فاروق اول

فاروق الأول

–

القاهرة

1936ء سے 1952ء تک مصر و سوڈان کے بادشاہ، خاندانِ محمد علی کے دسویں حکمران اور اس کے آخری سے پہلے بادشاہ۔ سولہ برس کی عمر میں تخت نشین ہوئے؛ حکومتی بدعنوانی اور 1948ء کی شکست سے ان کی ساکھ گھٹی، اور 1952ء میں فری آفیسرز نے انہیں ہٹا دیا۔ وہ اپنے نوزائیدہ بیٹے کے حق میں دست بردار ہوئے اور 1965ء میں روم میں جلا وطنی کے دوران وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود · عبد الجبار الجومرد · عبد الرحمن بدوي

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    موجز

    فاروق اول (11 فروری 1920ء – 18 مارچ 1965ء) خاندانِ محمد علی کے دسویں حکمران اور 1936ء سے 1952ء میں فوجی بغاوت کے ہاتھوں معزولی تک مصر و سوڈان کے بادشاہ تھے۔ وہ ریڈیو پر قوم سے خطاب کرنے والے پہلے مصری حکمران تھے، اسی لیے «محبوب بادشاہ» کہلائے، مگر حکومتی بدعنوانی اور 1948ء کی شکست سے ان کی ساکھ ختم ہوئی۔ 1 2

    نشأة اور تخت نشینی

    وہ قاہرہ کے عابدین محل میں پیدا ہوئے، سلطان فواد اول اور ملکہ نازلی صبری کے بڑے بیٹے تھے۔ زبانیں ان کی تعلیم کا مضبوط پہلو تھیں: عربی، ترکی اور فرانسیسی بولتے تھے اور کلاسیکی عربی پر عبور رکھتے تھے۔ والد کی وفات پر 1936ء میں سولہ برس کی عمر میں بادشاہ بنے؛ 29 جولائی 1937ء کو قاہرہ میں ان کی تاج پوشی ہوئی۔ 1

    معزولی اور وفات

    4 فروری 1942ء کو برطانوی افواج نے عابدین محل کا محاصرہ کرکے انہیں مصطفی النحاس کو وزیرِ اعظم بنانے پر مجبور کیا۔ 23 جولائی 1952ء کو فری آفیسرز نے بغاوت کی اور فاروق اپنے چھ ماہ کے بیٹے احمد فواد کے حق میں دست بردار ہوئے۔ وہ اٹلی چلے گئے، پہلے نیپلز اور پھر روم میں رہے، اور 18 مارچ 1965ء کو روم میں وفات پائی۔ 1

    اثر

    فاروق مصر کے آخری عملی بادشاہ تھے؛ ان کے سقوط کے ساتھ ڈیڑھ صدی پرانا خاندانِ محمد علی ختم ہوا۔ ریڈیو خطابات، تاج پوشی کی تقریبات اور جلا وطنی کی خبروں کے ذریعے وہ عوامی یادداشت کا مستقل حصہ بنے رہے۔ 1

    المراجع

    • اوپر درج شدہ معروف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ

    ماخذ

    1. Farouk of Egypt — English Wikipedia
    2. Farouk of Egypt — Arabic Wikipedia
    • Farouk of Egypt — Wikidata Q213001
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “فاروق اول”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/farouk-of-egypt/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.