ایک نظر میں
- کردار
- biochemist
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
عزیز سنجار ترک نژاد امریکی حیاتی کیمیادان ہیں، جو 8 ستمبر 1946 کو صوبہ ماردین کے ضلع صور میں پیدا ہوئے۔ طبیب کے طور پر تربیت پانے کے بعد انہوں نے اپنی زندگی اس مطالعے کے لیے وقف کر دی کہ خلیے تباہ شدہ ڈی این اے کی مرمت کیسے کرتے ہیں، اور بیکٹیریا اور پھر انسانوں میں نیوکلیوٹائیڈ ایکسیشن مرمت کے میکانزم واضح کیے۔ 2015 میں انہیں ٹوماس لنڈال اور پال موڈرچ کے ساتھ کیمیا کا نوبل انعام ملا «ڈی این اے مرمت کے میکانسٹک مطالعات پر» — وہ اورحان پاموک کے بعد نوبل پانے والے دوسرے ترک بنے۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ صور میں ایک نچلے متوسط خاندان کے آٹھ بچوں میں ساتویں تھے۔ ان کے والدین ناخواندہ تھے مگر تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ وہ والدین سے عربی اور بہن بھائیوں سے ترکی بولتے تھے؛ ان کے بڑے بھائی کینان ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل ہیں اور ان کے کزن متات سنجار ایچ ڈی پی کے سیاست دان ہیں۔ انہیں گاؤں کے اداروں سے تربیت یافتہ اساتذہ نے پڑھایا؛ وہ ہر مضمون میں نمایاں تھے، گول کیپر کھیلے اور ترک انڈر 18 ٹیم کے ٹرائلز کی دعوت ملی مگر انہوں نے پڑھائی کو ترجیح دی۔ وہ کیمیا پڑھنا چاہتے تھے مگر پانچ ہم جماعتوں نے انہیں طب کی طرف راغب کیا، اور انہوں نے 1969 میں جامعہ استنبول کے میڈیکل اسکول سے اعلیٰ ترین امتیاز کے ساتھ گریجویشن کی۔ 2
علمی سفر
گریجویشن کے بعد انہوں نے صور میں بطور جنرل پریکٹیشنر کام کیا — انگریزی مضمون کے مطابق تقریباً ڈیڑھ سال، جبکہ ان کی نوبل سوانحی تحریر اور دیگر خاکے تقریباً دو سال بتاتے ہیں۔ پھر انہیں توبیتاک اسکالرشپ پر جانز ہاپکنز یونیورسٹی جانا نصیب ہوا؛ وہ صرف فرانسیسی بول سکتے تھے، وہیں انگریزی سیکھی، اور کلاؤڈ اسٹین روپرٹ کی لیبارٹری میں فوٹوری ایکٹیویشن پر کام کیا۔ سماجی مشکلات کی وجہ سے ڈیڑھ سال بعد چھوڑ کر 1973 میں صور واپس آ کر دوبارہ طب شروع کی؛ پھر روپرٹ کو خط لکھا جو ڈیلاس کی یونیورسٹی آف ٹیکساس منتقل ہو چکے تھے، اور 1977 میں وہیں سے پی ایچ ڈی کی — ان کا مقالہ ای کولی کے فوٹوری ایکٹیویٹنگ انزائم (ڈی این اے فوٹولائز) پر تھا، جس کا جین وہ 1976 میں کلون کر چکے تھے۔ 2
ان کی تین پوسٹ ڈاکٹرل درخواستیں مسترد ہوئیں اور انہوں نے پانچ سال ییل یونیورسٹی میں ڈین رپ کی لیبارٹری میں بطور لیبارٹری ٹیکنیشن گزارے، جہاں انہوں نے بیکٹیریا میں نیوکلیوٹائیڈ ایکسیشن مرمت واضح کی: انزائم خرابی کے دونوں طرف کاٹ کر 12–13 نیوکلیوٹائیڈ کا ٹکڑا نکال دیتے ہیں۔ پچاس جامعات کو درخواستوں میں سے صرف شمالی کیرولائنا یونیورسٹی، چیپل ہل نے مثبت جواب دیا؛ وہ وہاں سارہ گراہم کینان پروفیسر آف بایوکیمسٹری اینڈ بایوفزکس بنے۔ انہوں نے انسانی ایکسیشن مرمت پر کام جاری رکھا، اور 2014 میں ان کی ٹیم نے دکھایا کہ پیریڈ اور کرپٹوکروم جینز انسانی خلیوں کی اندرونی گھڑی کی تال برقرار رکھتے ہیں۔ 2005 میں وہ نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے پہلے ترک رکن منتخب ہوئے۔ 2
نوبل انعام
انہیں 2015 کا انعام «ڈی این اے مرمت کے میکانسٹک مطالعات پر» ملا؛ ان کا حصہ نیوکلیوٹائیڈ ایکسیشن مرمت تھا، اور نوبل حقائق صفحہ ان کے 1983 کے کام کو نمایاں کرتا ہے جس میں دکھایا گیا کہ بیکٹیریا کے مرمتی پروٹین الٹرا وایلیٹ سے تباہ شدہ ڈی این اے کو کاٹ کر نکالتے ہیں۔ 19 مئی 2016 کو انہوں نے اپنا اصل نوبل تمغہ اور سرٹیفکیٹ صدارتی تقریب میں انیت کبیر (اتاترک کے مزار) کو عطیہ کیا اور ایک نقل جامعہ استنبول کو دی۔ 1 2
مواقف اور تنقید
اس حصے کو ماخذ میں منقول مختلف مواقف کی رپورٹ کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کے فیصلے کے طور پر نہیں۔
انعام کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی اصل پر سوال اٹھا۔ ان کے کزن متات کے مطابق خاندان عرب ہے اور عربی ان کی مادری زبان ہے؛ سنجار نے بی بی سی سے کہا: «میں نے انہیں بتایا کہ میں نہ عربی بولتا ہوں نہ کردی اور یہ کہ میں ترک ہوں... میں ترک ہوں، بس» — حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ والدین سے عربی بولتے تھے۔ انگریزی مضمون کے مطابق طالب علمی کے زمانے میں وہ انتہا پسند قوم پرست تنظیم «گرے وولوز» سے وابستہ رہے؛ سنجار خود کہتے ہیں کہ جوانی میں وہ «آدرش پسند» (اولکوجو) تھے مگر تنظیم کی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیا، اور وہ ترکی وحدت پسندی کی معتدل صورت کے حامی ہیں۔ انگریزی مضمون انہیں عمل پیرا مسلمان بتاتا ہے اور ان کا 2015 کا بیان نقل کرتا ہے: «مجھے مسلمان ہونے پر فخر ہے، لیکن جاری مسائل کی وجہ سے میں امریکہ کے بہت سے علاقوں میں یہ بات نہیں کہہ سکتا۔» انہوں نے 2018 میں یہ بھی کہا کہ ارتقا ایک حقیقت ہے، عقیدے کا معاملہ نہیں۔ 2
ذاتی زندگی اور اعزازات
1978 میں انہوں نے گوین بولز سنجار سے شادی کی، جن سے ان کی ملاقات ڈیلاس میں پی ایچ ڈی کے دوران ہوئی؛ وہ بھی نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی میں حیاتی کیمیا و حیاتی طبیعیات کی پروفیسر ہیں۔ دونوں نے مل کر عزیز و گوین سنجار فاؤنڈیشن قائم کی اور 2008 میں چیپل ہل میں «کیرولائنا ترک گھر» خریدا جو ترک طلبہ کے لیے ثقافتی مرکز و رہائش ہے۔ ان کے پاس ترکی، امریکہ اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص کی شہریتیں ہیں، آخری انہیں 2025 میں ملی۔ ان کے اعزازات میں صدارتی نوجوان محقق ایوارڈ (1984)، توبیتاک سائنس ایوارڈ (انگریزی مضمون اور توبیتاک کی فہرست کے مطابق 1995؛ ترک ماخذ 1997 کہتے ہیں)، وہبی کوچ ایوارڈ (2007) اور ترک دنیا کے سفیرِ ثقافت کا اعزاز (2025) شامل ہیں۔ 2 3
حوالہ جات
- اوپر حوالہ دیے گئے ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس ریکارڈ میں ویکی ڈیٹا شناخت درج نہیں: اس جانچ کے دوران (24 اکتوبر 2026) ویکی ڈیٹا نے 403 خرابی دی، اس لیے نمبر اندازے سے نہیں لکھا گیا؛ براہِ راست تصدیق ہوتے ہی شامل کیا جائے گا۔
- توبیتاک سائنس ایوارڈ کے سال اور صور میں طبی مشق کی مدت میں ماخذ میں اختلاف ہے؛ دونوں صورتیں اوپر درج ہیں۔
- بعد کی ترمیمات اور تراجم کو واضح تواریخ کے ساتھ وقتاً فوقتاً جائزے کی ضرورت ہے۔
ماخذ
- Aziz Sancar — Nobel Prize facts page
- Aziz Sancar — English Wikipedia
- عزيز سانجار — ويكيبيديا العربية
- Aziz Sancar — Wikidata Q15118973
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “عزیز سنجر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/aziz-sancar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.