احمد جمال پاشا

أحمد جمال باشا

–

عثمانی فوجی کمانڈر اور سیاست دان، جمعیتِ اتحاد و ترقی کے «تین پاشاؤں» میں سے ایک۔ وہ بغداد کے گورنر رہے، پھر 1914 سے 1918 تک وزیرِ بحریہ اور شام و فلسطین میں چوتھی فوج کے کمانڈر، جہاں دمشق و بیروت میں عرب قوم پرستوں کی پھانسیوں کی وجہ سے سخت القاب سے مشہور ہوئے۔ غیر حاضری میں سزائے موت پانے کے بعد 1922 میں تبلیسی میں آرمینی انقلابی فیڈریشن کے ارکان کے ہاتھوں قتل ہوئے اور ارض روم میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
military · سیاست دان
خطہ
anatolia-balkans
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبادی بانو بیگم · عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · حاجی عبد الرحمان لمبونگ · عبد اللہ جودت

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    احمد جمال پاشا (6 مئی 1872 – 21 جولائی 1922)، انگریزی وکی پیڈیا میں «Djemal Pasha»، عثمانی فوجی کمانڈر اور سیاست دان تھے، ان «تین پاشاؤں» میں سے ایک جنہوں نے جمعیتِ اتحاد و ترقی کی قیادت کی اور 1913 سے 1918 تک ریاست پر عملاً حکومت کی۔ وہ وزیرِ بحریہ اور شام و فلسطین میں چوتھی فوج کے کمانڈر رہے۔ 1

    اتحاد و ترقی میں عروج

    وہ لسبوس کے میتیلینی میں پیدا ہوئے، فوجی دوا ساز محمد نسیب افندی اور بناز خانم کے بیٹے، اور انہوں نے قوللی اور حربی کالج میں تعلیم پائی اور 1895 میں عملے کے کپتان بن کر نکلے۔ سیلانک میں وہ اس وقت کی خفیہ جمعیتِ اتحاد و ترقی میں شامل ہوئے اور اس کے عسکری ونگ کو منظم کیا۔ 1908 کے انقلاب کے بعد انہیں 1909 میں ادانہ میں آرمینی بغاوت کچلنے بھیجا گیا، اگست 1911 میں بغداد کا گورنر مقرر کیا گیا، اور 1913 کے بابِ عالی چھاپے کے بعد اسطنبول کے عسکری گورنر بنے۔ مارچ 1914 میں وہ وزیرِ بحریہ بنے اور اکتوبر 1918 تک اس عہدے پر رہے۔ 1 2

    شام اور متنازع ریکارڈ

    نومبر 1914 میں انہوں نے سوئز نہر کی مہموں کے لیے چوتھی فوج کی کمان سنبھالی اور پھر شام و فلسطین کے حاکم بنے۔ وہاں انہوں نے فوجی عدالتوں کے ذریعے 21 اگست 1915 کو بیروت میں اور 6 مئی 1916 کو دمشق و بیروت میں عرب قوم پرستوں کو پھانسی دلوائی — 1915–1916 میں مجموعی طور پر 34 پھانسیاں — اور شامی و لبنانی انہیں السفّاح یعنی خونخوار کے نام سے جانتے ہیں؛ 6 مئی آج بھی شام و لبنان میں یومِ شہداء ہے۔ انہوں نے 1917 میں یافا کے یہودیوں کی جلاوطنی کا حکم بھی دیا، اور طفس قتلِ عام ان کی جنگوں میں شمار ہوتا ہے۔ آرمینی نسل کشی میں ان کا کردار مورخین میں متنازع ہے: انگریزی مضمون وولف گانگ گسٹ کا اندازہ نقل کرتا ہے کہ انہوں نے خوفناک حالات میں تقریباً 150,000 آرمینیوں کی جانیں بچائیں جبکہ مزید 150,000 کے قتل میں مدد کی، اور امیت کرٹ کی دلیل کہ انہوں نے قتل کے بجائے جبری تبدیلیِ مذہب اور انجذاب کو ترجیح دی، جو انہیں نسل کشی کے مرتکب کے وصف سے بری نہیں کرتا؛ ترک مضمون انہیں تہجیر جلاوطنی قانون کے معماروں میں سے ایک کہتا ہے۔ 1 2

    فرار، وفات اور تدفین

    عثمانی شکست کے بعد وہ نومبر 1918 میں انور اور طلعت کے ساتھ فرار ہو گئے۔ ایک ترک فوجی عدالت نے انہیں عرب رعایا کے قتلِ عام کا الزام دے کر غیر حاضری میں سزائے موت سنائی۔ انہوں نے افغان فوج کی تجدید میں عسکری مشیر کے طور پر کام کیا، پھر سوویتوں کے رابطہ افسر کے طور پر تبلیسی گئے۔ وہاں 21 جولائی 1922 کو آرمینی انقلابی فیڈریشن کے ارکان نے آپریشن نیمیسس کے تحت انہیں قتل کر دیا۔ ان کی لاش ارض روم لائی گئی اور قارس قاپی شہداء قبرستان میں دفن ہوئی۔ 1 2

    ان کے دین کا سوال

    انگریزی مضمون ان کا کوئی دین بیان نہیں کرتا۔ ترک مضمون کا معلوماتی خانہ اسلام عمومی طور پر دیتا ہے، اور وکی ڈیٹا اسلام اس حوالے کے ساتھ دیتا ہے جو وکی میڈیا منصوبے سے درآمد شدہ ہے — یعنی معلوماتی خانے کی قیمت کی ہی ایک ہی خاندان، کوئی دوسرا آزاد اثبات نہیں، اور کوئی ماخذ ان کے لیے کوئی مکتب نام نہیں لیتا۔ اس لیے میوزیم کے دو ماخذوں کے اصول کے تحت ان کا عقیدہ نامعلوم درج کیا گیا ہے۔ 1 2 3

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرف مآخذ کے اندراجات، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخہ ہونی چاہیے اور اس ماخذ کا نام لے جس نے ہر حقیقت بدلی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Ruler of
    بغداد

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    المدرسة النظامية ببغداد· بيت الحكمة (خزانة الحكمة)· البيمارستان العضدي· المارستان المقتدري· مارستان السيدة· دار العلم ببغداد (دار العلم السابورية)· جامع القطيعة ببغداد· جامع قطيعة أم جعفر

    ماخذ

    1. Cemal Pasha — English Wikipedia
    2. Cemal Pasha — Turkish Wikipedia
    3. Cemal Pasha — Wikidata Q317011
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد جمال پاشا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/cemal-pasha/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    المدرسة النظامية ببغداد

    The Nizamiyya of Baghdad, first and most famous of the madrasas founded by the vizier Nizam al-Mulk al-Tusi: building began in 457 and sisters rose at Nishapur, Isfahan, Herat, Basra, Mosul and Amid; the Imam al-Haramayn al-Juwayni then Abu Ishaq al-Shirazi taught in it, and it mothered the Sunni institutional model that the later madrasas of Baghdad followed — the caliphs prayed there and Nizam al-Mulk himself visited to inspect its library.