ایک نظر میں
- کردار
- عالم · mystic · teacher
- خطہ
- west-africa-sahel
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
sufi (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
شیخنا احمد حماہ اللہ بن محمد بن عمر (تقریباً 1883ء – 16 جنوری 1943ء)، جو شیخ حماہ اللہ اور نیورو کے مارابو یا شریف کے نام سے معروف ہیں، طریقہ تیجانیہ کے ایک مالی صوفی شیخ تھے۔ وہ تیجانی مصلح سیدی محمد الاخضر کے پہلے مرید تھے اور «گیارہ دانوں» کی تلاوت سے ممتاز شاخ کی سربراہی میں ان کے جانشین ہوئے؛ ان کے نام سے منسوب تحریک — حمایّہ یا حماویہ — 1920 کی دہائی میں مالی اور موریطانیہ کے وولوف تاجروں اور غلام طبقے کے مسلمانوں میں پھیلی۔ 1 2 فرانسیسی نوآبادیاتی انتظامیہ نے انہیں بار بار جلاوطن کیا: 1925ء میں موریطانیہ، پھر آئیوری کوسٹ، اور آخرکار 1942ء میں فرانس، جہاں وہ 1943ء میں مونتلوسون میں جلاوطنی میں وفات پا گئے اور ان کی وفات کی خبر آزادی تک ان کے پیروکاروں سے چھپائی گئی۔ 2
ان کی پیدائش کا سال مآخذ میں واقعی غیر طے شدہ ہے: فرانسیسی مضمون کا آغاز تقریباً 1883ء دیتا ہے اور اس کا سوانحی حصہ 1881ء، انگریزی مضمون کا آغاز 1882ء دیتا ہے جبکہ اس کا زمرہ اور اس سے منسلک ویکی ڈیٹا آئٹم 1886ء دیتے ہیں۔ ریکارڈ نے تقریباً 1883ء اختیار کیا ہے اور تاریخ کو متنازع نشان زد کیا ہے۔ 2 3 1 4
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ موجودہ مالی میں دریائے نائجر کے کنارے نیامینا کے قریب کمبا ساغو میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمدو ولد سیدنا عمر موریطانیہ کے تیشیت کے قبیلہ اہل محمد سیدی شریف کے ایک مورش عالم تھے جو تجارت کے لیے کمبا آباد ہوئے تھے، اور والدہ آسا دیالو مالی کی ایک فولانی خاتون تھیں۔ تقریباً 1885ء میں ان کے والد نے خاندان کو کارتا کے قدیم دارالحکومت نیورو منتقل کیا تاکہ موریطانیہ کے حوض میں اپنے رشتہ داروں کے قریب ہو سکیں۔ 1895ء میں والد نے حماہ اللہ اور ان کے چھوٹے بھائی بابا الکبیر کو ان کے چچازاد استاد محمدو ولد شریف کے سپرد کیا، جو انہیں عربی حروف تہجی شروع کرنے کے لیے تیشیت لے گئے؛ پھر لڑکے ان کے چچا محمدو ولد بوی احمد، المعروف «دہ»، کے پاس گئے جنہوں نے انہیں قرآن پڑھایا۔ فرانسیسی مضمون بیان کرتا ہے کہ لڑکے کی یادداشت اسی زمانے سے غیر معمولی تھی — ایک آیت ایک بار سننا اسے بے خطا تلاوت کے لیے کافی تھا — اور آس پاس کے خیمے ایک «غیر معمولی بچے» کی باتیں کرنے لگے۔ 2
اخضر کے مرید اور جانشین
تیجانیہ نیورو میں اپنی مصلحانہ «گیارہ دانوں» والی صورت میں شیخ سیدی محمد الاخضر کے ذریعے پہنچی، جنہیں طریقے کے بانی احمد تیجانی کے قریبی ساتھی شیخ سیدی طاہر تلمسانی نے مغربی افریقہ میں سلسلے کی توسیع کا ذمہ دار بنایا تھا؛ فرانسیسی مضمون مزید کہتا ہے کہ اس منصوبے کی حوصلہ افزائی شاید اصل میں الجزائر کی نوآبادیاتی انتظامیہ نے کی تھی، جو عمر تال سے منسلک عمریہ کے مقابلے میں فرانس نواز تیجانی شاخ چاہتی تھی۔ اخضر 1903ء میں نیورو آئے اور نماز «جوہرۃ الکمال» کی گیارہ بار تلاوت کی ترویج کی، جبکہ عمری اسے بارہ بار پڑھتے تھے — ایک چھوٹا سا فنی فرق جسے مغربی تیجانیوں میں اصل سے رواداری حاصل تھی، مگر یہاں یہ دو شاخوں — «گیارہ دانے» اور «بارہ دانے» — میں تقسیم کی صورت اختیار کر گیا۔ 2
حماہ اللہ اخضر سے وابستہ ہوئے: انگریزی مضمون انہیں اخضر کا پہلا مرید کہتا ہے، اور فرانسیسی مضمون 1902ء کے ایک جمعے کی روایتی حکایت بیان کرتا ہے جب اخضر نے انہیں گیارہ حروف کا ایک لکھا ہوا لفظ دکھایا اور حماہ اللہ نے اسی باطنی معنی اور اسی عددی قیمت کا دوسرا لفظ جواب دیا، گیارہ اس شاخ کا مقدس عدد ہونے کے ناطے۔ اخضر کی وفات پر — انگریزی مضمون اسے 1909ء میں نیورو بتاتا ہے — حماہ اللہ شاخ کی سربراہی میں ان کے جانشین ہوئے، اور ان کے دور میں 1920 کی دہائی میں یہ تحریک پھیلی، پہلے نیورو کے وولوف تاجروں میں اور پھر موریطانیہ و مالی کے غلام طبقے کے مسلمانوں میں۔ 1 2
اثر و نفوذ اور فرانسیسی شبہ
حماہ اللہ صوفیانہ خلوت میں رہتے تھے اور کبھی اپنے زاویے سے باہر نہیں نکلتے تھے اور مریدوں سے ملاقات کی غرض سے نہیں ملتے تھے؛ جو تحائف ان پر انڈیلے جاتے تھے وہ بڑے پیمانے پر دوبارہ بانٹ دیتے تھے، اور انہیں جاننے والے نوآبادیاتی منتظمین نے اس سخاوت کی گواہی دی جس سے کوئی فقیر ان کے دروازے سے خالی ہاتھ نہیں لوٹتا تھا۔ امادو ہمپاتے با نے لکھا کہ شریف میں جو چیز تعظیم پر مجبور کرتی تھی وہ قداست یا کرامات نہیں بلکہ ان کی مردانہ جرات، گرفت اور غیر متزلزل سکون تھا۔ 3 دسمبر 1917ء کی ایک انتظامی انسپکٹر رپورٹ، جو فرانسیسی مضمون میں نقل ہے، انہیں ایک بند، خاموش آدمی قرار دیتی ہے جو وفاداری کے اعلانات میں نہیں کھینچا جا سکتا تھا، اور نتیجہ نکالتی ہے کہ ان پر نہایت قریبی، مگر محتاط، نظر رکھی جائے۔ 2
ان کی مقبولیت نے مخالفین کو جنم دیا، جن میں نمایاں فاہ ولد شیخ المہدی تھے، جو صوفیت کے سخت مخالف تھے اور لغلال قبائل کے گیارہ دانوں والے تیجانیت کی طرف بڑے پیمانے پر رجوع سے گھبرائے ہوئے تھے؛ 1923ء سے یہ رقابت بار بار تصادموں کا باعث بنی، فاہ نے ہجوئی نظموں کے سلسلے میں حماہ اللہ پر حملہ کیا، اور فاہ خود جھگڑوں میں اپنے کردار پر 1924ء میں طررزہ جلاوطن کر دیے گئے۔ ان واقعات نے حماہ اللہ کے بارے میں انتظامیہ کے شبہ کو گہرا کر دیا۔ 2
جبر اور جلاوطنی
نیورو میں گیارہ دانوں اور بارہ دانوں والی جماعتوں کے درمیان تصادموں کے بعد حکام نے 1925ء میں حماوہ اللہ کو موریطانیہ کے طررزہ میں میدرذرہ کی طرف دس سال کی جلاوطنی کی سزا سنائی، اور پھر آئیوری کوسٹ، اور انہیں صرف 1936ء میں واپسی کی اجازت ملی۔ اگست 1940ء میں ان کے بیٹے بابا نے نیورو اور عصابہ کے حلقوں کے تینواجیو گروہ کے خلاف انتقامی کارروائی کی قیادت کی، اور انتظامیہ نے حماویہ کے خلاف وسیع جبر سے جواب دیا: ویشی گورنر بواسون نے شیخ کو 19 جون 1941ء کو گرفتار کرایا اور ہوائی جہاز سے ڈاکار اور پھر 21 جون کو الجزائر بھیجا۔ ان کے دو بیٹے، بابا اور سیدی احمد، 11 نومبر 1941ء کو 31 مورش رہنماؤں اور معززین کے ساتھ گولی مار دیے گئے، اور سینکڑوں مرید گرفتار ہو کر انسوں گو، بوریم اور کیدال کے کیمپوں میں بھیجے گئے۔ 2
1942ء میں حماہ اللہ دوبارہ جلاوطن ہوئے، اس بار فرانس، اور کروز کے ایوو لے بان میں نظربند رہے۔ خزاں 1942ء میں ان کی صحت اچانک بگڑ گئی؛ انہیں مونتلوسون کے اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں وہ، بظاہر دل کی بیماری سے، 16 جنوری 1943ء کو وفات پا گئے، اور انہیں مفلسوں کے لیے مخصوص مشترکہ قبرستان میں جلدی جلدی دفن کیا گیا۔ ساحل میں ان کے پیروکاروں کے ردعمل کے خوف سے نوآبادیاتی حکام نے ان کی وفات کو آزادی تک راز رکھا۔ 2 انگریزی مضمون مختصراً درج کرتا ہے کہ وہ 1933ء میں نیورو سے موریطانیہ، پھر آئیوری کوسٹ اور آخرکار فرانس جلاوطن ہوئے، اور یہ کہ تحریک ان کی جلاوطنی میں وفات کے بعد بھی باقی رہی اور، فرانسیسی مغربی افریقہ میں غیر قانونی قرار دیے جانے کے باوجود، خاص طور پر دیہی غریبوں میں جاری رہی۔ 1
ورثہ
ان کے ایک بیٹے، محمدو ولد حماہ اللہ، المعروف «بوی حیدرہ»، حماویہ کی سربراہی میں ان کے جانشین ہوئے۔ ڈاکار کی بندرگاہ کا ایک گھاٹ شیخ حماہ اللہ کے نام پر ہے۔ 2 انگریزی مضمون مالی کے تیرنو بوکار سالیف تال اور یعقوبا سیلا کو ان کے نمایاں ترین مریدوں میں شمار کرتا ہے، اور تحریک کو عصر حاضر کے مغربی افریقہ میں ایک چھوٹا مگر خوشحال مذہبی گروہ قرار دیتا ہے۔ 1 اس عجائب گھر میں ان کا عقیدہ «صوفی» اس دستاویزی بنیاد پر درج ہے جو ان کی تیجانی مریدی ہے: انگریزی مضمون انہیں ایک تیجانی مصلح کا پہلا مرید اور اس کی تحریک کا قائد کہتا ہے، اور فرانسیسی مضمون انہیں تیجانی صوفی برادری کی ایک شاخ کا بانی کہتا ہے اور اخضر کی جانشینی بیان کرتا ہے۔ کسی بھی قابل مطالعہ ماخذ نے ان کے لیے کوئی فقہی مکتب (مذہب) نہیں بتایا۔ 1 2
مآخذ
- اوپر درج شدہ متعین ماخذ اکائیاں، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی نظرثانیاں تاریخ شدہ ہونی چاہییں، اور ہر حقیقت کو بدلنے والے ماخذ کا نام لینا چاہیے۔
تعلقات
- Taught
- یعقوبا سِلا
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Hamahullah bin Muhammad bin Umar — English Wikipedia
- Ahmedou Hamahoullah — French Wikipedia
- Cheikh Hamallah — Wikidata Q2962105
- Hamahullah bin Muhammad bin Umar — Wikidata Q5643993
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “حماہ اللہ بن محمد بن عمر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/cheikh-hamallah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.