ما انلیانگ

ما انليانغ

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

شيآن

ایک چینی مسلمان جنرل (1855ء–1918ء)، ما جان آو کے بڑے بیٹے، اصل نام ما چی وو تھا۔ نوجوانی میں وہ 1872ء میں اپنے والد کی چنگ سے وفاداری کے مذاکرات کے لیے زوو زونگ تانگ کے کیمپ گئے، پھر چنگ اور جمہوریہ کی خدمت کی، اور 1912ء سے 24 نومبر 1918ء کو ہیچو میں وفات تک شمال مغربی چین کے مسلمانوں کے درحقیقت سب سے بڑے قائد رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
جرنیل · سیاست دان
خطہ
china-east-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1830عیسوی1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی1910عیسوی1920عیسوی1930عیسوی1940عیسوی1950عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: عبادی بانو بیگم · أكبر إلهآبادي · علی حاجی اکوشا · احمد بمبا · بدرالدین الحسنی

مکان میں

شيآن

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    ما ان لیانگ (1855ء – 24 نومبر 1918ء) ایک چینی مسلمان جنرل تھے، ما جان آو کے بڑے بیٹے، جن کا پیدائشی نام ما چی وو تھا۔ نوجوانی میں وہ 1872ء میں اپنے والد کی چنگ سے وفاداری کے مذاکرات کے لیے زوو زونگ تانگ کے کیمپ گئے، اور زوو نے ان کا نام بدل کر «ان لیانگ» رکھا، یعنی «پرامن و نیک»۔ پھر انہوں نے چنگ اور اس کے بعد جمہوریۂ چین کی خدمت کی، ترکستان میں یعقوب بیگ کے خلاف اور دونوں دونغان بغاوتوں میں لڑے، 1911ء میں چنگ کے دفاع میں شانشی پر حملہ کیا، اور 1912ء سے وفات تک شمال مغربی چین کے مسلمانوں کے درحقیقت سب سے بڑے قائد رہے۔ وہ 24 نومبر 1918ء کو ہیچو میں انتقال کر گئے۔ 1 2

    چنگ کے دور کی زندگی

    1872ء میں وہ اپنے والد اور ہیچو کے دیگر قائدین کے ساتھ چنگ سے جا ملے، اور زوو زونگ تانگ کی یعقوب بیگ کے ترک مسلمان باغیوں کے خلاف مہم میں مدد کی، چینی مسلمان فوج کی قیادت کرتے ہوئے ترکستان کی فتح نو میں حصہ لیا۔ 1894ء میں پہلی چین-جاپان جنگ کے دوران انہیں بیجنگ کی طرف بلایا گیا، مگر 1895ء کی دونغان بغاوت آڑے آئی: ان کے مسلمان گھڑسواروں نے باغیوں کو آکس ہارٹ پہاڑ پر شکست دی اور 4 دسمبر کو ہیچو کا محاصرہ اٹھوایا، اور انہیں سنجان کے جنرل اور ہیچو کے کرنل کے عہدے ملے۔ 1898ء میں سو روزہ اصلاحات کے دوران وہ دونگ فو شیانگ کے ساتھ دوبارہ بیجنگ بلائے گئے اور اصلاحاتی تحریک ختم کرنے میں مدد دی؛ 1900ء میں ہیچو کے عسکری کمانڈر کی حیثیت سے باکسر بغاوت میں وہ دونگ کے ساتھ غیر ملکیوں کے خلاف لڑے۔ 1905ء میں انہوں نے مجسٹریٹ یانگ زینگ شن کے ساتھ مل کر ایھیوانی قائد ما وان فو کو گرفتار و قتل کرنے کی کوشش کی، جسے ان کے ماتحت ما چی نے چھڑا لیا۔ 1

    جمہوریہ

    جب 1911ء میں شنھائی انقلاب برپا ہوا تو انہوں نے چنگ کے دفاع میں شانشی پر حملے کے لیے ہوئی فوج کی بیس سے زائد بٹالینز کی قیادت کی، اپنے خاندان کے منحوان نیٹ ورک کے ذریعے آدمی بھرتی کیے — چینی مضمون کہتا ہے کہ انہوں نے ہیچو، دی داؤ اور شن ہوا میں «منحوان کے ذریعے منحوان فوجی زبردستی بھرے»۔ تخت شاہی کے خاتمے کے بعد وہ جمہوریہ سے جا ملے اور اپریل 1912ء میں گانسو کے کمانڈر انچیف بنے۔ انہوں نے بائی لانگ بغاوت سے جنگ کی، اور شی داؤ تانگ مسلم تنظیم پر حملہ کر کے اس کے بانی ما چی شی کو 1914ء میں خاندان سمیت گولی مروا دی، کیونکہ انہیں اس کی جمہوریت پسندی پر شک تھا؛ وہ قدامت پسند بادشاہت نواز اور یوان شی کائی کے حامی تھے، جس نے انہیں پہلے درجے کا بیرن بنایا۔ 1917ء میں انہوں نے اپنے بھائی ما گو لیانگ کو اپنے ہی عائد کردہ ٹیکسوں سے بھڑکنے والی شن ہوا کی تبتی بغاوت کچلنے کا حکم دیا، بیجنگ کو اطلاع دیے بغیر، اور سرزنش پائی۔ 1918ء میں لن تاؤ میں ایک منصوبہ بند بغاوت کی سازشوں میں شریک ہو کر پھر پیچھے ہٹ گئے؛ 24 نومبر 1918ء کو ہیچو میں بیماری سے انتقال ہوا۔ ما فو شیانگ نے شمال مغرب کے مسلمانوں کے درحقیقت قائد کے طور پر ان کی جگہ لی۔ 1 2

    شہرت

    معاصرین ان کے بارے میں منقسم رہے۔ چائنا ایئر بک کی روایت درج کرتی ہے کہ انہوں نے اپنے ہم مذہبوں سے لڑنے کی آمادگی سے گانسو میں امن قائم رکھا، اور امریکی نائب قونصل راڈنی گلبرٹ نے اسی پر ان کی تعریف کی؛ انہیں اپنے لوگوں کو فرقہ وارانہ کشمکش اور افیون سے بچانے پر بھی سراہا گیا۔ اس کے مقابل 1895ء اور بعد میں ان کی فوجوں کے قتل عام ہیں، اور یہ قصہ کہ مسلمانوں کے خون نے ان کی لال ٹوپی رنگ دی۔ ماخذ انہیں «رجعت پسند» کہتے ہیں، جہاں ما فو شیانگ «ترقی پسند» سمجھے جاتے تھے۔ 1

    ایمان

    ان کا ایمان «نامعلوم» درج ہے، اور معاملہ نشان زد ہے۔ ایک ہی ماخذی خاندان ان کی کسی سلسلے سے رکنیت بیان کرتا ہے: انگریزی مضمون، ڈیلن (1999ء) کے حوالے سے، بیان کرتا ہے کہ 1872ء میں چنگ سے جا ملنے والے ہیچو قائدین — جن میں ما ان لیانگ اپنے والد کے ساتھ صراحتاً نامزد ہیں — «ہواسی منحوان، خفیہ نقشبندی صوفی سلسلے، سے وابستہ تھے»، اور عربی مضمون، جو انگریزی کا ترجمہ ہے، اسے دہراتا ہے اور اپنے معلوماتی خانے میں انہیں «صوفی مسلمان» کہتا ہے۔ چینی مضمون، ایک آزاد روایت، ان کی رکنیت بیان نہیں کرتا: وہ منحوان نیٹ ورک سے ان کی فوج بھرتی درج کرتا ہے، اور داھجیا میں ان کا مزار گونگ بے ہے، یعنی ایک صوفی مزار۔ والد کی رکنیت، جو دو متنوں سے مستند ہے، بیٹے کو منتقل نہیں ہوتی۔ دو ماخذ کے معیار سے ایک ماخذی خاندان کم ہونے کی وجہ سے ہواسی والی روایت ان کے ریکارڈ کی نوٹ میں غیر حتمی کھڑی ہے۔ 1 2 3

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    ما جان آو
    Traveled to
    شيآن

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ما جان آو· شيآن

    ماخذ

    1. Ma Anliang — English Wikipedia
    2. Ma Anliang — Chinese Wikipedia
    3. Ma Anliang — Wikidata Q9026427
    • Ma Anliang — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ما انلیانگ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ma-anliang/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ما جان آو

    ہیچو کے ایک چینی مسلمان جنرل (1830ء–1886ء)، جوانی میں خفیہ نقشبندیہ کے ہواسی منحوان کے اہونگ (امام)، جنہوں نے دونغان بغاوت میں ہیچو کے باغیوں کی قیادت کی اور پھر 1872ء میں چنگ سے جا ملے — اپنے بیٹے ما ان لیانگ کو مذاکرات کے لیے بھیجا — اور زوو زونگ تانگ کی بغاوت ختم کرنے میں مدد کی، یوں وہ گانسو میں ما خاندان کی عسکری طاقت کے بانی اور جنرل ما ان لیانگ کے والد بنے۔