منی الطحاوی

منى الطحاوي

مصری امریکی صحافی اور نسوانی مصنفہ، 1967 میں پورٹ سعید میں پیدا ہوئیں۔ انھوں نے قاہرہ اور یروشلم میں رائٹرز کی نمائندہ کے طور پر کام کیا اور دنیا بھر کے اخبارات میں لکھا، اور 2000 میں امریکہ منتقل ہوئیں۔ نومبر 2011 میں تحریر اسکوائر کے احتجاج کی کوریج کے دوران مصری فسادی پولیس نے انھیں مارا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ان کی کتابوں میں «حجاب اور پردۂ بکارت» (2015) اور «عورتوں اور لڑکیوں کے لیے سات ضروری گناہ» (2019) شامل ہیں، اور وہ #MosqueMeToo تحریک کی بانیوں میں سے ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
صحافی · writer · activist
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    منی الطحاوی (پیدائش 1 اگست 1967) مصری امریکی صحافی اور رائے نویس ہیں، نیویارک میں مقیم، جو مصر اور اسلامی دنیا پر لکھتی ہیں، بشمول عورتوں کے حقوق، پدرسری نظام اور مسلم سیاسی و سماجی امور۔ 1 ان کی پہلی کتاب «حجاب اور پردۂ بکارت» مئی 2015 میں شائع ہوئی، اور وہ #MosqueMeToo تحریک کی بانیوں میں سے ہیں۔ 1

    ابتدائی زندگی

    الطحاوی 1 اگست 1967 کو مصر کے پورٹ سعید میں پیدا ہوئیں۔ 1 2 ان کا خاندان سات برس کی عمر میں برطانیہ اور پندرہ برس کی عمر میں سعودی عرب منتقل ہوا۔ 1 انھوں نے 1990 میں قاہرہ کی امریکن یونیورسٹی سے گریجویشن اور 1992 میں صحافت میں ماسٹرز کیا۔ 1

    صحافت

    وہ نوے کی دہائی بھر صحافی رہیں، قاہرہ اور یروشلم میں رائٹرز کی نمائندہ رہیں، اور گارڈین، واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز میں لکھا۔ 1 وہ 2000 میں امریکہ منتقل ہوئیں اور 2011 میں امریکی شہریت ملی۔ 1 نومبر 2011 میں تحریر اسکوائر کے احتجاج کی کوریج پر گرفتار ہو کر انھیں مارا پیٹا گیا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اور ان کا بایاں بازو اور دایاں ہاتھ ٹوٹ گیا۔ 1

    کتابیں اور آراء

    ان کی کتاب «حجاب اور پردۂ بکارت: مشرقِ وسطیٰ کو جنسی انقلاب کیوں درکار ہے» 21 اپریل 2015 کو شائع ہوئی اور دوسری کتاب «عورتوں اور لڑکیوں کے لیے سات ضروری گناہ» ستمبر 2019 میں آئی۔ 1 انھوں نے حسنی مبارک کی حکومت اور مصر کی اخوان المسلمین دونوں پر تنقید کی، اور 2011 کے ایک انٹرویو میں خود کو «سیکولر، انقلابی نسوانی مسلمان» کہا؛ عربی مضمون بھی یہی عمومی خود شناسی درج کرتا ہے اور اس کے معلوماتی خانے میں مذہب صرف «مسلمان» لکھتا ہے۔ 1 2 یہ عمومی شناخت کوئی مکتب نام نہیں لیتی، اس لیے ان کے سجل میں ان کا عقیدہ نامعلوم رہتا ہے۔ 1 2

    اعزازات

    ان کے اعزازات میں «مسلم لیڈر آف ٹومارو» (2005)، سمیر قصیر ایوارڈ برائے آزادیِ صحافت (2009) اور اینا لنڈ فاؤنڈیشن کا خصوصی انعام (2010) شامل ہیں۔ 1

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترامیم مؤرخہ ہونی چاہئیں اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام دینا چاہیے۔

    ماخذ

    1. Mona Eltahawy — English Wikipedia
    2. Mona Eltahawy — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “منی الطحاوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mona-eltahawy/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔