انصار برنی

انصار برني

انصار برنی (پیدائش 14 اگست 1956ء) کراچی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی وکیل اور انسانی حقوق کے فعالیت پسند ہیں جو مارشل لا دور میں جمہوریت نواز طالب علم سرگرمیوں پر قید رہے، رہائی کے بعد پرزنرز ایڈ سوسائٹی اور انصار برنی ٹرسٹ انٹرنیشنل قائم کیے جو بے گناہ قیدیوں کی رہائی، اغوا شدہ بچوں کی بازیابی اور انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے کام کرتے ہیں، اور 2007ء–2008ء کی نگراں کابینہ میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
lawyer · activist · سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی

    برنی کراچی میں پیدا ہوئے — انگریزی مقالے کا معلوماتی خانہ اور مقدمہ، اردو مقالہ اور ویکی ڈیٹا 14 اگست 1956ء دیتے ہیں، جبکہ انگریزی مقالے کا ابتدائی زندگی کا حصہ 16 اگست 1956ء کہتا ہے، جو اس مقالے کے اندر کا تضاد ہے؛ اکثریتی قراءت یہاں اختیار کی گئی ہے۔ وہ سید مختار احمد برنی کے بیٹے ہیں، اور ان کے آبا و اجداد تقسیم کے وقت مغربی اتر پردیش سے ہجرت کر کے آئے۔ انھوں نے جامعہ کراچی سے قانون میں ماسٹر کیا۔ 1970ء کی دہائی میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے طالب علم رہنما کے طور پر وہ انصاف اور شہری حقوق کے لیے بولتے تھے، اور 1977ء میں بیس برس کی عمر میں جمہوریت نواز تقاریر پر فوجی حکومت نے انھیں گرفتار کر کے قید کر دیا؛ اردو مقالہ 1977ء تا 1979ء کی بار بار قید کا ذکر کرتا ہے، جس دوران انھوں نے بے گناہ قیدیوں کے لیے کام کا عزم کیا۔ 1 2

    سرگرمیاں

    رہائی اور 1980ء میں قانون کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد برنی نے کراچی میں پرزنرز ایڈ سوسائٹی، انسداد دہشت گردی کمیشن اور گم شدہ و اغوا شدہ بچوں کا بیورو قائم کیا، اور بالآخر انصار برنی ٹرسٹ انٹرنیشنل، جس کے دفاتر پاکستان، واشنگٹن ڈی سی اور لندن میں ہیں۔ ٹرسٹ پاکستان اور بیرون ملک بے گناہ اور غیر قانونی طور پر قید افراد کی رہائی — جن میں دہائیوں سے قید افراد اور جیل میں پیدا ہونے والے بھی شامل ہیں — گم شدہ اور اغوا شدہ بچوں کی بازیابی (اردو مقالے کے مطابق بیس ہزار سے زائد) اور انسانی اسمگلنگ، جھوٹی قید، غلامی اور سزائے موت کے خلاف مہم چلاتا ہے۔ برنی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ماہر مشیر رہے اور نومبر 2007ء سے اپریل 2008ء تک نگراں کابینہ میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق رہے۔ انھیں ستارہ امتیاز اور 23 مارچ 2013ء کو ہلال امتیاز ملا، اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے انھیں انسانی اسمگلنگ کے خلاف ہیرو قرار دیا۔ 1 2

    مذہب

    ان کا مذہب نامعلوم درج ہے، کیونکہ کسی ماخذ نے ان کے لیے کوئی انتماء نہیں بتایا۔ نہ انگریزی نہ اردو مقالہ ان کے مذہب کا کوئی ذکر کرتا ہے — ان کا مواد ان کا قانونی و انسانی کام، قید اور اعزازات ہے — اور ویکی ڈیٹا میں مذہب کی کوئی قدر سرے سے نہیں۔ 1 2 3

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Ansar Burney — English Wikipedia
    2. Ansar Burney — Urdu Wikipedia
    3. Ansar Burney — Wikidata Q636168
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “انصار برنی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ansar-burney/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔