سردار عبدالرب نشتر

عبد الرب نشتر

–

پاکستانی ناشطِ آزادی و سیاست دان (1899ء–1958ء) جن کا تعلق پشاور سے تھا؛ پاکستان کے پہلے وزیر مواصلات (1947ء–1949ء) اور پھر مغربی پنجاب کے دوسرے گورنر (1949ء–1951ء)، اور مسلم لیگ میں محمد علی جناح کے معتمد۔ 1956ء سے کراچی میں دل کے دورے سے اپنی وفات (1958ء) تک مسلم لیگ کے صدر رہے اور مزارِ قائد میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس محمود العقاد · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد الحي عارفي · عبد الحمید خان بھاشانی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سردار عبدالرب نشتر (13 جون 1899ء – 14 فروری 1958ء) پاکستانی ناشطِ آزادی و سیاست دان تھے، جن کا تعلق صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) سے تھا اور جو مسلم لیگ میں محمد علی جناح کے معتمد تھے۔1 وہ پاکستان کے پہلے وزیر مواصلات (1947ء–1949ء)، مغربی پنجاب کے دوسرے گورنر (1949ء–1951ء)، اور 1956ء سے وفات تک مسلم لیگ کے صدر رہے۔2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 13 جون 1899ء کو پشاور میں کاکڑ پشتون قبیلے کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد مولوی عبدالحنان برطانوی راج کے مخالف معروف شخصیت تھے۔2 مشن اسکول، سناتن دھرم اسکول اور ایڈورڈز کالج پشاور سے تعلیم پانے کے بعد انھوں نے 1923ء میں جامعہ پنجاب سے بی اے اور 1925ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعزاز کے ساتھ ایل ایل بی کیا۔1 انگریزی مضمون انھیں گہری مذہبی عقیدت اور اسلامی تصوف میں گہری دلچسپی رکھنے والا بیان کرتا ہے، جس میں والدین اور ساتھی محمد علی جوہر کا اثر تھا؛ جوہر کے ساتھ انھوں نے 1919ء–1920ء کی تحریک خلافت میں حصہ لیا۔2 کوئی ماخذ ان کا مسلک نہیں بتاتا، اور ان کے ریکارڈ میں بھی کوئی مسلک درج نہیں۔3

    سیاسی زندگی

    وہ 1932ء–1936ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کے رکن، 1937ء–1945ء میں صوبہ سرحد کی اسمبلی کے رکن — 1943ء–1945ء میں صوبے کے وزیر خزانہ — اور 1944ء–1947ء میں لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے رکن رہے اور 1945ء کی شملہ کانفرنس میں لیگ کی نمائندگی کی۔2 آزادی کے بعد وہ پاکستان کے پہلے وزیر مواصلات بنے اور پاکستان ریلویز و محکمہ ڈاک میں اردو کے استعمال کو رواج دیا؛ اگست 1949ء میں وہ مغربی پنجاب کے گورنر مقرر ہوئے — اس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے پاکستانی — اور نومبر 1951ء تک رہے۔1

    مخالفت و لیگ کی قیادت

    لیاقت علی خان کے قتل کے بعد وزارت عظمیٰ کے سنجیدہ امیدوار سمجھے جانے کے باوجود وہ خواجہ ناظم الدین کی حکومت کی برطرفی پر حکومت سے الگ ہو گئے، کیونکہ اسے غیر جمہوری اقدام سمجھتے تھے۔2 1956ء میں، پہلے آئین کی منظوری کے سال، وہ صدر اسکندر مرزا کی خواہش کے خلاف مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے اور وفات تک اس عہدے پر رہے۔4

    وفات و ورثہ

    14 فروری 1958ء کو کراچی میں دل کے دورے سے ان کا انتقال ہوا اور وہ مزارِ قائد میں جناح کے مزار کے قریب دفن ہوئے۔2 ان کے نام پر ملتان میں نشتر میڈیکل کالج و نشتر ہسپتال، پشاور میں نشتر ہال، کراچی میں نشتر پارک و نشتر روڈ ہیں، اور 1990ء میں پاکستان پوسٹ نے «Pioneers of Freedom» سلسلے میں ان کا یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔2

    حوالہ جات

    {1} {2} {4} {3}

    ماخذ

    1. Abdur Rab Nishtar — Urdu Wikipedia
    2. Abdur Rab Nishtar — English Wikipedia
    3. Abdur Rab Nishtar — Wikidata Q3695566
    4. Abdur Rab Nishtar — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سردار عبدالرب نشتر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdur-rab-nishtar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔