قیس سعید

قيس سعيد

تونس

قیس سعید (پیدائش 1958ء) تیونس کے آئینی فقیہ اور سیاست دان ہیں جنہوں نے جامعہ تیونس میں آئینی قانون پڑھایا اور تیونسی ایسوسی ایشن برائے آئینی قانون کی صدارت کی۔ انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر 2019ء کا صدارتی انتخاب جیتا اور 23 اکتوبر 2019ء کو تیونس کے صدر بنے؛ جولائی 2021ء میں انہوں نے پارلیمنٹ معطل کر دی اور فرمانوں کے ذریعے حکومت کی، 2022ء کا آئین منظور کرایا اور 2024ء میں دوبارہ منتخب ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · فقیہ
خطہ
maghreb
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

مکان میں

تونس

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    قیس سعید (پیدائش 22 فروری 1958ء) تیونس کے فقیہ اور سیاست دان ہیں جو 23 اکتوبر 2019ء سے تیونس کے صدر ہیں۔ وہ آئینی قانون کے ریٹائرڈ پروفیسر ہیں، آزاد امیدوار کے طور پر صدر منتخب ہوئے، اور اکتوبر 2024ء میں دوسری مدت کے لیے دوبارہ منتخب ہوئے۔ اردو مضمون مختصر ہے، اس لیے بعض تفصیلات انگریزی اور عربی مضامین سے لی گئی ہیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیمی کیریئر

    وہ 22 فروری 1958ء کو تیونس شہر میں پیدا ہوئے؛ ان کے والدین منصف سعید اور زکیہ بلاغہ کا تعلق بنی خیار سے تھا، اور ان کے چچا ہشام تیونس کے پہلے ماہرِ جراحتِ اطفال تھے۔ انہوں نے صادقی کالج سے ثانوی تعلیم مکمل کی اور جامعہ تیونس سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ وہ جامعہ میں آئینی قانون پڑھاتے رہے اور 1995ء سے 2019ء تک تیونسی ایسوسی ایشن برائے آئینی قانون کے صدر رہے۔ 2 1

    صدر منتخب ہونا

    انہوں نے 2019ء کے صدارتی انتخاب میں آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لیا۔ انگریزی مضمون درج کرتا ہے کہ انہیں اسلام پسندوں اور بائیں بازو دونوں کی حمایت حاصل تھی، تحریک النہضہ نے ان کی حمایت کی، اور سماجی طور پر قدامت پسند مواقف کے باوجود انہوں نے خود کو اسلام پسند قرار نہیں دیا اور ان کے مشیر سیاسی میدان کے ہر رنگ سے تھے۔ وہ انتخاب جیت کر 23 اکتوبر 2019ء کو قائم مقام صدر محمد الناصر کے جانشین بنے، جو اسی سال جولائی میں السبسی کی وفات کے بعد سے عہدہ سنبھالے ہوئے تھے۔ کوئی مصدر سعید کے لیے کوئی مذہب یا ذاتی مذہبی وابستگی نامزد نہیں کرتا: عربی مضمون کے خانہ معلومات اور ویکی ڈیٹا میں ان کا دین عمومی طور پر ”اسلام“ ہے، اور اردو مضمون کے زمرے انہیں عمومی طور پر ”تونسی مسلم“ میں فائل کرتے ہیں۔ 2 3 4

    دورِ صدارت

    جنوری 2021ء میں پولیس کے مبینہ تشدد، معاشی مشکلات اور کووڈ-19 وبا کے خلاف احتجاج شروع ہوا۔ 25 جولائی 2021ء کو سعید نے پارلیمنٹ اور وزیر اعظم ہشام المشیشی کو برطرف کر دیا، جسے انگریزی مضمون اپنے مصادر کی نسبت سے ایک کامیاب خود بغاوت کہتا ہے۔ پھر ان کے دور میں عدلیہ کی برطرفی اور نمایاں اپوزیشن شخصیات کی گرفتاریاں ہوئیں، وہ فرمانوں کے ذریعے حکومت کرتے رہے، اور 2022ء میں ایک آئینی ریفرنڈم منظور ہوا جس نے صدارت کو مزید اختیارات دیے، جس کے بعد قبل از وقت پارلیمانی انتخابات ہوئے۔ اکتوبر 2024ء میں وہ دوسری مدت کے لیے دوبارہ صدر منتخب ہوئے۔ عجائب گھر یہ توصیفات ان کے مصادر کی نسبت سے پیش کرتا ہے اور انہیں اپناتا نہیں۔ 2

    مصادر

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف مصادر، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی بعد کی ترمیمات کی تاریخ درج ہونی چاہیے، اور ہر تبدیلی شدہ حقیقت کے مصدر کا نام ہونا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    تونس

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع الزيتونة· دخول خير الدين بربروسة تونس (١٥٣٤م)· استيلاء شارل الخامس على تونس (٩٤٢هـ/١٥٣٥م)· منازلة الفرنسيس تونس· خلع أبي زكريا الحفصي طاعة الموحدين· دخول أبي الحسن المريني إفريقية· استرداد تونس من الإسبان· عبد العزیز ثعالبی

    ماخذ

    1. Kais Saied — Urdu Wikipedia
    2. Kais Saied — English Wikipedia
    3. Kais Saied — Arabic Wikipedia
    4. Kais Saied — Wikidata Q16120878
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “قیس سعید”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/kais-saied/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع الزيتونة

    Draft card for the Zaytuna Mosque of Tunis, the Umayyad-Aghlabid congregational mosque that became the seat of Maliki learning in Ifriqiya; al-Muqaddasi describes it among the city's landmarks, the page not yet checked.