عبد الرحمٰن السدیس

عبد الرحمن السديس

1984 سے مسجد حرام کے امام و خطیب اور 2023 سے مسجد حرام و مسجد نبوی کے دینی امور کے صدر (اس سے قبل 2012 سے امورِ حرمین کے صدرِ عام)؛ دنیا کے مشہور ترین قراء میں سے ہیں۔ بارہ سال کی عمر میں قرآن حفظ کیا، 1995 میں جامعہ ام القریٰ سے شریعت میں ڈاکٹریٹ حاصل کی، اور 2005 میں دبئی بین الاقوامی قرآن ایوارڈ کی اسلامی شخصیت قرار پائے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
reciter · عالم · teacher
خطہ
arabia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عبد الرحمٰن بن عبد العزیز بن عبد اللہ بن محمد السدیس 1984 سے مسجد حرام کے امام و خطیب ہیں اور 2023 سے مسجد حرام و مسجد نبوی کے دینی امور کے صدر، وزیر کے درجے پر؛ اس سے قبل 2012 سے 2023 تک وہ امورِ حرمین کے صدرِ عام رہے۔ دنیا کے مشہور ترین قراء میں سے ہیں اور 2005 میں دبئی بین الاقوامی قرآن ایوارڈ کی اسلامی شخصیت قرار پائے۔12

    پیدائش اور تعلیم

    عربی مقالہ، الشاملہ لائبریری اور ان کی سرکاری ویب سائٹ کے حوالے سے، ان کی پیدائش القصیم کے شہر البکیریہ میں جمعرات 25 جمادی الآخرہ 1382ھ، 22 نومبر 1962، لکھتا ہے، اور وکی ڈیٹا بھی یہی تاریخ و مقام دیتا ہے۔ تاہم اردو مقالہ اور فرانسیسی مقالے کا متن ایک مختلف روایت دیتا ہے: 10 فروری 1960، ریاض؛ اور انگریزی مقالے کا خانہ 23 نومبر 1963 دیتا ہے۔ عجائب گھر 22 نومبر 1962 کو «متنازع» کی حیثیت سے اختلاف سمیت درج کرتا ہے۔2314

    وہ ریاض میں پلے بڑھے، المثنیٰ بن حارثہ اسکول اور ریاض سائنٹیفک انسٹی ٹیوٹ سے 1979 میں ممتاز نمبروں کے ساتھ فارغ ہوئے، اور بارہ سال کی عمر میں ریاض کی تحفیظ جماعت میں قرآن حفظ کر لیا۔ 1983 میں شریعت کی ڈگری، 1987 میں جامعہ امام محمد بن سعود سے اصولِ فقہ میں ماسٹرز، اور 1995 میں جامعہ ام القریٰ سے ڈاکٹریٹ حاصل کی؛ ان کا مقالہ ابن عقیل حنبلی کی «الواضح فی اصول الفقہ» کی تحقیق تھا۔ بعد میں وہ ام القریٰ میں اصولِ فقہ کے پروفیسر بنے۔25

    مسجد حرام کی امامت

    1404ھ میں وہ امام و خطیب مقرر ہوئے اور 22 شعبان 1404ھ کو عصر کی نماز سے آغاز کیا؛ بائیس سال کی عمر میں وہ حرم کے سب سے کم عمر امام تھے اور اب سب سے قدیم ہیں۔ برسوں وہ سعود الشریم کے ساتھ تراویح پڑھاتے رہے اور یہ جوڑی «حرم کے جڑواں» کہلائی۔ 2016 میں انہوں نے عرفات میں حج کا خطبہ دیا۔ 8 مئی 2012 کو شاہی فرمان سے وہ وزیر کے درجے پر امورِ حرمین کے صدرِ عام مقرر ہوئے، اور اگست 2023 میں نظام کی تنظیمِ نو پر نئی دینی امور کی صدارت کے پہلے صدر بنے۔ وہ مکہ کی عربی زبان اکیڈمی کے رکن بھی ہیں۔25

    اعزازات اور سفر

    2005 میں دبئی بین الاقوامی قرآن ایوارڈ نے انہیں نویں اسلامی شخصیت قرار دیا۔ 2010 سے 2012 کے درمیان انہوں نے ہندوستان، پاکستان، ملائیشیا اور برطانیہ کے دورے کیے، اور 2017 میں فلم «حرم میں ایک دن» کی نگرانی کی۔52

    آراء اور ان کا ردِّ عمل

    یہ حصہ ماخذوں میں مذکور مواقف بیان کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    انگریزی مقالہ بتاتا ہے کہ انہوں نے دھماکوں اور دہشت گردی کی مخالفت کی تبلیغ کی، نوجوانوں کو خودکشی اور غیر مسلموں پر حملے کی حرمت سکھانے کی تلقین کی، اور کہا کہ اسلام میں انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی گنجائش نہیں؛ جون 2004 میں انہوں نے لندن میں دس ہزار افراد کے ساتھ بین المذاہب امن کی نماز پڑھائی۔ مقالہ تنقید بھی نقل کرتا ہے: بی بی سی کے پروگرام «پینوراما» اور ٹیلی گراف نے ان کے ان خطبات کا حوالہ دیا جن میں انہوں نے یہودیوں کی شدید مذمت کی، اور 2015 میں انہوں نے ایران کے ساتھ تنازع کو سنی و شیعہ جنگ قرار دیا۔ ستمبر 2020 کے ایک خطبے میں ان کا لہجہ بدلا اور انہوں نے یہودیوں سے حسنِ سلوک کی تلقین کی۔ دولتِ اسلامیہ نامی تنظیم نے انہیں قتل کیے جانے والے علماء کی فہرست میں شامل کیا۔5

    ایمانی ریکارڈ

    عجائب گھر ان کا مذہب نامعلوم درج کرتا ہے۔ انگریزی مقالے کے خانہ معلومات میں ان کا فرقہ سنی، عقیدہ اثری، فقہ حنبلی اور تحریک سلفی درج ہے، سب بلا حوالہ؛ فرانسیسی خانہ سنی دیتا ہے؛ عربی مقالے کے زمرے انہیں حنبلیوں اور سعودی سلفیوں میں رکھتے ہیں؛ اردو مقالہ اور وکی ڈیٹا صرف اسلام دیتے ہیں۔ کوئی مقالہ متن میں ان کے لیے کوئی مکتب نامزد نہیں کرتا، اور ان کی امامت و صدارتیں مناصب ہیں، جو کبھی مذہب ثابت نہیں کرتے۔ خانے اور زمرے ایک ہی منظم روایت ہیں، دو آزاد شہادتیں نہیں۔123

    ماخذ

    • اوپر مذکور متعین ماخذ اکائیاں، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مقالے کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہونی چاہیے اور ہر واقعہ بدلنے والے ماخذ کا نام دینا چاہیے۔

    ماخذ

    1. Abdul Rahman Al-Sudais — Urdu Wikipedia
    2. Abdul Rahman Al-Sudais — Arabic Wikipedia
    3. Abdul Rahman Al-Sudais — Wikidata Q317948
    4. Abdul Rahman Al-Sudais — French Wikipedia
    5. Abdul Rahman Al-Sudais — English Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبد الرحمٰن السدیس”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdul-rahman-al-sudais/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔