علی مملوک

علي مملوك

دمشق

شامی انٹیلی جنس افسر، فضائیہ کی انٹیلی جنس کے بانیوں میں سے ایک، جنہوں نے جنرل سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ اور پھر قومی سلامتی بیورو (2012–2019) کی سربراہی کی؛ 2019 میں سلامتی امور کے نائب نائب صدر اور 2024 میں قومی سلامتی کے مشیر مقرر ہوئے، اور سابق صدر بشار الاسد کے قریب ترین مشیروں میں شمار ہوتے تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عہدیدار
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

مکان میں

دمشق

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    علی مملوک، جو 19 فروری 1946 کو دمشق میں پیدا ہوئے، شامی انٹیلی جنس افسر ہیں جو سابق صدر بشار الاسد کے قومی سلامتی کے مشیر رہے اور ان کے سب سے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے 2005 سے جنرل سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ اور 2012 سے 2019 تک قومی سلامتی بیورو کی سربراہی کی، 2019 میں سلامتی امور کے نائب نائب صدر اور جنوری 2024 میں قومی سلامتی کے مشیر مقرر ہوئے، اور 8 دسمبر 2024 کو حکومت کے خاتمے تک سلامتی نظام کا حصہ رہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور کیریئر

    وہ دمشق کے محلے البحصة میں ایک سنی خاندان میں پیدا ہوئے؛ ایک اور روایت ان کی پیدائش کا سال 1945 بتاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ستر کی دہائی میں شامی فضائیہ کی انٹیلی جنس کے بانی افسروں میں سے تھے اور اس کے نائب ڈائریکٹر بنے۔ جون 2005 میں صدر بشار الاسد نے انہیں جنرل سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کا سربراہ مقرر کیا۔ جولائی 2012 میں، دمشق کے سلامتی ہیڈکوارٹر پر بم حملے کے بعد، انہیں وزیر کے درجے کے ساتھ قومی سلامتی بیورو کا سربراہ بنا کر پورے سلامتی نظام کی نگرانی سونپی گئی۔ جنگ کے دوران انہوں نے سلامتی سفارت کاری بھی کی: 2015 میں جدہ، مسقط اور قاہرہ کے دورے کیے، 2018 میں مصری ہم منصب عباس کامل سے ملاقات کی، اور 2021 سے 2023 کے درمیان سعودی انٹیلی جنس سربراہ خالد بن علی الحمیدان سے ملاقاتیں کیں۔ 1 2

    مواقف اور تنقید

    اس حصے کو ماخذوں میں منقول مواقف اور الزامات کے بیان کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کے فیصلے کے طور پر نہیں۔ یورپی یونین نے 9 مئی 2011 کو انہیں مظاہرین کے خلاف تشدد میں ملوث ہونے کی بنیاد پر پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا اور کہا کہ ان کے ادارے نے اندرونی اختلاف کو کچلا، شہریوں کی نگرانی کی اور درعا کے محاصرے میں حصہ لیا۔ امریکہ نے 23 اپریل 2012 کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں ان پر پابندیاں لگائیں، اور سوئٹزرلینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا، جاپان، موناکو اور برطانیہ نے بھی پابندیاں عائد کیں۔ اگست 2012 میں لبنان نے ان پر اور سابق لبنانی وزیر میشال سماحة پر سیاسی و مذہبی شخصیات کے قتل کی سازش کا غیابی مقدمہ درج کیا اور فروری 2013 میں ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا۔ نومبر 2018 میں فرانسیسی استغاثہ نے ان کے اور دو دیگر اعلیٰ شامی اہلکاروں کے خلاف تشدد میں شراکت، جبری گمشدگیوں، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے الزامات میں بین الاقوامی گرفتاری وارنٹ جاری کیے؛ مئی 2024 میں پیرس کی عدالت نے تینوں کو دو فرانسیسی شہریوں کے تشدد اور قتل میں ملوث ہونے پر غیابی طور پر مجرم قرار دیا۔ حکومت کے خاتمے پر انگریزی مضمون لکھتا ہے کہ ان کا قافلہ ہوائی اڈے کی طرف جاتے ہوئے گھات لگے حملے سے بچ نکلا اور وہ روسی سفارت خانے سے ہوتے ہوئے روس پہنچ گئے، جب کہ عربی مضمون میں منقول ایک اور روایت کے مطابق وہ حزب اللہ کی مدد سے لبنان فرار ہوئے۔ 1 2

    حوالہ جات

    • اوپر جن تعریف شدہ ماخذوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کے بعد کے تراجم اور نظرثانیوں کو واضح تازہ کاری کی تاریخوں کے ساتھ وقتاً فوقتاً جائزہ درکار ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    دمشق
    Lived in
    دمشق

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الكهف بقاسيون (كهف جبريل)· قصر هرقل (شمس الملوك)· الجامع الأموي بدمشق· فتنة الحافظ عبد الغني بدمشق سنة 595· حصر الأفضل دمشق وعوده عنها· استيلاء العادل على دمشق· قدوم الغزالي دمشق متزهداً سنة 488· ملك الملك الأشرف مدينة دمشق

    ماخذ

    1. Ali Mamlouk — English Wikipedia
    2. Ali Mamlouk — Arabic Wikipedia
    • Ali Mamlouk — Wikidata Q2616390
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “علی مملوک”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ali-mamlouk/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الكهف بقاسيون (كهف جبريل)

    The mosque raised inside the cave of Mount Qasyun by Abu al-Faraj Muhammad ibn Abd Allah ibn al-Mu'allim beginning in 370, after a dream in which Jibril bade him build a mosque where God's name would be remembered — he called it Jibril's Cave; a broad prayer-hall floored in white marble, its columns all marble, never empty of the pious at remembrance.