ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · معمار
- خطہ
- maghreb
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور کاروباری زندگی
وہ مغربی شہر مصراتہ میں پیدا ہوئے۔ انگریزی مضمون ان کی پیدائش «تقریباً 1959» دیتا ہے اور عربی مضمون کی سرخی 1959 دیتی ہے، جبکہ اردو مضمون 13 فروری 1958 دیتا ہے اور انگریزی مضمون کا مختصر تعارف بھی 1958 درج کرتا ہے؛ اس لیے ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں یہ سال متنازع درج ہے۔ 1 2 3 4
دبیبہ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 1992 میں یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے سول انجینئرنگ میں ماسٹرز کیا؛ یونیورسٹی نے اس کی تردید کی کہ ان کے پاس اس کی کوئی ڈگری ہے۔ یہ تردید دسمبر 2021 کے منصوبہ شدہ انتخابات سے پہلے سامنے آئی، جن کے لیے لیبیا کے انتخابی قانون میں تسلیم شدہ یونیورسٹی ڈگری شرط تھی۔ دعویٰ اور تردید دونوں یہاں ویسے ہی پیش ہیں جیسے ماخذ بیان کرتے ہیں۔ 1
وہ تعمیراتی تیزی کے دور میں مصراتہ واپس آئے اور معمر قذافی کا اعتماد حاصل کیا، جس نے انہیں لیبیا سرمایہ کاری و ترقی کمپنی (LIDCO) کا سربراہ بنایا — یہ سرکاری تعمیراتی کمپنی ملک کے بعض بڑے عوامی منصوبوں کی ذمہ دار تھی، جن میں قذافی کے آبائی شہر سرت میں ایک ہزار رہائشی مکانات شامل تھے۔ 2011 میں قذافی کے زوال کے بعد لیبیا کے عبوری حکام نے بدعنوانی پر ان پر پابندیاں لگائیں۔ وہ طرابلس کے الاتحاد فٹ بال کلب کے سربراہ بھی رہے۔ 1
وزیرِ اعظم
2020 میں انہوں نے لیبیا المستقبل تحریک قائم کی۔ 5 فروری 2021 کو اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں لیبیا کے سیاسی ڈائیلاگ فورم نے ان کی فہرست کو متحدہ عبوری انتظامیہ کی قیادت کے لیے منتخب کیا، جس میں محمد المنفی صدارتی کونسل کے سربراہ بنے؛ فہرست نے 39 ووٹ لیے، جو رقیب فہرست (عقیلہ صالح عیسیٰ اور فتحی باشاغا) سے پانچ زیادہ تھے۔ دبیبہ نے 15 مارچ 2021 کو فائز السراج کے جانشین کے طور پر عہدہ سنبھالا اور دفاع کا قلمدان بھی خود رکھا۔ ان کی حکومت 2014 کے بعد لیبیا کی پہلی متحدہ حکومت تھی، اور 24 دسمبر 2021 کے مقررہ انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو گئے؛ اکتوبر 2026 تک وہ اب بھی نہیں ہوئے۔ 1 2
10 فروری 2022 سے ان کی حیثیت متنازع ہے، جب ایوانِ نمائندگان نے فتحی باشاغا کو رقیب وزیرِ اعظم منتخب کیا؛ دبیبہ نے منتخب حکومت کے سوا اقتدار منتقل کرنے سے انکار کیا، اور اقوامِ متحدہ انہیں عبوری وزیرِ اعظم تسلیم کرتی رہی۔ اسی دن وہ ایک قاتلانہ حملے میں بچ گئے، جب مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ مئی 2023 سے اسامہ حماد کی قومی استحکام کی رقیب حکومت ان کے اختیار کو چیلنج کر رہی ہے۔ جنوری 2024 میں انہوں نے ملک کے عدم استحکام کے حل کے طور پر محمد السنوسی کی قیادت میں لیبیائی بادشاہت کی بحالی کی دعوت دی۔ 1
تنقید
ماخذ ان پر یہ الزامات نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے چچا زاد، تاجر علی الدبیبہ کے ذریعے ڈائیلاگ فورم کے بعض مندوبین کو رشوت دینے کی کوشش کی — علی الدبیبہ ان کے چچا زاد اور برادرِ نسبتی ہیں، مصراتہ کے سابق میئر اور LIDCO کے سابق سربراہ، جن پر 2012 میں پابندیاں لگیں اور اندازہ لگایا گیا کہ انہوں نے LIDCO کے معاہدوں سے سات ارب ڈالر تک غبن کیا۔ لیبیا میں مقیم ایک سابق آسٹریائی سفارت کار وولف گانگ پوشتائی نے دبیبہ کی ساکھ کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے متنازع قرار دیا اور «بدعنوانی، منی لانڈرنگ، اخوان المسلمین کی مالی معاونت، ووٹ خریداری» کے الزامات گنوائے، ساتھ یہ نوٹ کیا کہ 2021 کی سیاست میں سچائی سے زیادہ تاثرات اہم تھے۔ یہ نقل شدہ مواقف ہیں، عجائب گھر کی تحقیقات نہیں۔ 1
مذہب
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
- Born in
- مصراتة
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Abdul Hamid Dbeibeh — English Wikipedia
- Abdul Hamid Dbeibeh — Arabic Wikipedia
- Abdul Hamid Dbeibeh — Urdu Wikipedia
- Abdul Hamid Dbeibeh — Wikidata Q105319569
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “عبدالحمید دبیبہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdul-hamid-dbeibeh/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.