ایک نظر میں
- دور
- عصر الخلفاء الراشدين
- خطہ
- global
- جائزہ
- مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
جائزہ
محمد الخضر حسین «الحریۃ فی الاسلام» میں حرمتِ خون کو خود آزادی کا حصہ قرار دیتے ہیں: امت ایک جسم ہے اور کسی فرد کا خون بہانا نس کاٹنے کے مترادف، اور قاتل سے قصاص اسی فصد کی طرح جو فسادِ خون کو سارے اعضا میں پھیلنے سے روکے 1۔ قصاص خون ریزی کو روکتا ہے اور اس شخص کی جان بچاتا ہے جو انتقام میں مارا جاتا؛ احکام احتیاط پر قائم ہوئے تاکہ بدکاروں کو خون برباد کرنے کا بہانہ نہ ملے 1 2۔ صحابہ کا اتفاق نقل کرتے ہیں کہ ایک قاتل کی خاطر جماعت قتل ہو سکتی ہے — عمر نے صنعاء کے سات آدمی ایک قتل پر قتل کیے — گویا قصاص مساوات کا متقاضی ہے۔
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
عدل اور فضل· بيت المال· أسباب التملك· الحرية الاقتصادية في الإسلام· المساواة في الإسلام· الحرية في الإسلام· الحرية في الأعراض· الحرية في الأموال
ماخذ
- الحرية في الإسلام — محمد الخضر حسين , p. 91
- الحرية في الإسلام — محمد الخضر حسين , p. 92
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “الحرية في الدماء”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/security-of-life-in-islam/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-22.