احمد آغا اوغلو

أحمد آغا أوغلي

–

إسطنبول

آذربائجانی-ترک مصنف، سیاست دان اور حقوق دان (1869–1939)، شوشا میں پیدا ہوئے اور سینٹ پیٹرزبرگ اور پیرس میں پڑھے۔ باکو میں «حیات» اور «ارشاد» اخبارات کی ادارت کی، خفیہ جماعت «دفاعی» بنائی، پھر استنبول گئے اور مالٹا جلاوطن ہوئے، بعد میں ترک قومی اسمبلی کے رکن اور اتاترک کے مشیر رہے؛ وہ لبرل کیمالزم کے بانی اور 1930 کی آزاد جمہوری جماعت کے نظریہ ساز تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · صحافی · writer · فقیہ
خطہ
anatolia-balkans
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: عبد القادر المغربي · عبدالمجید ثانی · عبد الرشید ابراہیم · اللہ دیا خان · اشرف علی تھانوی

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    احمد آغا اوغلو (دسمبر 1869 – 19 مئی 1939)، پیدائشی نام احمد آغاییف، آذربائجانی-ترک مصنف، حقوق دان اور سیاست دان تھے، لبرل کیمالزم کے بانی۔ 1 2 پیٹرزبرگ اور پیرس میں پڑھے، باکو کے اخبارات «حیات» اور «ارشاد» کی ادارت سے آذری قومی بیداری کی قیادت کی، 1905 میں خفیہ جماعت «دفاعی» بنائی، استنبول گئے تو برطانیہ نے مالٹا جلاوطن کیا؛ پھر ترک قومی اسمبلی کے رکن اور اتاترک کے مشیر رہے اور 1930 کی آزاد جمہوری جماعت کے نظریہ ساز ہوئے۔ 1 2

    زندگی و کیریئر

    وہ قاراباغ کے شہر شوشا میں ایک امیر کپاس فروش اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے؛ چچا انہیں مجتہد بنانا چاہتا تھا مگر والدہ نے روسی تعلیم کی طرف رہنمائی کر کے ان کا رُخ نجف و کربلا سے پیٹرزبرگ و پیرس کی طرف موڑ دیا۔ 1 2 8 جنوری 1888 کو پیرس پہنچے، کالج دے فرانس میں رینان اور دارمستتر کو سنا، اور 1889 سے سوربون میں قانون پڑھا؛ 1891–1893 میں «فارسی معاشرہ» سلسلہ شائع کیا۔ 1 1894 میں لوٹ کر شوشا میں فرانسیسی پڑھائی، 1897 میں باکو جا کر «کاسبی» میں لکھا اور «حیات» میں کام کیا؛ 1905 میں «حیات» کو باکو کا پہلا ترک اخبار بنایا، پھر «ارشاد» و «ترقی» نکالے، اور خفیہ «دفاعی» جماعت بنائی؛ تعاقب سے بچنے کے لیے 1908 کے آخر میں استنبول منتقل ہوئے، جہاں سلیمانیہ کتب خانے کے مدیر، «ترک یوردو» کے معاون اور استنبول یونیورسٹی کے استاد رہے۔ 1 2

    1918 میں قفقاز کی اسلامی فوج کے کماندار کے سیاسی مشیر رہے، آذربائیجان جمہوریہ کی پارلیمان کے لیے منتخب ہوئے (بعد میں نشست چھوڑ دی)، پیرس امن کانفرنس کے وفد میں شامل ہوئے، اور استنبول پہنچنے پر برطانویوں نے گرفتار کر کے مالٹا بھیج دیا۔ 1 3 وطن لوٹ کر انقرہ میں پریس اطلاعات کے دفتر کے سربراہ، «حاکمیتِ ملیہ» کے مدیر، قومی اسمبلی کے رکن اور اتاترک کے مشیرِ امورِ خارجہ رہے؛ 1930 میں آزاد جمہوری جماعت کے نظریہ ساز ہوئے اور اس کے بند ہونے پر فعال سیاست سے کنارہ کش ہو گئے۔ 1 2 19 مئی 1939 کو استنبول میں وفات پائی؛ جنازہ تشویقیہ مسجد لے جایا گیا اور نمازِ جنازہ کے بعد فریکوئے قبرستان میں اہلیہ کے پہلو میں دفن ہوئے۔ 1

    کام

    ان کی کتابوں میں «اسلامی دنیا میں عورت» (1901)، «تین تہذیبیں» (1927)، «انگلستان و ہندوستان» (1929)، «آزاد لوگوں کے ملک میں» (1930)، «دولت و فرد» (1933)، «میں کیا ہوں» (1939) اور بعد از وفات شائع «آزاد جماعت کی یادیں» (1949) شامل ہیں۔ 1

    موقف و نقد

    یہ قسم مآخذ کی روایت کردہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    انہوں نے خود کو اصلاح پسند اور کیمالسٹ کہتے ہوئے لبرل کیمالزم کی بنیاد رکھی، اور ثقافتی و تعلیمی ترقی کو قومی آزادی کا بڑا حصہ اور خواتین کی آزادی کو جدوجہد کا جزو سمجھا۔ 1 انگریزی مقالہ ریمان کیفورکیان کے حوالے سے انہیں دونمہ خاندان کی نسل بتاتا ہے — یہ ایک عالم کا ان کے آبا کے بارے میں دعویٰ ہے، ان کی اپنی شہادت نہیں — اور چچا کی مجتہد سازی کی خواہش اور قاراباغ کا شیعی رجحان رکھنے والا ماحول ان کی پرورش ہے؛ کوئی ماخذ ان کے لیے بذاتِ خود مکتب کا نام نہیں لیتا، اس لیے مذہب «نامعلوم» درج ہے۔ 1 2 4

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہو اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا

    ماخذ

    1. Ahmet Ağaoğlu — English Wikipedia
    2. Ahmet Ağaoğlu — Turkish Wikipedia
    3. Ahmet Ağaoğlu — Arabic Wikipedia
    4. Ahmet Ağaoğlu — Wikidata Q401773
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد آغا اوغلو”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmet-agaoglu/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع العرب بإسطنبول

    Draft card for Arap Camii (the Arab Mosque) in Galata, Istanbul, the former Latin church converted to a mosque and known for its pier-supported minaret; per the cited architecture survey, the page not yet checked.