میراث

الميراث

شیخ عمر عبد الکافی وارث کو اس کی میراث سے محروم کرنے سے خبردار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو کسی وارث کو اس کی میراث سے روکے گا اللہ اسے قیامت کے دن جنت میں اس کی میراث سے روک دے گا (needs_source) 1۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ اللہ ہی نے حدود مقرر کیں، فرض حصے متعین کیے اور ترکے تقسیم کیے، اس لیے انسان کو ان کی تقسیم میں دخل دینے کا حق نہیں 1۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
global
جائزہ

law-and-courts

خلاصہ

شیخ عمر عبد الکافی وارث کو اس کی میراث سے محروم کرنے سے خبردار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو کسی وارث کو اس کی میراث سے روکے گا اللہ اسے قیامت کے دن جنت میں اس کی میراث سے روک دے گا (needs_source) 1۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ اللہ ہی نے حدود مقرر کیں، فرض حصے متعین کیے اور ترکے تقسیم کیے، اس لیے انسان کو ان کی تقسیم میں دخل دینے کا حق نہیں 1۔

شیخ عمر عبد الکافی کے تفسیری درس (قسط 2)

شیخ وارث کو اس کی میراث سے محروم کرنے سے خبردار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو کسی وارث کو اس کی میراث سے روکے گا اللہ اسے قیامت کے دن جنت میں اس کی میراث سے روک دے گا (needs_source) 1۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ اللہ ہی نے حدود مقرر کیں، فرض حصے متعین کیے اور ترکے تقسیم کیے، اس لیے انسان کو ان کی تقسیم میں دخل دینے کا حق نہیں، اور وہ یہ بھی یاد کرتے ہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو کسی مومن مرد یا عورت کو اختیار نہیں رہتا 1۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Based on
الموطأ 2213 — مالك: بلغه أن رجلا من الأنصار من بني الحارث بن الخزرج تصدق على أبويه بصدقة فهلكا، فورث ابنهما المال وهو نخل، فسأل النبي، فقال: قد أجرت في صدقتك وخذها بميراثك· الموطأ 2227 — مالك: أما أن يستأذن ورثته في وصية لوارث في صحته فيأذنون له، فإن ذلك لا يلزمهم، ولهم أن يردوه إن شاءوا، وإنما يكون استئذانه جائزا على الورثة إذا أذنوا له حين يحجب عنه ماله. ولا يجوز له شيء إلا في ثلثه. فإن سأل بعض ورثته أن يهب له ميراثه حين تحضره الوفاة فيفعل، ثم لا يقضي فيه الهالك شيئا، فإنه رد على من وهبه، إلا أن يقول له الميت فلان ضعيف، وقد أحببت أن تهب له ميراثك، فيعطيه ذلك، فإن ذلك جائز إذا سماه الميت له· الموطأ 2228 — مالك: فيمن أوصى بوصية وذكر أنه كان أعطى بعض ورثته شيئا لم يقبضه، فأبى الورثة أن يجيزوا ذلك: فإن ذلك يرجع إلى الورثة ميراثا على كتاب الله، لأن الميت لم يرد أن يقع شيء من ذلك في ثلثه· الموطأ 2586 — مالك: إذا قبل ولاة الدم الدية فهي موروثة على كتاب الله· الموطأ 2587 — مالك: كل وارث يحلف بقدر ميراثه من الخمسين يمينا لاستحقاق حقه من الدية

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

مالك بن أنس· الموطأ، كتاب الوصية· الموطأ، كتاب القسامة· الصدقة· الموطأ، كتاب الأقضية· الموطأ 2213 — مالك: بلغه أن رجلا من الأنصار من بني الحارث بن الخزرج تصدق على أبويه بصدقة فهلكا، فورث ابنهما المال وهو نخل، فسأل النبي، فقال: قد أجرت في صدقتك وخذها بميراثك· الموطأ 2227 — مالك: أما أن يستأذن ورثته في وصية لوارث في صحته فيأذنون له، فإن ذلك لا يلزمهم، ولهم أن يردوه إن شاءوا، وإنما يكون استئذانه جائزا على الورثة إذا أذنوا له حين يحجب عنه ماله. ولا يجوز له شيء إلا في ثلثه. فإن سأل بعض ورثته أن يهب له ميراثه حين تحضره الوفاة فيفعل، ثم لا يقضي فيه الهالك شيئا، فإنه رد على من وهبه، إلا أن يقول له الميت فلان ضعيف، وقد أحببت أن تهب له ميراثك، فيعطيه ذلك، فإن ذلك جائز إذا سماه الميت له· الموطأ 2228 — مالك: فيمن أوصى بوصية وذكر أنه كان أعطى بعض ورثته شيئا لم يقبضه، فأبى الورثة أن يجيزوا ذلك: فإن ذلك يرجع إلى الورثة ميراثا على كتاب الله، لأن الميت لم يرد أن يقع شيء من ذلك في ثلثه

ماخذ

  1. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Tafsir Al Quran Al Qareem، قسط 2, 00:23:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “میراث”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/mirath/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

مالك بن أنس

Imam of Medina and author of the Muwatta; born in Medina, he studied with its scholars and taught there until his death in 179 AH. The Maliki school of law bears his name.