فاطمہ علیہ توپوز

فاطمة عليّة توبوز

–

إسطنبول

عثمانی ترک ناول نگار و مصنفہ (1862-1936)، مؤرخ و فقیہ احمد جودت پاشا کی بیٹی؛ پانچ ناولوں کے ساتھ ترک ادب اور عالمِ اسلام کی پہلی خاتون ناول نگار تسلیم کی جاتی ہیں۔ آغاز قلمی نام سے ترجمے «میرام» (1889) سے ہوا؛ «محاضرات» (1892) اور «عودی» (1899) لکھیں، اپنے کالموں اور کتاب «نسوانِ اسلام» میں اسلامی روایت کے اندر رہ کر خواتین کے حقوق کی وکالت کی، 1897 میں فلاحی انجمن بنائی اور عثمانی ہلالِ احمر کی پہلی خاتون رکن بنیں۔ 2009 میں ان کی تصویر پچاس لیرے کے نوٹ پر چھپی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
novelist · writer · activist · مترجم
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرشید ابراہیم · اللہ دیا خان · جماعت علی شاہ · لیلیٰ ساز · پیر مہر علی شاہ

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    فاطمہ علیہ توپوز (9 اکتوبر 1862 – 13 جولائی 1936) عثمانی ترک مصنفہ، ناول نگار، مترجمہ اور حقوقِ نسواں کی علم بردار تھیں؛ ادبی حلقے انہیں سلطنتِ عثمانیہ کی پہلی خاتون ناول نگار تسلیم کرتے ہیں۔ 1 2

    وہ مؤرخ و فقیہ احمد جودت پاشا کی بیٹی تھیں؛ ترجمے سے آغاز کیا، صحافی احمد مدحت آفندی نے انہیں اپنی منھ بولی بیٹی قرار دیا، اور وہ تیرہ سال «خواتین کے مخصوص اخبار» میں خواتین کے حقوق پر — خاندانی زندگی اور اسلامی اقدار کے دائرے میں — لکھتی رہیں۔ 2 3

    زندگی

    وہ استنبول میں پیدا ہوئیں؛ رسمی تعلیم نہ پائی مگر بھائی کے اسباق سن کر عربی و فرانسیسی سیکھ لیں۔ والد کی تعیناتیوں کے سبب بچپن حلب، یانینا اور دمشق میں گزرا۔ سترہ برس کی عمر (1879) میں شادی ہوئی اور چار بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ 1 2

    1889 میں انہوں نے جارج اونے کے ناول کا ترجمہ «مرام» کے نام سے «ایک خاتون» کے قلمی نام سے شائع کیا؛ 1891 میں احمد مدحت کے ساتھ مشترکہ ناول «خیال و حقیقت» لکھا، اور 1892 میں «محاضرات» شائع ہوا جو کسی عثمانی خاتون کا پہلا ناول مانا جاتا ہے۔ بعد کے ناولوں میں «رفعت»، «عودی» اور «انین» شامل ہیں۔ 2 1

    ان کی کتاب «نسوانِ اسلام» نے مغربی مصنفین کی مسلم خواتین کے بارے میں غلط تصویر کی تردید کی؛ وہ تعددِ ازواج کی مخالف، طلاق و تعلیم کے حق کی حامی تھیں۔ 1897 میں انہوں نے سپاہیوں کے خاندانوں کی امداد کے لیے خواتین کی انجمن قائم کی، سلطان عبد الحمید ثانی نے انہیں نشانِ شفقت دیا، اور وہ ہلالِ احمر کی پہلی خاتون رکن بنیں۔ 2 1

    آخری ایّام و اثر

    ان کی چھوٹی بیٹی زبیدہ عصمت 1926 میں عیسائی ہو کرراہبہ بن گئی؛ یہ صدمہ ان کی صحت و قلم دونوں پر اثر انداز ہوا۔ 1934 کے قانون کے بعد انہوں نے «توپوز» کا خاندانی نام اختیار کیا اور 13 جولائی 1936 کو استنبول میں وفات پا گئیں۔ 2 1

    2009 سے ان کی تصویر ترکی کے 50 لیرے کے نوٹ پر ہے؛ اس انتخاب پر ادبی حلقوں میں بحث بھی ہوئی۔ 1

    کسی ماخذ نے ان کے لیے کوئی فقہی مذہب بیان نہیں کیا؛ ویکی ڈیٹا صرف اسلام درج کرتا ہے، اس لیے اس ریکارڈ میں ان کا مذہب غیر مصنف رکھا گیا ہے۔ 4

    حوالہ جات

    • انگریزی ویکیپیڈیا (نظرثانی 1371556950)؛ عربی ویکیپیڈیا «فاطمة توبوز» (نظرثانی 76372992)؛ ترکی ویکیپیڈیا (نظرثانی 38220434)؛ اردو ویکیپیڈیا (نظرثانی 11627312)؛ ویکی ڈیٹا Q1136761۔
    • پیدائش کی تاریخ میں اختلاف ہے: 9 اکتوبر 1862 (متبع) بمقابلہ ترکی مضمون کی 22 اکتوبر؛ «خیال و حقیقت» (1891 بمقابلہ 1894) اور «نسوانِ اسلام» (1896 بمقابلہ 1892) کی تاریخوں کا اختلاف بھی مضامین میں درج ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    إسطنبول
    Lived in
    إسطنبول
    Died in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا

    ماخذ

    1. Fatma Aliye Topuz — English Wikipedia
    2. Fatma Aliye Topuz — Turkish Wikipedia
    3. Fatma Aliye Topuz — Arabic Wikipedia
    4. Fatma Aliye Topuz — Wikidata Q1136761
    • Fatma Aliye Topuz — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “فاطمہ علیہ توپوز”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/fatma-aliye-topuz/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع العرب بإسطنبول

    Draft card for Arap Camii (the Arab Mosque) in Galata, Istanbul, the former Latin church converted to a mosque and known for its pier-supported minaret; per the cited architecture survey, the page not yet checked.