اسد خان

أسد خان

1626 اور 1631 کے درمیان عیسوی – 15 جون 1716 عیسوی · 6 رجب 1128 ھ† †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

اسد خان (1626ء/1631ء – 15 جون 1716ء)، اصل نام محمد ابراہیم، صفوی فارسی خاندان کے مغل امیر تھے اور 1676ء سے 1707ء تک اورنگزیب کے وزیر رہے — اس عہد کے طویل ترین مدت والے وزرا میں سے ایک — پھر بہادر شاہ اول اور جہاندر شاہ کے دور میں وکیلِ مطلق بنے۔ اپنے بیٹے ذوالفقار خان کے ساتھ انھوں نے اورنگزیب کے آخری عشروں کے دو حریف درباری گروہوں میں سے ایک کی قیادت کی، اور 1713ء میں بیٹے کے قتل کے بعد گمنامی میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
وزیر · مدبر · جرنیل
خطہ
south-asia · persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1550عیسوی1575عیسوی1600عیسوی1625عیسوی1650عیسوی1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی
إمبراطوريات البارود ہم عصر: أورنكزيب عالمكير · ملا جيوان · سبحان قلی خان · بهادر نظام شاه · محمد المہدی الفاسی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    اسد خان (1626ء/1631ء – 15 جون 1716ء)، اصل نام محمد ابراہیم، مغل امیر اور 1676ء سے 1707ء تک شہنشاہ اورنگزیب کے وزیر رہے 1 2۔ ان کے سنِ ولادت میں مآخذ مختلف ہیں — ستیش چندرا کے ہاں تقریباً 1626ء اور ولیم ارون کے ہاں تقریباً 1631ء — اور ریکارڈ دونوں روایتیں رکھتا ہے 1۔ وہ صفوی ایران کے ایک ممتاز خاندان سے تھے: ان کے دادا ذوالفقار خان شاہ عباس اول کے دور میں شروان کے بےگلر بےگی تھے، اور والد ذوالفقار خان قرمانلو جہانگیر کے آخری دور میں ہندوستان آئے 1۔

    طویل وزارت

    اسد خان 1654ء میں شاہی خدمت میں داخل ہوئے، 1670ء تک دوسرے بخشی رہے اور 1676ء تک وزیر کے نائب، جب خود وزیر بنے 1۔ 1680ء کی دہائی سے انھوں نے بیٹے ذوالفقار خان کے ساتھ اورنگزیب کے امرا کے دو حریف گروہوں میں سے ایک کی قیادت کی 1۔ دکن میں انھوں نے بیٹے کے جنجی محاصرے کے لیے رسد کی راہیں محفوظ کیں، اور 1691ء میں انھوں نے اور ذوالفقار خان نے شہزادہ کام بخش کو دشمن سے بلا اجازت مذاکرات پر گرفتار کیا — ایک اقدام جس پر اورنگزیب نے انھیں ہٹانے کی دھمکی دی مگر کبھی عمل نہ کیا 1۔

    اورنگزیب کے بعد

    جانشینی کی جنگ میں اسد خان نے اعظم شاہ کا ساتھ دیا اور ہارے؛ بہادر شاہ نے 1707ء میں ان کی وزارت ختم کی مگر انھیں «وکیلِ مطلق» بنا دیا، عہدہ جو شاہ جہاں کے دور سے استعمال نہ ہوا تھا، اور «آصف الدولہ» کا لقب دیا 1 2۔ جہاندر شاہ کے دور میں وہ غیر حاضری میں گجرات کے حاکم بھی رہے؛ جب وہ شہنشاہ 1713ء میں گرا اور ان کے گھر پناہ لی تو اسد خان اور ان کے بیٹے نے اسے فرخ سیر کے حوالے کر دیا، جس نے پھر بھی ذوالفقار خان کو قتل کرا دیا 1۔ اسد خان نے باقی سال گمنامی میں گزارے اور 15 جون 1716ء کو وفات پائی 1 3۔ پڑھی گئی کسی نص نے ان کا مسلک نہیں بتایا — ایک مضمون کے معلوماتی خانے کی درجہ بندی نص نہیں — اس لیے ان کا مسلک نامعلوم درج کیا گیا ہے 2۔

    پیشہ ورانہ سفر

    ان عہدوں کی تاریخیں درج نہیں، اس لیے یہ نیچے الفاظ میں دیے گئے ہیں۔

    • وزیر · ایک اور پیشہ · بغیر تاریخ

    ماخذ

    1. Asad Khan — English Wikipedia
    2. Asad Khan — Arabic Wikipedia
    3. Asad Khan — Wikidata Q115518130
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “اسد خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/asad-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔