المیاسہ بنت حمد آل ثانی

لوگ زندہ اسلام

المياسة بنت حمد آل ثاني

†

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

المیاسہ بنت حمد آل ثانی ⁦(پیدائش 29 ستمبر 1983)⁩ قطر میوزمز کی چیئرپرسن ہیں، قطر کے سابق امیر حمد بن خلیفہ آل ثانی کی صاحبزادی اور موجودہ امیر تمیم بن حمد آل ثانی کی بہن۔ 2005 میں ڈیوک یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے فلاحی تنظیم «ریچ آؤٹ ٹو ایشیا» قائم کی اور 2010 میں دوحہ فلم انسٹیٹیوٹ کی بنیاد رکھی۔ انھیں عالمِ فن کی بااثر ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کی نگرانی میں قطر میوزمز نے ریکارڈ خریداریاں کیں، جن میں 2015 میں گوگین کی مصوری «کب شادی کرو گی؟» کی خرید بھی شامل ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سرپرست · activist
خطہ
arabia
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الرحمن بدوي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں

    عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات1983

    Summary

    المیاسہ بنت حمد آل ثانی (پیدائش 29 ستمبر 1983) قطر میوزمز کی چیئرپرسن ہیں، قطر کے سابق امیر حمد بن خلیفہ آل ثانی کی صاحبزادی اور موجودہ امیر تمیم بن حمد آل ثانی کی بہن۔ 2005 میں ڈیوک یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے فلاحی تنظیم «ریچ آؤٹ ٹو ایشیا» قائم کی اور 2010 میں دوحہ فلم انسٹیٹیوٹ کی بنیاد رکھی۔ انھیں عالمِ فن کی بااثر ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کی نگرانی میں قطر میوزمز نے ریکارڈ خریداریاں کیں، جن میں 2015 میں گوگین کی مصوری «کب شادی کرو گی؟» کی خرید بھی شامل ہے۔ 1 2

    Life

    المیاسہ 29 ستمبر 1983 کو پیدا ہوئیں؛ انگریزی مضمون کا معلوماتی خانہ جنیوا کو ان کی جائے پیدائش بتاتا ہے جبکہ عربی مضمون کا خانہ دوحہ بتاتا ہے۔ 1 3 ان کے والد حمد بن خلیفہ آل ثانی 1995 سے 2013 تک قطر کے امیر رہے اور والدہ موزا بنت ناصر المسند ان کی دوسری اہلیہ ہیں۔ 1 انھوں نے 2005 میں ڈیوک یونیورسٹی سے سیاسیات و ادب میں بی اے کیا اور 2003–2004 میں پیرس میں تعلیم حاصل کی۔ 1 6 جنوری 2006 کو ان کی شادی اپنے چچا زاد جاسم بن عبدالعزیز آل ثانی سے ہوئی؛ ان کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ 1

    Work

    فارغ ہونے پر المیاسہ نے «ریچ آؤٹ ٹو ایشیا» قائم کی، جو ایشیا میں قدرتی آفات کے متاثرین کو معیاری تعلیم فراہم کرنے والی فلاحی تنظیم ہے۔ 1 قطر میوزمز کی چیئرپرسن کے طور پر انھوں نے ایک ارب ڈالر سالانہ کے قریب بجٹ کے حصولی پروگرام کی قیادت کی؛ ان خریداریوں میں 2012 میں سیزان کی «تاش کے کھلاڑی» 250 ملین ڈالر میں اور 2015 میں گوگین کی «کب شادی کرو گی؟» 300 ملین ڈالر میں شامل ہیں، جو اس وقت کسی مصوری کی ریکارڈ قیمت تھی۔ 3 انھوں نے 2010 میں دوحہ فلم انسٹیٹیوٹ قائم کیا، 2018 میں شروع ہونے والے «فیشن ٹرسٹ عربیہ» کی شریک صدر ہیں، قطر فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی رکن ہیں اور 2021 میں ایجوکیشن ابو آل فاؤنڈیشن کی نائب صدر بنیں۔ 1 انھیں آرٹ ریویو کی «پاور 100» اور ٹائم 100 میں شامل کیا گیا، اور دسمبر 2023 میں انھوں نے اپنا پوڈکاسٹ «ثقافت کی طاقت» شروع کیا۔ 1

    Sources

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    حمد بن خلیفہ آل ثانی
    Member of
    آل ثاني

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    تمیم بن حمد آل ثانی· آل ثاني· حمد بن خلیفہ آل ثانی· عبداللہ بن جاسم الثانی· جاسم بن محمد الثانی· محمد بن عبدالرحمن آل ثانی

    ماخذ

    1. Al-Mayassa bint Hamad Al Thani — English Wikipedia
    2. Al-Mayassa bint Hamad Al Thani — Wikidata
    3. Al-Mayassa bint Hamad Al Thani — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “المیاسہ بنت حمد آل ثانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/al-mayassa-al-thani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-06.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    تمیم بن حمد آل ثانی

    تمیم بن حمد آل ثانی ⁦(پیدائش 3 جون 1980ء)⁩ 25 جون 2013ء سے قطر کے امیر ہیں، مملکت کے آٹھویں امیر اور تخت نشینی کے وقت دنیا کے کم عمر ترین بادشاہوں میں سے ایک۔ برطانیہ میں تعلیم پائی اور 1998ء میں سینڈہرسٹ سے فارغ ہوئے، 2003ء میں اپنے بڑے بھائی جاسم کے دستبردار ہونے پر ولی عہد بنے، پھر والد کی دستبرداری سے امیر ہوئے۔ ان کے دور میں 2022ء فیفا عالمی کپ، 2017ء تا 2021ء سفارتی بحران اور 2021ء میں مجلسِ شوریٰ کے پہلے انتخابات ہوئے۔