضہ سمجھا 2۔
امریکہ کی آزادی کی پہلی تسلیمی
20 دسمبر 1777ء کو المغرب امریکہ کو آزاد ملک تسلیم کرنے والی پہلی قوم بنی؛ سلطان نے سلا میں ڈچ قونصل کو ہدایت کی کہ طنجہ، سلا، العرائش اور الصویرہ کے تاجروں و قونصلوں کو مطلع کرے کہ امریکی پرچم والے جہاز مغربی بندرگاہوں میں آزادانہ داخل ہو سکتے ہیں 1۔ جب امریکی مذاکرات میں تاخیر ہوئی تو اکتوبر 1784ء میں مغربی افواج نے فلاڈیلفیا کے تجارتی جہاز «بیٹسی» کو پکڑ لیا اور سلطان نے اعلان کیا کہ معاہدہ ہوتے ہی جہاز، سامان اور عملہ چھوڑ دیے جائیں گے 1۔ مراکش–امریکہ معاہدۂ دوستی، جو معاہدۂ مراکش کہلاتا ہے، 28 جون 1786ء کو دستخط ہوا — یہ امریکہ کا کسی بھی مسلم، عرب یا افریقی ملک سے پہلا معاہدہ تھا — اور آج تک امریکی تاریخ کی سب سے طویل بلا تعطل معاہداتی نسبت ہے 1۔ جارج واشنگٹن نے 1 دسمبر 1789ء کو سلطان کو تشکر کا خط لکھا جو ان کی وفات کے بعد پہنچا 1۔
وفات اور جانشینی
مذہبی رجحان
عربی مضمون سلطان کے عقیدے کے لیے الگ حصہ مخصوص کرتا ہے اور ان کا مشہور قول نقل کرتا ہے: «میں مذہب میں مالکی ہوں، عقیدے میں وہابی ہوں» 2۔ یہ قول فرانسیسی مؤرخ شارل آندرے جولیان کے توسط سے مروی ہے، اور الشویعر کی کتاب اسے جولیان ہی سے اسی صورت میں نقل کرتی ہے؛ یوں یہ ایک ہی تاریخ نویسی کا سرا ہے، اس لیے عجائب گھر کے اصولوں کے تحت مالکی نامزدگی درج تو کی گئی ہے مگر اس بنیاد پر ان کا مذہب ثابت نہیں کیا گیا۔ جو کچھ مکمل طور پر موثق ہے وہ ان کا عمل ہے: مکہ کے حاجیوں کے ذریعے پہنچنے والی سلفی دعوت سے متاثر ہو کر انہوں نے بدعات اور صوفی سلسلوں کی شاخ در شاخ تقسیم سے جنگ کی، اجتہاد و سنت کی طرف بلایا، اور جولیان کی روایت کے مطابق اشعری مذہب کی اجازت دینے والی کتابوں کی تلفی اور بعض زاویوں کی مسماری کا حکم دیا 2۔ نوجوانی میں مراکش میں انہوں نے شیخ ابو العباس الشرادی سے ناصری طریقہ بھی لیا تھا 2۔ انگریزی مضمون کا معلوماتی خانہ ان کا مذہب «سنی اسلام» دیتا ہے اور وکی ڈیٹا میں ان کے لیے مذہب کی کوئی قدر درج نہیں 1 4۔
محققین کے لیے نوٹس
ان کی پیدائش صرف ق۔ 1710ء کے طور پر معلوم ہے؛ انگریزی مضمون، عربی مضمون کا سیرتی حصہ اور اردو مضمون اسے فاس میں دیتے ہیں، جبکہ عربی مضمون کی تمہید اس کے اپنے متن کے برعکس مکناس کہتی ہے 2 3۔ عربی مضمون کا معلوماتی خانہ پیدائش کے سال کے ساتھ 1134ھ جوڑتا ہے جو 1721ء–1722ء میں پڑتا ہے اور 1710ء سے جُڑ ہی نہیں سکتا، اس لیے ان کے ریکارڈ میں پیدائش کی ہجری سال حذف کر دی گئی ہے۔ جائے وفات تین طرح مختلف ہے — انگریزی مضمون اور عربی معلوماتی خانے میں مکناس، عربی مضمون کے وفات والے حصے میں رباط کے قریب عین عتیق، اور وکی ڈیٹا میں سلا 4 — اس لیے ان کے ریکارڈ کی صلہ مکناس پر رکھی گئی ہے کیونکہ یہی سب سے زیادہ موثق قراءت ہے، جبکہ وفات کی تاریخ 9 اپریل 1790ء، جس کے ساتھ عربی مضمون 24 رجب 1204ھ جوڑتا ہے، متفق علیہ ہے 2۔
تعلقات
- Born in
- فاس
- Died in
- مكناسة
- Parent of
- مولای سلیمان بن محمد
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماء العینین· جامع القرويين· ابن بطوطہ کی فاس واپسی· وفد مالي بالزرافة إلى فاس (762هـ)· انقسام ملك بني مرين بين فاس ومراكش (776هـ)· عبد الحفیظ بن الحسن· أبو حسون الوطاسي· احمد بن مبارک اللمطی
ماخذ
- Mohammed ben Abdallah — English Wikipedia
- Muhammad III of Morocco — Arabic Wikipedia
- Mohammed ben Abdallah — Urdu Wikipedia
- Mohammed ben Abdallah — Wikidata Q548563
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “محمد بن عبداللہ علوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mohammed-ben-abdallah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.