قیام اللیل (فقہی احکام)

قيام الليل (الأحكام الفقهية)

In the jurists' usage, the night vigil is spending part of the night in prayer or other worship. All schools count it recommended, under different names. Tahajjud is the prayer after sleep and is narrower. The subject covers the best time of night, the number of rak'at, the two light rak'at that open the vigil, waking one's family, whether to lengthen standing or multiply bowing and prostration, performing it in congregation, and the nights singled out for it: the two Eids, Ramadan, the first ten of Dhu al-Hijja and the middle of Sha'ban. 1 2 3 4

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

worship-and-the-pillars

خلاصہ

فقہ میں قیام اللیل یہ ہے کہ رات کا کچھ حصہ، اگرچہ ایک ساعت ہی ہو، نماز یا کسی اور عبادت میں گزارا جائے 1۔ تہجد اصطلاحاً نیند کے بعد رات کی نفل نماز ہے، اس لیے قیام اللیل اس سے عام ہے 1 2۔ تمام فقہاء اس کی مشروعیت پر متفق ہیں؛ حنفیہ اور حنابلہ کے نزدیک سنت، مالکیہ کے نزدیک مندوب اور شافعیہ کے نزدیک مستحب ہے 1۔

افضل وقت

جمہور کے نزدیک افضل رات کا چوتھا اور پانچواں سدس ہے، جیسا کہ عبد اللہ بن عمرو کی حدیث میں داؤد کے روزے اور قیام کا ذکر ہے 2۔ مالکیہ کے نزدیک جو شخص رات کے آخر میں جاگنے کا عادی ہو اس کے لیے آخری تہائی افضل ہے 3۔ شافعیہ اور حنابلہ پوری رات قیام کو مکروہ کہتے ہیں 2۔

رکعات کی تعداد اور کیفیت

دو ہلکی رکعات سے آغاز مستحب ہے 3۔ منتہائے رکعات میں حنفیہ آٹھ، مالکیہ دس یا بارہ، اور شافعیہ کے نزدیک کوئی حد نہیں 3۔ مالک، شافعیہ، ابو یوسف اور محمد کے نزدیک دو دو رکعت، جبکہ ابو حنیفہ کے نزدیک چار چار 5 6۔

ترکِ معمول

عادت کی ہوئی تہجد بلا عذر چھوڑنا مکروہ ہے 5۔

جماعت اور گھر میں

جمہور کے نزدیک نفل جماعت سے بھی جائز ہے اور انفرادی طور پر بھی، مگر تراویح کے علاوہ گھر میں پڑھنا افضل ہے 6۔ گھر میں خشوع میں خلل ہو تو مسجد میں اکیلے پڑھنا بہتر ہے 6۔

مخصوص راتیں

شب جمعہ، عیدین کی دونوں راتیں، رمضان کی راتیں (تراویح)، نصف شعبان اور ذوالحجہ کے پہلے دس دن کی راتوں کا قیام مستحب یا مسنون ہے، جس کی تفصیل متن میں مذکور ہے 6 4۔

مزید تفصیل

تفصیلی احکام کے لیے «إحياء الليل»، «تهجد» اور «صلاة التراويح» کے مواد دیکھے جائیں 5 4۔

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

حكم تارك الصلاة· أداء· اذان (نماز کی اطلاع: حکم، الفاظ، شرائط، سنتیں اور مؤذن کی صفات)· ہڈی (عظم)· خواہشات کی زینت اور دنیا کا متاع· اہل صفہ· الأرض مسجداً وطهوراً· الإنفاق في سبيل الله

ماخذ

  1. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.13135
  2. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.13136
  3. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.13137
  4. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.13141
  5. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.13138
  6. الموسوعة الفقهية الكويتية، نسخة نور بوك (ملف «v3») , p.13139
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “قیام اللیل (فقہی احکام)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/qiyam-al-layl-fiqh/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

حكم تارك الصلاة

Al-Sallabi quotes Ali: whoever does not pray is an unbeliever. He then reports from al-Nawawi the dispute over one who neglects prayer while believing it obligatory: the majority (Malik, al-Shafi'i) hold him a sinner to be asked to repent, others hold him an unbeliever, a view ascribed to Ali; Abu Hanifa and the Kufans hold him not an unbeliever but to be disciplined.