ایک نظر میں
- کردار
- emir · جرنیل
- خطہ
- southeast-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
داتو علی (وفات 22 اکتوبر 1905ء) اپنے چچا زاد بھائی داتو اوتو کی وفات 1902ء سے اپنی وفات تک راجا بویان رہے، اور منداناؤ میں امریکی حکومت کی مزاحمت کرنے والے آخری اور سب سے مضبوط مورو سردار تھے۔ پورا نام راجا مودا داتو علی بن سلطان بایاو بن سلطان مائیتوم تھا؛ وہ بویان کے اندر تینونگکوپ کے راجا مودا، سلطان بایاو کے بیٹے اور داتو جیمبانگان اور کودارانگان کے سلطان تامبیلاوان کے بھائی تھے۔ کوئی ماخذ ان کی تاریخِ پیدائش نہیں دیتا؛ ان پر مضمون مئی 2024ء سے صفائی کی تختیاں رکھتا ہے، اور یہاں استعمال شدہ حقائق وہی ہیں جن کی تائید اس کے حوالہ شدہ کام کرتے ہیں۔ 1 2
ہسپانوی دور
1886ء میں داتو علی اور ان کے چچا زاد بھائی داتو اوتو نے ہسپانوی پرچم کی تعظیم سے انکار کیا اور کوتاپاتو میں کسی ہسپانوی کو زندہ نہ چھوڑنے کی قسم کھائی؛ علی نے ہسپانوی قلعہ بوگکاؤن کے قریب قصبہ لیپانتو پر حملہ کر کے چودہ افراد کو قتل کیا اور جگہ لوٹی۔ 1890ء میں ہسپانوی پیش قدمی کے سامنے اوتو کے زوال اور جلاوطنی نے بویان میں خلا پیدا کیا، جسے علی، داتو جیمبانگان اور داتو پیانگ نے پر کیا۔ پیانگ اوتو کے وزیرِ اراضی رہ چکے تھے مگر مضمون کے بیان کے مطابق انہوں نے خود کو سلطانِ منداناؤ قرار دیا؛ جواب میں اوتو نے اپنے جنگجوؤں کی کمان اپنے چچا زاد بھائی علی کے سپرد کی۔ علی نے بولوان اور تالک فتح کیے، تالک کے سلطان کو شکست دی، اور کورونادل اور مگانوئے کے درمیانی علاقے کے سب سے طاقتور قائد بن گئے، بیسویں صدی کے آغاز میں سلطنتِ مگینداناؤ کے سربراہ رہنما، راجا بویان کے لقب کے دعوے دار۔ 1
امریکا سے جنگ
جہاں جیمبانگان اور پیانگ نے امریکی نظام کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، علی نے اعلان کیا کہ وہ اپنی خودمختاری کا ایک ذرہ بھی نہیں چھوڑیں گے اور نہ اپنے غلام آزاد کریں گے، اور اپنے تعاقب کرنے والوں سے انتقام کی قسم کھائی۔ 1903ء سے انہوں نے تقریباً تین ہزار پیروکاروں کے ساتھ کھلی لڑائی اور گوریلا جنگ سے بغاوت کی قیادت کی۔ تنازع کے مرکز میں مورو صوبے کا 1903ء کے آخر کا انسدادِ غلامی قانون تھا: غلامی کے خاتمے نے وادی کا سیاسی و معاشی نظام تباہ کر دیا، اور غلام رکھنے سے علی کے انکار نے بیشتر داتوؤں کو ان کی مزاحمت کے پیچھے متحد کر دیا۔ مارچ 1904ء میں جنرل لیونارڈ ووڈ کی مہم نے ان کا عظیم قلعہ لے کر تباہ کیا، انیس لوہے اور دو کانسی کی توپیں اور پینتالیس لانتاکا قبضے میں لیے؛ مئی 1904ء میں ان کے آدمیوں نے جھیل لیگاسان کے قریب ایک دستے پر گھات لگا کر دو افسر اور تیرہ سے سترہ سپاہی قتل کیے، جسے امریکیوں نے سمپیٹان قتلِ عام کہا۔ ووڈ نے ان کی گرفتاری پر، زندہ یا مردہ، پانچ سو ڈالر انعام رکھا، اور انہیں قتل کرنے کی امریکی کوششیں، خود ان کے بھتیجے کے ذریعے بھی، ناکام رہیں۔ 1
وفات
داتو پیانگ، جو تب تک امریکیوں سے تعاون کر رہے تھے، نے بائیسویں انفنٹری کے کیپٹن فرینک مکائے کو بتایا کہ علی اپنے خاندان کے ساتھ دریائے مالالا کے کنارے پڑاؤ ڈالے ہیں اور ان کے بیشتر آدمی گاؤں بھیج دیے گئے ہیں۔ رضاکاروں کی ایک عارضی کمپنی نے دیگوس سے زبردست مارچ کر کے 22 اکتوبر 1905ء کی صبح سویرے فارم کو گھیر لیا۔ علی اندر بھاگے، ہتھیار اٹھایا اور فائر کیا؛ لیفٹیننٹ ریمنگٹن کے مسدس حملے سے زخمی ہوئے اور پچھلے دروازے سے بھاگتے ہوئے دوسرے دستے کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ ان کی موت کے ساتھ منداناؤ میں بڑے پیمانے کی منظم بغاوت ختم ہو گئی؛ جنرل ووڈ نے گواہی دی کہ وہ «ہم سے ٹکرانے والے سب سے قابل مورو» تھے، اور مضمون اختتام کرتا ہے کہ مگینداناؤ کے مورو چاول کی بوائی یا کٹائی پر جمع ہوتے ہیں تو داتو علی کے گیت گائے جاتے ہیں اور قصے سنائے جاتے ہیں۔ 1
مذہب
ان کا مذہب «نامعلوم» درج ہے اور معاملہ نشان زد ہے۔ سنی قراءت ٹھیک ایک معلوماتی خانے میں موجود ہے — انگریزی مضمون کے۔ ویکی ڈیٹا اسلام عام دیتا ہے، اور مضمون کا متن کوئی مسلک نہیں بتاتا: وہ ان کی جنگوں اور غلام آزاد کرنے سے انکار کو سیاسی و معاشی منطق میں رکھتا ہے، اور مزاحمت کی قیادت وابستگی نہیں ہوتی۔ دو ماخذوں کی حد سے ایک خاندان کم ہونے کی بنا پر سنی قراءت ریکارڈ کے نوٹ میں غیر فیصلہ شدہ کھڑی ہے۔ 1 2
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
- Successor of
- داتو اوتو
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Datu Ali — English Wikipedia
- Datu Ali — Wikidata Q48805464
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “داتو علی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/datu-ali/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.