ایک نظر میں
- کردار
- film-director · screenwriter · writer
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
ہیفاء المنصور (پیدائش 10 اگست 1974) سعودی فلم ہدایت کار ہیں، جو اپنے ملک کی معروف ترین اور اولین خاتون فلم سازوں میں سے ایک ہیں۔ 1 ان کی پہلی فیچر فلم «وجدہ» (2012) مکمل طور پر سعودی عرب میں فلمائی جانے والی پہلی مکمل فیچر فلم تھی۔ 1 اس ریکارڈ کے لیے پڑھا گیا کوئی ماخذ ذاتی طور پر ان کے لیے کوئی مکتب یا وابستگی نامزد نہیں کرتا، اس لیے ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں ان کا مذہب «نامعلوم» درج ہے۔ 1
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ شاعر اور وکیل عبدالرحمن منصور کے بارہ بچوں میں آٹھویں ہیں اور الاحساء میں پلی بڑھیں۔ 1 ان کا خاندان آزاد خیال اور غیر روایتی تھا: بچوں کو موسیقی، کتابوں، رسائل، ٹیلی ویژن اور فلموں کی اجازت تھی، ایسے وقت میں جب سعودی عرب میں سینما گھروں پر 1983 سے پابندی تھی جو 2018 میں اٹھائی گئی۔ 1 اپنے والد کی حوصلہ افزائی سے انھوں نے قاہرہ کی امریکن یونیورسٹی میں تقابلی ادب پڑھا، ایک تیل کمپنی میں کام کیا اور انگریزی پڑھائی، اور بعد میں سڈنی یونیورسٹی سے فلم اسٹڈیز میں ماسٹرز مکمل کیا۔ 1
پہلی فلمیں
انھوں نے تین مختصر فلموں سے آغاز کیا — «کون؟»، «تلخ سفر» اور «واحد راستہ» — جن میں آخری نے متحدہ عرب امارات اور نیدرلینڈز میں انعامات جیتے — اور دستاویزی فلم «سایوں کے بغیر عورتیں» بنائی، جو خلیجی عرب ریاستوں میں عورتوں کی پوشیدہ زندگیوں پر ہے اور جس نے مسقط فلم فیسٹیول میں بہترین دستاویزی فلم کا گولڈن ڈیگر جیتا۔ 1
وجدہ
«وجدہ»، جسے انھوں نے لکھا اور ہدایت دی، کا پہلا مظاہرہ 2012 کے وینس فلم فیسٹیول میں ہوا؛ یہ ریاض کے مضافات میں رہنے والی ایک دس سالہ بچی کی کہانی ہے جو سبز سائیکل رکھنے اور چلانے کا خواب دیکھتی ہے۔ 1 مردوں اور عورتوں کی علیحدگی کی وجہ سے انھوں نے اس کا بیشتر حصہ ایک چھوٹی وین سے مانیٹر اور واکی ٹاکی کے ذریعے ہدایت دیا۔ 1 روتانا کی پشت پناہی والی یہ فلم بہترین غیر ملکی زبان فلم کے اکیڈمی ایوارڈ کے لیے سعودی عرب کی نامزدگی کے طور پر منتخب ہوئی — پہلی بار سعودی عرب نے کوئی فلم بھیجی تھی۔ 1
پزیرائی اور تنقید
ان کا ارادہ نہیں تھا کہ ان کا کام عورتوں کے مسائل پر مرکوز ہو، لیکن انھیں یہ مسائل اتنے اہم لگے کہ انھیں نظر انداز نہ کیا جا سکے، اور «کون؟» اور «سایوں کے بغیر عورتیں» دونوں عبایا کی رسم سے متعلق ہیں۔ 1 انگریزی مضمون درج کرتا ہے کہ انھیں غیر مذہبی ہونے پر نفرت انگیز خطوط اور تنقید ملی، جس کی وہ تردید کرتی ہیں، اور سعودیوں کی طرف سے ان موضوعات پر بحث کی حوصلہ افزائی پر تعریف بھی ملی جنھیں عموماً ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ 1 یہ تردید کسی وابستگی کا نام نہیں لیتی، اور یہاں یہ ویسے ہی درج ہے جیسا بیان کی گئی، ان کے لیے کوئی مکتب اخذ کیے بغیر۔ 1
بعد کا کام
ان کی «میری شیلی» کا پہلا مظاہرہ 2017 کے ٹورنٹو بین الاقوامی فلم فیسٹیول میں ہوا، اس کے بعد «ہمیشہ خوش» (2018) اور «مثالی امیدوار» (2019) آئیں، جو نئی سعودی فلم کونسل کی حمایت پانے والی پہلی فیچر فلم تھی۔ 1 وہ 2015 میں کان کی «ایک خاص نظر» جیوری میں شامل رہیں اور 2019 میں ڈیووس میں عرب دنیا میں ثقافتی تبدیلی میں قیادت پر کرسٹل ایوارڈ حاصل کیا۔ 1 وہ اپنے شوہر، امریکی سفارت کار بریڈلی نیمن، اور اپنے دو بچوں کے ساتھ کیلیفورنیا میں رہتی ہیں۔ 1
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ ادارے، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخ ہونی چاہیے اور اس ماخذ کا نام دینا چاہیے جس نے ہر واقعہ بدلا۔
تعلقات
- Lived in
- الأحساء
- Directed
- المرشحة المثالية· وجدة
- Wrote the screenplay of
- وجدة
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Haifaa al-Mansour — English Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ہیفاء المنصور”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/haifaa-al-mansour/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.