ہدی شعراوی

هدى شعراوي

–

القاهرة

مصری نسوانی و قوم پرست رہنما (1879-1947)، مصری نسوانی اتحاد کی بانی اور عمر بھر اس کی صدر، اور عرب نسوانی اتحاد کی بانی شخصیات میں سے ایک؛ منیا میں ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئیں، 1919 کی انقلابی تحریک میں خواتین کے مظاہروں کی قیادت کی، اور 1923 میں روم کانفرنس سے واپسی پر علانیہ نقاب اتارنے سے مشہور ہوئیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
activist · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · آغا خان سوم · احمد لطفی سید

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    ہدی شعراوی (23 جون 1879 – 12 دسمبر 1947) مصر کی نسوانی و قوم پرست رہنما تھیں، مصری نسوانی اتحاد کی بانی اور عمر بھر اس کی صدر رہیں، اور عرب نسوانی اتحاد کی بانی شخصیات میں سے تھیں۔ 1 2

    وہ صوبۂ منیا کے ایک زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئیں؛ ان کے والد محمد سلطان پاشا مصر کی مجلسِ نواب کے پہلے صدر بنے۔ کم عمری میں اپنے چچا زاد اور ولی علی شعراوی سے شادی ہوئی، پھر سات برس کی علیحدگی نے انہیں تعلیم اور خود مختاری کا موقع دیا۔ 3 1

    قومی تحریک اور اتحاد

    1919 کی انقلابی تحریک میں انہوں نے مصر کی خواتین کے مظاہروں کی قیادت کی، اور 1920 میں وفد خواتین کی مرکزی کمیٹی کی پہلی صدر منتخب ہوئیں۔ 1

    1923 میں انہوں نے مصری نسوانی اتحاد قائم کیا؛ یہ اتحاد شادی، طلاق اور بچوں کی پرورش سے متعلق قوانین کی اصلاح اور خواتین کی تعلیم و رائے دہی کا مطالبہ کرتا تھا، اور وہ اپنی وفات تک اس کی صدر رہیں۔ 1 2

    1944 میں انہوں نے عرب خواتین کانگریس بلائی جس نے مردوں کے ساتھ سیاسی مساوات اور طلاق و تعددِ ازواج پر پابندیوں کا مطالبہ کیا۔ 3

    نقاب اتارنا

    شوہر کی وفات (1922) کے بعد انہوں نے روایتی نقاب چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ انگریزی مضمون اور بریٹانیکا کے مطابق 1923 میں روم کی بین الاقوامی خواتین کانفرنس سے واپسی پر انہوں نے قاہرہ کے ریلوے اسٹیشن پر علانیہ نقاب اتارا؛ استقبال کے لیے آئی خواتین پہلے چونکیں، پھر تالیاں بجائیں اور بعض نے اپنے نقاب بھی اتار دیے۔ 1 2

    عربی مضمون یہ واقعہ 1921 کا بتاتا ہے، جب سعد زغلول جلاوطنی سے لوٹے تھے؛ میوزیم نے دونوں روایات درج کی ہیں۔ 3

    وفات اور اثرات

    12 دسمبر 1947 کو قاہرہ میں وہ دل کے دورے سے وفات پا گئیں؛ عربی مضمون کے مطابق وہ بسترِ علالت سے فلسطین پر عرب اتحاد کا بیان لکھ رہی تھیں۔ 3 2

    مصر بھر میں اداروں، اسکولوں اور گلیوں کے نام ان سے منسوب ہیں، اور انہیں مصر کی خواتین کی تحریک کی بانی اور علامت سمجھا جاتا ہے۔ 1

    حوالہ جات

    • انگریزی ویکیپیڈیا کا مضمون (نظرثانی 1372745115)؛ عربی ویکیپیڈیا «هدى شعراوي» (نظرثانی 76664694)؛ اردو ویکیپیڈیا (نظرثانی 11793203)؛ ویکی ڈیٹا Q2423343؛ بریٹانیکا کا مدخل «Huda Sharawi» از جینیفر جعفر۔
    • نقاب اتارنے اور اتحاد کی تاریخِ تأسیس میں ماخذوں کا اختلاف مضمون میں درج ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    القاهرة
    Died in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ

    ماخذ

    1. Huda Sha'arawi — English Wikipedia
    2. Huda Sharawi — Encyclopaedia Britannica
    3. Huda Sha'arawi — Arabic Wikipedia
    • Huda Sha'arawi — Urdu Wikipedia
    • Huda Sha'arawi — Wikidata Q2423343
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ہدی شعراوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/huda-shaarawi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.