خلیل السکاکینی

خليل السكاكيني

–

القدس → القاهرة

یروشلم سے تعلق رکھنے والے فلسطینی معلم، مصنف اور شاعر (1878–1953)، عرب دنیا میں جدید تعلیم کے بانیوں میں سے ایک؛ انہوں نے 1909 میں یروشلم میں الدستوریہ اسکول قائم کیا اور وہاں جسمانی سزا پر پابندی لگائی، فلسطین میں آرتھوڈوکس کلیسا کی اصلاح کی تحریک چلائی جس پر انہیں کلیسا سے خارج کیا گیا، اور 1948 میں قاہرہ پناہ لی جہاں ان کا انتقال ہوا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
teacher · عالم · شاعر · writer
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · آغا خان سوم · احمد لطفی سید

مکان میں

القدسالقاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    عیسائی (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    خلیل السکاکینی (23 جنوری 1878 – 13 اگست 1953) یروشلم سے تعلق رکھنے والے فلسطینی معلم، ادیب، شاعر اور عرب قوم پرست تھے، اور عرب دنیا میں جدید تعلیم کے بانیوں میں سے ایک۔ انہوں نے 1909 میں یروشلم میں الدستوریہ اسکول قائم کیا جہاں جسمانی سزا پر پابندی لگائی اور عربی کو ترکی کی جگہ ذریعۂ تعلیم بنایا، اور یروشلم کے آرتھوڈوکس کلیسا کی اصلاح کی تحریک چلائی جس پر کلیسا نے انہیں خارج کر دیا۔ 1948 میں وہ قاہرہ چلے گئے جہاں ان کا انتقال ہوا۔ 1 2

    تعلیم اور امریکہ

    انہوں نے یروشلم میں یونانی آرتھوڈوکس اسکول، اینگلیکن مشنری سوسائٹی کالج اور صہیون انگلش کالج میں تعلیم پائی جہاں ادب پڑھا۔ پھر برطانیہ اور وہاں سے امریکہ گئے تاکہ فلاڈیلفیا میں اپنے بھائی یوسف کے پاس رہیں؛ امریکہ میں نو مہینوں کے دوران انہوں نے عربی ادبی رسالوں میں لکھا، کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر رچرڈ گوٹ ہائل کے لیے ترجمے کیے، عربی پڑھائی، اور مین کی ایک فیکٹری میں کام کیا اور خوانچہ فروشی بھی کی۔ 1908 میں واپسی پر انہوں نے یروشلم کے رسالے «الأصمعي» میں صحافت کی، صلاحیہ اسکول میں عربی پڑھائی اور امریکن کالونی میں نجی دروس دیے۔ 1

    الدستوریہ اسکول اور تعلیمی خدمات

    1909 میں انہوں نے الدستوریہ یعنی نیشنل اسکول قائم کیا، جو خطے کے ان اولین اسکولوں میں سے تھا جنہوں نے جسمانی سزا ممنوع قرار دی، اور عربی پڑھانے کے نئے طریقے متعارف کرائے۔ ان کے شاگرد واصف الجوہریہ نے ان کے اسلوب کی تعریف کی کہ وہ قواعد رٹانے کے بجائے حکایات سے پڑھاتے اور طلبہ میں وطنیت اور مردانگی پیدا کرتے تھے۔ 1919 میں وہ فلسطین کی تعلیمی انتظامیہ سے وابستہ ہوئے اور یروشلم کے اساتذہ کالج کے سربراہ بنے؛ پھر بارہ سال تعلیم کے انسپکٹر رہے حتیٰ کہ یہودی ہربرٹ سیمیول کی ہائی کمشنر تقرری کے احتجاج میں مستعفی ہو گئے۔ انہوں نے 1925 میں الوطنیہ اسکول اور 1938 میں یروشلم میں نہضہ کالج قائم کیا۔ 1

    کلیسا کی اصلاح، قید اور بغاوت

    انہوں نے یروشلم کے یونانی آرتھوڈوکس پیٹریارکیٹ کو بدعنوان سمجھ کر اس کی اصلاح اور عرب رنگ دینے کی تحریک چلائی؛ ان کا 1913 کا رسالہ «النهضة الأرثوذكسية في فلسطين» (فلسطین میں آرتھوڈوکس احیا) ان کے کلیسا سے اخراج کا سبب بنا۔ 1917 میں یروشلم میں عثمانی حکومت کے آخری دن انہیں پولش نژاد امریکی یہودی آلٹر لیوائن کو پناہ دینے پر گرفتار کیا گیا اور دونوں کو دمشق میں قید رکھا گیا؛ رہائی کے بعد وہ عرب بغاوت میں شامل ہوئے اور اس کا ترانہ لکھا۔ ان کی اہلیہ سلطانہ کا اکتوبر 1939 میں انتقال ہوا اور وہ جبلِ صہیون کے یونانی آرتھوڈوکس قبرستان میں دفن ہوئیں؛ انہوں نے ان کے مرثیے لکھے۔ 1

    قاہرہ اور وفات

    1948 کی جنگ میں السکاکینی خاندان قطمون محلہ چھوڑنے والے آخری خاندانوں میں سے تھا؛ شہر کی تقسیم سے چند دن پہلے وہ قاہرہ چلا گیا، جہاں طہ حسین نے انہیں عربی زبان اکیڈمی کی رکنیت کے لیے نامزد کیا۔ 1953 میں ان کے بیٹے ساری کی اچانک وفات، انتالیس برس کی عمر میں، ان کے لیے گہرا صدمہ ثابت ہوئی، اور وہ تین ماہ بعد 13 اگست 1953 کو انتقال کر گئے۔ ان کی بیٹیاں دُمیہ اور ہالہ بعد میں رام اللہ میں رہیں؛ ہالہ نے ان کی ڈائریاں مرتب کر کے 1955 میں شائع کیں اور اپنی یادداشتیں لکھیں، اور رام اللہ کا خلیل السکاکینی ثقافتی مرکز آج ان کی ڈائریوں کی تدوین و اشاعت کرتا ہے جو 1907 سے 1952 تک پھیلی ہیں۔ 1 3

    ان کے مذہب پر نوٹ

    عربی مضمون اپنی ابتدا ہی میں انہیں ذاتی طور پر نام لیتا ہے: یروشلم کے فلسطینی معلم، «مسیحی» اور عرب قوم پرست۔ انگریزی مضمون کہتا ہے کہ وہ ایک فلسطینی مسیحی آرتھوڈوکس خاندان میں پیدا ہوئے — یہ خاندانی تأطیر ہے — اور اسی کلیسا کے اندر ان کے ذاتی اعمال بھی درج کرتا ہے: یروشلم کے یونانی آرتھوڈوکس کلیسا کی اصلاح کی قیادت، 1913 کا رسالہ «النهضة الأرثوذكسية»، آرتھوڈوکس برادرہڈ سوسائٹی کی بنیاد، اور اسی کلیسا کی طرف سے ان کا اخراج — اور اخراج ایک ایسی سزا ہے جو رکن پر ذاتی طور پر عائد ہوتی ہے۔ چونکہ دو آزاد متون اس طرح ذاتی طور پر ان کی گواہی دیتے ہیں، اس لیے ان کا مذہب ان کے ریکارڈ میں «مسیحی» درج کیا گیا ہے، یعقوب آرتین کے لیے طے شدہ اصول کے مطابق؛ دونوں متون انہیں یروشلم کے آرتھوڈوکس کلیسا میں رکھتے ہیں اور کوئی الگ فرقہ درج نہیں کیا گیا۔ 1 2 3

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    القدس
    Lived in
    القاهرة
    Died in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ایڈورڈ سعید· صلاح الدين: فاتح القدس· المسجد الأقصى· الجامع الأزهر· الحرم القدسي الشريف· دار الحكمة بالقاهرة· قبة الصخرة· مسجد عمر

    ماخذ

    1. Khalil Sakakini — English Wikipedia
    2. Khalil Sakakini — Arabic Wikipedia
    3. Khalil Sakakini — Wikidata Q2777797
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “خلیل السکاکینی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/khalil-sakakini/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ایڈورڈ سعید

    فلسطینی نژاد امریکی ادبی نقاد اور دانشور، جو 1935 میں یروشلم کے ایک پروٹسٹنٹ مسیحی گھرانے میں پیدا ہوئے؛ کولمبیا یونیورسٹی میں چار دہائیوں تک انگریزی و تقابلی ادب پڑھایا، «استشراق» (1978) سے مابعد نوآبادیاتی مطالعات کی بنیاد رکھی اور دنیا بھر میں فلسطینی حقوق کی وکالت کی؛ 2003 میں نیویارک میں وفات پائی۔ وہ اس میوزیم میں عالمِ اسلام کے ایک بڑے فلسطینی مفکر کے طور پر شامل ہیں — مسلمان کے طور پر نہیں۔