محمد شہاب الدین

محمد شهاب الدين

بنگلہ دیشی منصف اور سیاست دان (پیدائش 10 دسمبر 1949ء)، ضلعی جج اور 2011ء سے 2016ء تک انسدادِ بدعنوانی کمیشن کے کمشنر رہے، پھر 24 اپریل 2023ء سے 24 جولائی 2026ء کو صحت کی وجوہات سے مستعفی ہونے تک بنگلہ دیش کے صدر رہے۔ وہ واحد صدر ہیں جن کے عہد میں تین یکے بعد دیگرے حکومتوں نے حلف اٹھایا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
فقیہ · سیاست دان
خطہ
south-asia
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد شہاب الدین (پیدائش 10 دسمبر 1949ء)، جو اپنے لقب «چپو» سے بھی جانے جاتے ہیں، بنگلہ دیشی سیاست دان، سابق منصف اور صحافی ہیں جو 24 اپریل 2023ء سے 24 جولائی 2026ء کو صحت کی وجوہات سے مستعفی ہونے تک بنگلہ دیش کے صدر رہے۔ وہ واحد صدر ہیں جن کے عہد میں تین یکے بعد دیگرے حکومتوں نے حلف اٹھایا۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    شہاب الدین شیورام پور، ضلع پبنا (اس وقت مشرقی بنگال، ڈومینین پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے پبنا میں تعلیم حاصل کی، 1974ء میں راجشاہی یونیورسٹی سے نفسیات میں ماسٹرز اور 1975ء میں شہید امین الدین لا کالج سے ایل ایل بی کیا۔ 1

    صدارت سے پہلے کا پیشہ

    وہ پبنا میں عوامی لیگ کے طلبہ اور نوجوان ونگز کے رہنما رہے، جنگِ آزادی میں لڑے اور 1975ء میں شیخ مجیب الرحمن کے قتل کے بعد تین سال قید رہے۔ 1980ء سے 1982ء تک «ڈیلی بانگلار بانی» میں صحافی رہے، پھر عدالتی کیڈر میں شامل ہو کر ضلعی اور سیشن جج بنے۔ 2011ء سے 2016ء تک انسدادِ بدعنوانی کمیشن کے کمشنر رہے، اور 2017ء سے 2023ء تک اسلامی بینک بنگلہ دیش لمیٹڈ کے آزاد ڈائریکٹر رہے۔ 1

    صدارت اور استعفا

    عوامی لیگ کے نامزد امیدوار کے طور پر وہ 2023ء کے صدارتی انتخاب میں واحد امیدوار تھے اور 24 اپریل 2023ء کو حلف اٹھایا۔ 5 اگست 2024ء کو وزیر اعظم شیخ حسینہ کے استعفے کے بعد انھوں نے پارلیمنٹ تحلیل کی، خالدہ ضیا کی رہائی کا حکم دیا اور 8 اگست کو محمد یونس کی عبوری حکومت کا حلف لیا؛ بعد میں حسینہ کے خطِ استعفے کے وجود پر عوامی تنازع چھڑ گیا۔ فروری 2026ء میں انھوں نے طارق رحمان کی کابینہ کا حلف لیا۔ جولائی 2026ء میں خفیہ اداروں کی ان رپورٹس کے بعد — جنھیں انھوں نے جھوٹا قرار دیا — کہ ان کے جلاوطن سابق وزیر اعظم سے خفیہ رابطے رہے، انھوں نے 24 جولائی 2026ء کو بڑھتے سیاسی دباؤ کے تحت صحت کی وجوہات بیان کرتے ہوئے استعفا دے دیا۔ یہ واقعات مقالے کی روایت کے مطابق اور متنازع الزامات کو ان کے قائلین سے منسوب کر کے بیان کیے گئے ہیں۔ 1 2

    ذاتی زندگی

    شہاب الدین کی شادی 1972ء سے ربیکا سلطانہ سے ہے، جو حکومتِ بنگلہ دیش کی سابق جوائنٹ سیکریٹری ہیں؛ ان کا ایک بیٹا ارشد عدنان ہے۔ 2020ء میں پبنا میں ایک پارک ان کے نام پر رکھا گیا۔ 1

    ماخذ

    • اوپر مذکور معرّف مصدر اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مقالے کی ہر نظر ثانی کی تاریخ درج ہونی چاہیے اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کا مصدر نامزد ہونا چاہیے۔

    ماخذ

    1. Mohammed Shahabuddin — English Wikipedia
    2. Mohammed Shahabuddin — French Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد شہاب الدین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mohammed-shahabuddin/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔