البوری ندیائے

البوري ندياي

تقریباً 1848 عیسوی · 1264 ھ –

البوری ندیائے (تقریباً 1848ء – 1901ء)، موجودہ سینیگال میں آزاد یولوف کے آخری «بوربا» (بادشاہ)، جو فرانسیسی فتح کے خلاف پُرعزم مزاحمت کے لیے مشہور ہیں۔ یولوف کے تیال میں پیدا ہوئے، 1851ء میں والد قتل ہوئے تو کایور میں اپنے رشتہ دار لات دیور کے ساتھ پرورش پائی؛ 1860ء کی دہائی میں لات دیور کے ساتھ مرابط مابا دیاخو با کی قیادت میں اسلام قبول کیا اور مابا کی صاحبزادی سے شادی کی۔ 1875ء میں بوربا بنے، یولوف پر مضبوط اقتدار قائم کیا، اس کی اسلامی تشکیل جاری رکھی اور دارالحکومت یانگ یانگ کو قلعہ بند کیا؛ فرانسیسیوں کے خلاف اپنے کزن لات دیور کا ساتھ دیا، اور مئی 1890ء میں ڈوڈز کے یانگ یانگ پر چڑھائی تک یولوف شمالی سینیگامبیا کی آخری آزاد ریاست رہا۔ پھر مشرق میں احمدو تال کے پاس گئے اور ان کے ساتھ لڑے، اور سوکوٹو کی طرف بڑھتے ہوئے 1901ء میں نائجر کے دوسو میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران · جرنیل
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1820عیسوی1830عیسوی1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی1910عیسوی1920عیسوی1930عیسوی1940عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: ابائی قنان باولی · عبد الرزاق البيطار · احمد عرابی · أحمد مدحت · عائشہ التیموریہ

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    البوری ندیائے (تقریباً 1848ء – 1901ء) موجودہ سینیگال میں آزاد یولوف کے آخری «بوربا» (بادشاہ) ہیں، جو فرانسیسی فتح کے خلاف پُرعزم مزاحمت کے لیے مشہور ہیں۔ 1 2 وہ یولوف کے تیال میں پیدا ہوئے، 1851ء میں والد قتل ہوئے تو کایور میں اپنے رشتہ دار لات دیور کے ساتھ پرورش پائی؛ 1860ء کی دہائی میں انہوں نے لات دیور کے ساتھ مرابط مابا دیاخو با کی قیادت میں اسلام قبول کیا اور مابا کی صاحبزادی سے شادی کی۔ 1875ء میں بوربا بنے، یولوف پر مضبوط اقتدار قائم کیا، اس کی اسلامی تشکیل جاری رکھی اور دارالحکومت یانگ یانگ کو قلعہ بند کیا؛ مئی 1890ء میں ڈوڈز کے یانگ یانگ پر چڑھائی تک یولوف شمالی سینیگامبیا کی آخری آزاد ریاست رہی، پھر وہ مشرق میں احمدو تال کے پاس گئے اور ان کے ساتھ لڑتے ہوئے 1901ء میں نائجر کے دوسو میں وفات پا گئے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

    انگریزی مضمون کے مطابق وہ تقریباً 1848ء میں یولوف کے تیال میں پیدا ہوئے (چارلس 1977ء، ص 84)، ان کے والد 1851ء میں نگینینین میں قتل ہوئے اور والدہ انہیں لے کر اپنے وطن کایور کے ندیامبور چلی گئیں۔ 1 فرانسیسی مضمون تقریباً 1847ء دیتا ہے اور وہ بھی چارلس کے اسی صفحے پر مبنی ہے، اس لیے ایک سال کا فرق تقریب کا اختلاف ہے۔ 2 کایور میں وہ لات دیور کے ساتھ پلے — انگریزی مضمون لات جور کو ان کا بڑا کزن اور فرانسیسی مضمون چچا کہتا ہے — اور 1860ء کی دہائی میں دونوں نے مابا دیاخو با کے پاس اسلام قبول کیا؛ البوری نے مابا کی ایک صاحبزادی سے شادی کی۔ 1 2

    حکومت اور یولوف کا دفاع

    وہ 1875ء میں بوربا بنے اور فرانسیسی مضمون کے مطابق یانگ یانگ میں تخت نشین ہوئے؛ انہوں نے شاہی اقتدار مضبوط کیا اور یولوف کی اسلامی تشکیل جاری رکھی — جہاں پرانے سیدو بادشاہ اسلام کو خطرہ سمجھتے تھے — اور دارالحکومت یانگ یانگ کو قلعہ بند کیا۔ 2 1 ان کے پیشرو کا نام دونوں مضامین میں مختلف ہے — انگریزی میں سانور ندیائے اور فرانسیسی میں امادو شیخو با — اس لیے اس اختلاف پر جانشینی کا رشتہ نہیں بنایا گیا۔ 1 2 فرانسیسی مضمون ان کا 1885ء میں فرانسیسیوں سے معاہدہ اور بیٹے کو یرغمالیوں کے اسکول بھیجنے سے انکار بھی درج کرتا ہے؛ وہ لات دیور کی وفات (1886ء) تک فرانسیسیوں کے خلاف ان کی حمایت کرتے رہے۔ 2 3

    مشرق کا سفر اور وفات

    یولوف گرنے (1890ء) کے بعد انہوں نے سیگو (توکولور) سلطنت کے احمدو تال سے رابطہ کیا، اکتوبر 1890ء میں نیورو دو ساحل میں ان سے جا ملے اور 3 جنوری 1891ء کو احمدو کی فوج کی قیادت کر کے فرانسیسیوں کو اتنی دیر روکا کہ احمدو بچ نکلے۔ 1 2 پھر دونوں برسوں مشرق کی طرف بڑھے: البوری نے 1893ء میں بانڈیاگارا سے احمدو کے انخلا کی حفاظت کی اور سوکوٹو کی طرف ان کے ہم سفر رہے۔ 1 ان کی وفات 1901ء میں نائجر کے دوسو میں ہوئی، اس پر دونوں مضامین متفق ہیں؛ طریقِ وفات مختلف ہے: انگریزی مضمون کے مطابق وہ دوسو میں فرانسیسیوں سے لڑتے ہوئے قتل ہوئے (چارلس، ص 127–130)، جبکہ فرانسیسی مضمون مقامی روایت نقل کرتا ہے کہ وہ کالاکالا میں ایک بچے کے زہر آلود تیر سے مارے گئے اور ان کا کٹا بازو دوسو لا کر وہاں کی عظیم مسجد میں جرماکوئے کے محل کے سامنے دفن کیا گیا۔ 1 2

    آرا اور تنقید

    یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مختلف مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔

    ماخذ ان کی پُرعزم مزاحمت اور یولوف کے 1890ء تک آخری آزاد ریاست رہنے پر متفق ہیں۔ 1 عقیدہ کے بارے میں دونوں مضامین کے خانے ان کا مذہب صرف «اسلام» لکھتے ہیں اور دونوں ان کے قبولِ اسلام، مرابط کے خاندان میں شادی اور بطور حکمران اسلامی تشکیل کی پالیسی بیان کرتے ہیں؛ قبولِ اسلام، شادی اور اسلمہ سازی کی پالیسی عمل اور ریاستی تدبیر ہیں، شخص کے مسلک یا سلسلے کی شہادت نہیں، اور کوئی مضمون ان کے لیے کوئی سلسلہ نہیں بتاتا۔ 1 2 لہٰذا دو ماخذی قاعدے اور شک کے قاعدے کے تحت ڈیٹا اندراج میں ان کی عقیدہ غیر درجہ بند ہے۔ 1 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Allied with
    احمدو تال· لات دیور

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الحاج عمر الفوتي تال· ممدو لامین درامے· احمدو تال· لات دیور

    ماخذ

    1. Alboury Ndiaye — English Wikipedia
    2. Alboury Ndiaye — French Wikipedia
    3. Lat Dior — French Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “البوری ندیائے”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/alboury-ndaye/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الحاج عمر الفوتي تال

    Draft card for al-Hajj Umar ibn Sa'id al-Futi Tal, the Tijani mujahid and Toucouleur scholar who founded a state in West Africa; he died in 1864 and his entry is not yet checked on the page.