مصطفى العدوی

مصطفى العدوي

مصری محدث اور مبلغ، جو 1954 میں محافظہ الدقہلیہ کے گاؤں منیہ سمنود میں پیدا ہوئے۔ وہ 1977 میں مکینیکل انجینئر بنے، پھر یمن گئے اور دماج میں شیخ مقبل بن ہادی الوادعی سے علمِ حدیث پڑھا۔ واپس آ کر انہوں نے اپنے گاؤں میں مسجد، شرعی مدرسہ اور لائبریری قائم کی، اور حدیث، تفسیر اور فقہ پر بہت سی کتابیں لکھیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · واعظ · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    مصطفى بن العدوی بن احمد شلبایہ، جن کی کنیت ابو عبداللہ ہے، مصری محدث اور مبلغ ہیں، جو 1954 (1374ھ) میں محافظہ الدقہلیہ کے گاؤں منیہ سمنود میں پیدا ہوئے۔ وہ 1977 میں جامعہ المنصورہ کے کلیۂ انجینئرنگ سے مکینیکل انجینئرنگ میں فارغ ہوئے، پھر یمن گئے اور دماج میں شیخ مقبل بن ہادی الوادعی سے علمِ حدیث پڑھا۔ واپس آ کر انہوں نے اپنے گاؤں میں مسجد، شرعی مدرسہ اور بڑی لائبریری قائم کی، اور حدیث، تفسیر اور فقہ پر بہت سی کتابیں لکھیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ منیہ سمنود میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ثانوی اسکول کے زمانے میں اپنے گاؤں کے شیوخ سے قرآن حفظ کیا، جس کی ابتدا وہاں کے کُتّاب سے ہوئی تھی، اور محافظے کے اسکولوں سے ثانوی تک تعلیم حاصل کر کے کلیۂ انجینئرنگ کے شعبۂ مکینکس میں داخل ہوئے اور 1977 میں فارغ ہوئے۔ 1

    ان کے سنِ ولادت پر ماخذ میں اختلاف ہے: ان کی سرکاری ویب سائٹ، عربی ویکیپیڈیا اور وکی ڈیٹا 1954 دیتے ہیں جو 1374ھ کے مطابق ہے، جبکہ ان کی کتابوں کے ساتھ چھپا تعارف، جیسا کہ مکتبہ الشاملہ نقل کرتا ہے، 1945 دیتا ہے۔ یہ ریکارڈ 1954 لیتا ہے کیونکہ ان کی اپنی ویب سائٹ اور انسائیکلوپیڈیا اسی پر متفق ہیں، اختلاف کی نشاندہی کے ساتھ۔ 2 3 4

    یمن میں طلبِ علم

    فارغ ہونے کے بعد وہ یمن گئے اور دار الحدیث دماج میں شیخ مقبل بن ہادی الوادعی سے پڑھا۔ عربی مضمون کے مطابق انہوں نے 1400 سے 1404ھ کے درمیان ان کے دروس میں شرکت کی؛ ان کی سرکاری ویب سائٹ کہتی ہے کہ انہوں نے ان سے سات برس علمِ حدیث حاصل کیا۔ 1 2

    ان کی ویب سائٹ مزید کہتی ہے کہ انہوں نے طلب کا آغاز شیخ عبدالعزیز بن باز سے کیا، جنہوں نے اپنی مصروفیت کی وجہ سے انہیں حدیث کے تین ماہرین کی طرف رہنمائی کی، اور یہ کہ شیخ ناصر الدین الالبانی منہج میں ان کے سب سے قریب تھے مگر ان تک پہنچنا ممکن نہ ہوا۔ 2

    واپسی اور تدریس

    وہ مصر واپس آئے، اپنے گاؤں میں چھوٹی مسجد بنائی اور صحیح بخاری و صحیح مسلم، تفسیر اور فقہ پڑھانا شروع کیا۔ طلبہ کی تعداد بڑھنے پر، جو مصر کے اندر اور باہر سے آتے تھے، انہوں نے بڑی لائبریری والی بڑی مسجد اور شرعی علوم و حدیث کی تعلیم کے لیے مدرسہ بنایا۔ وہ کئی مصری محافظات میں ہفتہ وار دروس دیتے ہیں، اور ان کے دروس و فتاویٰ ان کی سرکاری ویب سائٹ، سیٹلائٹ چینلوں اور انٹرنیٹ پلیٹ فارمز سے نشر ہوتے ہیں۔ 1 2 4

    منصوبے

    ان کے سب سے بڑے علمی منصوبوں میں قرآن کا سوال و جواب کی صورت میں تفسیر ہے، «التسهيل لتأويل التنزيل»، جس کی تقریباً چودہ جلدیں شائع ہو چکی ہیں، اس کا تین جلدوں میں اختصار اور ایک جلد میں مزید اختصار «تسهيل التسهيل» ہے۔ 1 4

    انہوں نے اپنے گاؤں میں ایک بڑی علمی لائبریری اور شرعی مدرسہ قائم کیا جہاں طلبہ علم حاصل کرنے آتے ہیں۔ 2

    آرا اور تنقید

    یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مختلف مواقف پیش کرتا ہے۔ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔

    ان کا رجحان اور مقام۔ مصری خبری رپورٹیں انہیں «سلفی مبلغ» کہتی ہیں، اور مصر کی علمی سلفیت پر جامعی مطالعات انہیں اس کے معروف شیوخ میں شمار کرتے ہیں؛ وہ اس دھارے کی نمایاں شخصیت مقبل الوادعی کے شاگرد ہیں۔ مصری عربی ویکیپیڈیا ان کا عقیدہ «سنی مسلم» دیتی ہے، جبکہ عربی ویکیپیڈیا اور وکی ڈیٹا صرف «اسلام» دیتے ہیں؛ اس لیے عجائب گھر ہر ماخذ کی بات درج کرتا ہے اور عقیدے کے خانے میں انہیں کوئی مکتب نہیں دیتا۔ 5 6 1

    2025 کی شکایت اور امنِ ریاست کی پراسیکیوشن کو حوالگی۔ جون 2025 میں اٹارنی جنرل نے وکیل ہانی سامح کی شکایت سپریم اسٹیٹ سکیورٹی پراسیکیوشن کو بھیجی۔ القاہرہ 24 کی رپورٹ کے مطابق شکایت میں العدوی پر الزام تھا کہ انہوں نے 15 مئی 2025 کو فیس بک پر شائع ایک ویڈیو میں، ٹرمپ کے خلیجی دورے کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دھمکی دی، انہیں «اسلام قبول کرو تو محفوظ رہو گے» کہہ کر موت کی تنبیہ کی؛ شکایت میں ان پر اشتعال انگیزی، بغیر اجازت دعوتی سرگرمی، اور «علماء کی شوریٰ کونسل» سمیت تنظیمیں بنانے کا الزام بھی تھا۔ یہ ایک شکایت کے الزامات ہیں، جو ان کے ماخذ سے منسوب کر کے پیش کیے گئے ہیں؛ یہ عدالتی فیصلے نہیں ہیں۔ 5

    نومبر 2025 کی گرفتاری۔ پیر 3 نومبر 2025 کو الدقہلیہ کی سکیورٹی نے العدوی کو ایک ویڈیو پر گرفتار کیا جس میں انہوں نے عظیم مصری عجائب گھر کے افتتاح پر بات کرتے ہوئے وہاں جمع آثار کو «فرعونوں کے بت» کہا تھا اور اس میں داخلے کو «نصیحت کے لیے، فخر کے لیے نہیں» قرار دیا تھا۔ انہیں المنصورہ کے عدالتی مجمع میں پراسیکیوشن کے سامنے پیش کیا گیا اور اسی شام ان کا بیان سننے کے بعد دس ہزار مصری پاؤنڈ کی ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ ان کے وکیل خالد المصری نے کہا کہ انہوں نے کسی توہین کی نیت کی تردید کی اور ریاست کی علامتوں اور آثارِ قدیمہ کے احترام کی تصدیق کی۔ یہ خبر RT عربی اور اليوم السابع سمیت دیگر نے نقل کی۔ 7

    کتابیں

    انہوں نے فقہ، حدیث، مصطلحِ حدیث اور تفسیر پر کتابیں لکھیں۔ ماخذ ان میں یہ درج کرتے ہیں: «التسهيل لتأويل التنزيل» (سوال و جواب میں تفسیر)، «تفسير الربانيين لعموم المؤمنين»، «النور الساري في شرح صحيح البخاري»، «الجامع العام في الفقه والأحكام»، پانچ جلدوں میں «الجامع لأحكام النساء»، «الصحيح المسند من الأحاديث القدسية»، «الصحيح المسند من أذكار اليوم والليلة»، «الصحيح المسند من فضائل الصحابة»، «البيان في معاني كلمات القرآن»، «روضة المحبين في فضائل صحابة النبي الأمين»، «فقه التعامل مع الوالدين»، «ردود على شبهات حول الإسلام»، «تهذيب شرح العقيدة الطحاوية»، «الجليس الصالح وجليس السوء» اور «قبس مختار من صحيح الأذكار»۔ 1 4

    ان کی تحقیق شدہ کتب میں شامل ہیں: عبد بن حمید کی «المنتخب»، ابن تیمیہ کی «الفرقان بين أولياء الرحمن وأولياء الشيطان»، ابن القیم کی «الوابل الصيب»، ابن ابی العز کی «شرح العقيدة الطحاوية» اور ابن کثیر کی «تفسير القرآن العظيم»۔ 1

    اثر و سامعین

    ان کا سرکاری دروس چینل یوٹیوب پر @mostafaaladwy کے نام سے شائع ہے اور ان کی اپنی ویڈیوز میں اسے ان کا سرکاری چینل قرار دیا گیا ہے؛ اس کی تصدیق 25 اکتوبر 2026 کو جانچی گئی چینل فہرست میں ہوئی۔ 8

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. مصطفى العدوي — ويكيبيديا العربية
    2. مصطفى العدوي — السيرة في موقعه الرسمي
    3. مصطفى العدوي — ويكيداتا Q12243353
    4. مصطفى العدوي — المكتبة الشاملة
    5. القاهرة 24 — بلاغ ضد مصطفى العدوي 2025
    6. مصطفى العدوي — ويكيبيديا المصرية
    7. روسيا اليوم — توقيف مصطفى العدوي وإخلاء سبيله 2025
    8. Mostafa al-Adwy — official YouTube channel (@mostafaaladwy)
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “مصطفى العدوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mostafa-al-adwy/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔