برہم صالح

برهم صالح

برہم احمد صالح (پیدائش 8 ستمبر 1960ء) ایک عراقی کرد سیاست دان ہیں، 2018ء سے 2022ء تک فؤاد معصوم کے جانشین کے طور پر جمہوریۂ عراق کے صدر رہے، اور 1 جنوری 2026ء سے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین ہیں۔ وہ پٹریاٹک یونین آف کردستان کے رہنما، 2009ء–2012ء میں کردستان ریجن کے وزیرِ اعظم اور عراق کے نائب وزیرِ اعظم رہ چکے ہیں؛ انہوں نے کارڈف اور لیورپول سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    صالح سلیمانیہ میں 1960ء میں پیدا ہوئے۔ کرد قومی تحریک سے وابستگی پر بعثی حکومت نے 1979ء میں انہیں دو بار گرفتار کیا اور کرکوک میں 43 دن حراست اور تشدد برداشت کرنا پڑا؛ رہائی کے بعد انہوں نے ثانوی تعلیم مکمل کی اور برطانیہ چلے گئے۔ انہوں نے 1983ء میں کارڈف یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ کی ڈگری اور 1987ء میں لیورپول یونیورسٹی سے شماریات و کمپیوٹر تطبیقاتِ انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ حاصل کی۔ 1

    سیاسی زندگی

    صالح 1976ء کے آخر میں پٹریاٹک یونین آف کردستان (PUK) میں شامل ہوئے، اس کے یورپی شعبے اور لندن دفترِ خارجہ تعلقات کی نگرانی کی اور 1991ء کے بعد امریکہ میں اس کے دفتر کے سربراہ رہے۔ 2003ء کے بعد وہ عبوری حکومت میں نائب وزیرِ اعظم، 2005ء میں وزیرِ منصوبہ بندی اور نور المالکی کی حکومت میں اقتصادی ملف کے انچارج نائب وزیرِ اعظم رہے۔ 2009ء سے 2012ء تک وہ کردستان ریجن کے وزیرِ اعظم رہے۔ ستمبر 2017ء میں انہوں نے PUK چھوڑ کر ائتلاف برائے جمہوریت و انصاف بنایا، پھر ستمبر 2018ء میں PUK میں لوٹے جس نے انہیں صدارت کے لیے نامزد کیا۔ 2 اپریل 2002ء کو وہ انصار الاسلام کے قاتلانہ حملے میں بچ گئے جس میں ان کے دفتر کے سربراہ اور چار محافظ مارے گئے۔ 1 2

    صدارت

    صالح 2 اکتوبر 2018ء کو 219 ووٹوں سے صدر منتخب ہوئے اور فؤاد معصوم کے جانشین بنے۔ مارچ 2019ء میں انہوں نے یزیدی خواتینِ نجات یافتگان کا قانون پارلیمان میں پیش کیا جو یکم مارچ 2021ء کو نافذ ہوا۔ دسمبر 2019ء میں انہوں نے احتجاجی تحریک کے خلاف اسعد العیدانی کو وزیرِ اعظم بنانے سے انکار کرتے ہوئے استعفا پیش کیا۔ اکتوبر 2022ء میں وہ دوبارہ انتخاب عبد اللطیف رشید سے ہار گئے۔ 1

    مذہب

    ان کا مذہب نامعلوم درج ہے۔ کسی مقالے کا متن ان کا مکتب نہیں بتاتا اور کسی معلوماتی خانے میں مذہب کا خانہ نہیں؛ ویکی ڈیٹا ایک ہی قیمت، سنی اسلام، رکھتا ہے اور عربی و اردو مقالے انہیں سنی مسلم زمروں میں رکھتے ہیں، جو زمرہ بندیاں ہیں، شہادتیں نہیں۔ سنی قرأت دو ماخذوں کے پیمانے سے ایک خاندان کم ہے۔ 1 2 3

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Predecessor of
    عبد اللطیف رشید
    Successor of
    فؤاد معصوم

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جلال طالبانی· عبد اللطیف رشید· فؤاد معصوم

    ماخذ

    1. Barham Salih — English Wikipedia
    2. Barham Salih — Arabic Wikipedia
    3. Barham Salih — Wikidata Q808173
    • Barham Salih — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “برہم صالح”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/barham-salih/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جلال طالبانی

    جلال طالبانی (1933ء – 3 اکتوبر 2017ء) ایک عراقی کرد سیاست دان، پٹریاٹک یونین آف کردستان کے بانی و رہنما اور جمہوریۂ عراق کے پہلے غیر عرب صدر تھے؛ انہوں نے کرد حقوق کی دہائیوں کی سیاسی و عسکری جدوجہد کے بعد 2005ء سے 2014ء تک صدارت سنبھالی۔ وہ «مام جلال» یعنی چچا جلال کے لقب سے معروف تھے اور 2017ء میں برلن میں وفات تک عراقی دھڑوں کے درمیان مصالحتی واسطے کے طور پر جانے جاتے تھے۔