جرجی زیدان

جرجي زيدان

–

القاهرة

لبنانی ناول نگار، صحافی، مدیر اور معلم (1861–1914) جو قاہرہ میں آباد ہوئے، رسالہ «الہلال» (1892) اور دار الہلال کی بنیاد رکھی، اور تئیس تاریخی ناول لکھے جنہوں نے اسلامی و عرب تاریخ کو وسیع قارئین تک پہنچایا۔ نہضہ کے نمایاں مفکر، «تاریخ التمدن الاسلامی» اور «تاریخ آداب اللغۃ العربیہ» کے مصنف اور عرب قومیت کے نظریے کے اولین مرتبین میں سے تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer · novelist · صحافی · teacher
خطہ
levant-iraq · egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبادی بانو بیگم · عبد الحميد الزهراوي · عبد الرزاق البيطار · عبد الرشید ابراہیم · أحمد الحملاوي

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    جرجی حبیب زیدان (14 دسمبر 1861 – 21 جولائی 1914) لبنانی ناول نگار، صحافی، مدیر اور معلم تھے جو قاہرہ میں آباد ہوئے۔ انہوں نے 1892 میں رسالہ «الہلال» جاری کیا اور اسی میں اپنے تئیس تاریخی ناول قسط وار شائع کیے، جن کا مقصد عام عرب قارئین کو ان کی اپنی تاریخ سے دلچسپ انداز میں روشناس کرانا تھا۔ وہ عرب قومیت کے نظریے کے اولین مرتبین میں سے تھے۔ 1 2 3

    ابتدائی زندگی

    وہ بیروت میں ایک غریب مشرقی آرتھوڈکس مسیحی خاندان میں پیدا ہوئے جس کا تعلق جبل لبنان کے گاؤں عین عنب سے تھا اور جس کی اصل حوران سے بتائی جاتی ہے؛ ان کے والد حبیب بیروت میں ایک ہوٹل (مطعم) چلاتے تھے۔ 2 3 وہ ابتدائی تعلیم کے بعد والد کے کاروبار میں لگ گئے، پھر شبینہ مدارس سے خود تعلیم حاصل کی اور 1881 میں شامی پروٹسٹنٹ کالج میں طب کے طالب علم داخل ہوئے۔ 1882 میں کالج کے بحران — جب پروفیسر لوئس کو ڈارون کی تعریف پر برطرف کیا گیا — کے بعد وہ شام چھوڑ کر قاہرہ آنے والے طلبہ میں شامل تھے۔ 2

    قاہرہ میں زندگی

    «المقتطف» میں معاون مدیر کے بعد انہوں نے تاریخ پر علمی کتابیں لکھیں: «تاریخ الماسونیۃ العام» (1889) اور «التاریخ العام» (1890) جو عربی میں لکھی گئی اولین غیر اسلامی تاریخوں میں ہے۔ انہوں نے عربی پڑھائی، دار الہلال ناشر ادارہ قائم کیا اور 1891 میں پہلا تاریخی ناول «المملوک الشارید» شائع کیا۔ 1892 میں «الہلال» کا اجرا کیا اور وفات تک اس کے مدیر رہے۔ 2 1

    تاریخی ناول اور تواریخ

    ہر ناول کسی اسلامی تاریخی واقعے پر دستیاب مصادر سے بنے ہوئے خاکے پر قائم ہوتا تھا، جس میں حوالے، حواشی اور تاریخی و جغرافیائی تمہیدی ابواب شامل ہوتے۔ ان کی علمی کتابوں میں «تاریخ التمدن الاسلامی» (1901–1906، پانچ جلدیں) اور «تاریخ آداب اللغۃ العربیہ» نمایاں ہیں۔ 2 3

    وفات

    1910 میں نئی مصری یونیورسٹی نے انہیں اسلامی تاریخ کی پروفیسری پیش کی، لیکن مسلم عوام کے احتجاج — جنہیں ان کی مسیحی اصل اور سیکولر رجحانات پر اعتراض تھا — کے باعث وہ عہدہ سنبھال نہ سکے۔ یہ تجربہ ان کے لیے تلخ رہا حتٰی کہ 21 جولائی 1914 کو قاہرہ میں اچانک انتقال کر گئے۔ 2 3

    مذہب کے بارے میں نوٹ

    مصادر ان کی ذاتی عقیدے کے بجائے ان کی پس منظر بیان کرتے ہیں: انگریزی مقالہ انہیں مشرقی آرتھوڈکس مسیحی خاندان میں پیدا شدہ کہتا ہے، عربی مقالہ غریب مسیحی خاندان کا ذکر کرتا ہے، اور ویکی ڈیٹا میں ان کی ایک ہی مذہبی قدر مشرقی آرتھوڈکس درج ہے۔ صرف خاندانی پس منظر ذاتی وابستگی کو ثابت نہیں کرتا، اس لیے عجائب گھر نے ان کا مذہب «نامعلوم» درج کیا ہے اور ثبوت ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں محفوظ ہے۔ 2 3 4

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ

    ماخذ

    1. Jurji Zaydan — Urdu Wikipedia
    2. Jurji Zaydan — English Wikipedia
    3. Jurji Zaydan — Arabic Wikipedia
    4. Jurji Zaydan — Wikidata Q1262212
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “جرجی زیدان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/jurji-zaydan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.