ایک نظر میں
- کردار
- عالم · جرنیل
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (منقول)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
الحاج ممدو لامین درامے (محمد الامین؛ ولادت 1835ء اور 1840ء کے درمیان – وفات 9 دسمبر 1887ء) موجودہ مالی کے کایس کے قریب گونڈیورو سے تعلق رکھنے والے سوننکے مرابط اور مسلمان عالم تھے۔ 1 2 1885ء تا 1887ء انہوں نے فرانسیسی استعماری حکومت کے خلاف بغاوتوں کی قیادت کی اور بالائی سینیگال پر سوننکے ریاست بنانے کی کوشش کی۔ 1 اپریل 1886ء میں انہوں نے باکیل کے فرانسیسی قلعے کا محاصرہ کیا اور بولیبانی اور سینودےبو لیے، پھر دیانا اور توباکوتا میں شکست کھائی، فولاڈو کے بادشاہ موسیٰ مولو کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور واپسی کے راستے میں زخموں سے وفات پا گئے۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ کایس کے قریب گونڈیورو میں پیدا ہوئے؛ دونوں مضامین کی تمہیدیں ان کی ولادت 1835ء اور 1840ء کے درمیان بتاتی ہیں (فشر 1970ء اور نیامبارزا 1969ء کے حوالے سے)، جبکہ فرانسیسی خانہ 1840ء اور انگریزی خانہ تقریباً 1835ء دیتا ہے۔ 1 2 انہوں نے پہلے اپنے والد — قاضی اور قرآن کے استاد — سے، پھر کازامانس اور باکیل میں تعلیم پائی۔ 1 ان کی جوانی کی روایت دونوں مضامین میں مختلف ہے: فرانسیسی مضمون کے مطابق وہ جوانی میں اسیر ہوئے، الحاج عمر کی فوج میں شامل رہے اور مکہ و قسطنطنیہ میں دس برس دینی جلاوطنی گزاری، جبکہ انگریزی مضمون فشر کی تحقیق پر مبنی ہے۔ 2 1 انگریزی مضمون ان کا حج 1864ء اور 1874ء کے درمیان بتاتا ہے۔ 1
بغاوت اور وفات
حج سے واپسی پر الحاج عمر کے بیٹے احمدو تال نے انہیں قید کر دیا یہاں تک کہ 1885ء میں تال کے بیٹے مدنی نے انہیں رہا کیا۔ 1 رہائی کے بعد انہوں نے 1886ء–1887ء میں فرانسیسیوں کے خلاف بغاوتوں کی قیادت کی اور اپریل 1886ء میں باکیل کے قلعے پر حملہ کیا۔ 1 2 توباکوتا 8 دسمبر 1887ء کو گرنے پر وہ زخمی حالت میں موسیٰ مولو کی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور 9 دسمبر 1887ء کو واپسی کے راستے میں زخموں سے وفات پا گئے؛ انگریزی مضمون کا خانہ 12 دسمبر دیتا ہے، جو فرانسیسی روایت میں ان کی میت کے تیسرے دن تک محل پر رہنے کی تاریخ ہے۔ 2 1 ان کے بیٹے صویبو نے گوری کے قلعے میں احمدو تال کے پانچ ماہ کے محاصرے (دسمبر 1887ء – مارچ 1888ء) کا مقابلہ کیا اور قلعہ گرنے پر قتل ہوئے۔ 1
آرا اور تنقید
یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مختلف مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔
انگریزی مضمون کی تمہید انہیں بغیر حوالے کے «تیجانی مرابط» کہتی ہے اور فولا مضمون اسی جملے کا ترجمہ دہراتا ہے، اس لیے یہ دوسری شہادت نہیں۔ 1 اس کے پیچھے ایک ہی ماخذ خاندان ہے — فشر (1970ء) — جو ایک زبانی روایت بھی نقل کرتا ہے کہ 1886ء میں باکیل میں انہوں نے گیارہ دانوں والے تیجانی ذکر کی تبلیغ کی؛ بعد کی تیجانی تاریخِ تحقیق اسے تقریباً یقینی غلط زمانی (anachronism) کہتی ہے۔ 1 فرانسیسی مضمون (نیامبارزا 1969ء کے ذریعے فرانسیسی آرکائیو پر مبنی) انہیں مسلمان عالم اور عسکری رہنما کہتا ہے اور کوئی سلسلہ نہیں بتاتا؛ جوانی میں الحاج عمر کی خدمت ماحول کی قرینہ ہے، ذاتی شہادت نہیں۔ 2 لہٰذا ڈیٹا اندراج میں ان کی عقیدہ غیر درجہ بند ہے اور تیجانی دعویٰ ایک ہی ماخذ خاندان کی روایت کے طور پر درج ہے۔ 1 2
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
- Opposed
- احمدو تال
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Mahmadu Lamine — English Wikipedia
- Mamadou Lamine Dramé — French Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ممدو لامین درامے”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mamadou-lamine-drame/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.