غرور (فریبِ نفس)

الغرور

نفس کا اس چیز پر مطمئن ہو جانا جو خواہش کے موافق اور طبیعت کو مرغوب ہو، کسی شبہے اور شیطان کے فریب کی بنا پر؛ غزالی کے نزدیک یہ جہالت کی ایک قسم اور «بدبختیوں کی ماں» ہے۔ احیاء کے ربعِ مہلکات کی دسویں کتاب اسی پر ہے، جس میں فریب خوردہ لوگوں کی چار قسمیں ہیں: علما، عابد، صوفیہ اور مالدار 1 2۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة
خطہ
global

spirituality-and-sufismethics-and-character

خلاصہ

غزالی کے نزدیک غرور «نفس کا اس چیز پر مطمئن ہو جانا ہے جو خواہش کے موافق اور طبیعت کو مرغوب ہو، کسی شبہے اور شیطان کے فریب کی بنا پر»؛ جو کسی فاسد دلیل کی بنا پر یہ سمجھے کہ وہ دنیا یا آخرت میں بھلائی پر ہے وہ فریب خوردہ ہے۔ 2 یہ احیاء علوم الدین کے ربعِ مہلکات کی دسویں اور آخری کتاب ہے، اور غزالی اسے «بدبختیوں کی ماں اور مہلکات کا سرچشمہ» کہتے ہیں۔ 3 4 1

غرور جہالت کی ایک قسم

غزالی کی رائے میں علم کی فضیلت اور جہالت کی مذمت میں جو کچھ وارد ہے وہ غرور کی مذمت کی بھی دلیل ہے، کیونکہ غرور جہالت کی ایک قسم ہے: جہالت یہ ہے کہ کسی چیز کو اس کی حقیقت کے خلاف سمجھا جائے، اور غرور ایسی خاص جہالت ہے جس کا محرک خواہش اور ایسا شبہ ہو جسے صاحبِ شبہ دلیل سمجھے حالانکہ وہ دلیل نہیں۔ 5 2 وہ کہتے ہیں کہ اکثر لوگ فریب خوردہ ہیں، مختلف قسموں اور درجوں میں، اور سب سے واضح اور سخت غرور کفار کا، پھر گنہگاروں کا ہے۔ 2

شیطان کا قیاس: نقد اور ادھار

وہ دنیا سے دھوکا کھانے والوں کے غرور کی مثال ان کی اس دلیل سے دیتے ہیں: دنیا نقد ہے اور آخرت ادھار، اور نقد ادھار سے بہتر ہے؛ دنیا کی لذتیں یقینی ہیں اور آخرت کی مشکوک، اور یقین کو شک کی خاطر نہیں چھوڑا جاتا۔ وہ انہیں «فاسد قیاس» کہتے ہیں جو ابلیس کے قیاس سے مشابہ ہیں۔ 6 7 اس کا علاج یا تو تقلیداً ایمان کی تصدیق ہے، جیسے ضمام بن ثعلبہ نے نبی کی تصدیق کی، اور یہ «عوام کا ایمان» ہے جو غرور سے نکال دیتا ہے، یا برہان کے ذریعے معرفت۔ 7 8

پھر وہ اس قیاس کو کھولتے ہیں: پہلا مقدمہ «دنیا نقد اور آخرت ادھار ہے» درست ہے، اور دوسرا «نقد ادھار سے بہتر ہے» دھوکے کا مقام ہے، کیونکہ نقد اسی وقت بہتر ہے جب وہ ادھار کے برابر ہو۔ تاجر ایک درہم دے کر بعد میں دس لیتا ہے، اور مریض آئندہ تکلیف کے خوف سے پھل چھوڑ دیتا ہے؛ دونوں ادھار پر راضی ہو گئے۔ انسان کی طویل ترین عمر آخرت کی مدت سے کوئی نسبت نہیں رکھتی، اور دنیا کی لذتیں مکدر ہیں جبکہ آخرت کی صاف۔ 9 10

فریب خوردہ لوگوں کی چار قسمیں

غزالی کہتے ہیں کہ فریب خوردہ گروہ بہت ہیں مگر چار قسموں میں سمٹ جاتے ہیں: علما، عابد، صوفیہ اور مالدار۔ غرور کے داخل ہونے کے راستوں میں وہ گنواتے ہیں: برائی کو نیکی سمجھنا، جیسے حرام مال سے مسجد کو آراستہ کرنا؛ اپنے لیے اور اللہ کے لیے کی جانے والی کوشش میں فرق نہ کرنا، جیسے وہ واعظ جس کا مقصد مقبولیت ہو؛ فرض چھوڑ کر نفل میں مشغول ہونا؛ اور مغز چھوڑ کر چھلکے میں لگنا، جیسے وہ جس کی نماز میں ساری فکر حروف کے مخارج درست کرنے تک محدود ہو۔ 1 11

اہلِ علم

ان کے نزدیک علما میں پہلا گروہ وہ ہے جنہوں نے شرعی اور عقلی علوم میں مہارت حاصل کی مگر اپنے اعضا کی نگرانی چھوڑ دی، اور سمجھا کہ ان کا علم ان کی سفارش کرے گا۔ وہ جواب دیتے ہیں کہ علم دو قسم کا ہے: علمِ معاملہ جو صرف عمل کے لیے مطلوب ہے، اور علمِ مکاشفہ۔ 12 وہ ان کی مثال اس مریض سے دیتے ہیں جس نے ماہر طبیب سے اپنی دوا سیکھی، اس کا خوبصورت نسخہ لکھا اور دوسرے مریضوں کو سکھاتا رہا مگر خود نہ پیا؛ اگر وہ ہزار نسخے بھی لکھ لیتا تو شفا نہ ملتی۔ یہی حال اس فقیہ کا ہے جس نے طاعات کا علم پختہ کیا اور عمل نہ کیا۔ 13 14 ان کی رائے ہے کہ ریاست اور جاہ کی محبت اور فخر کی لذت عالم کو اندھا کر سکتی ہے یہاں تک کہ وہ سمجھے کہ وہ اپنے دین میں مشغول ہے۔ 15

اہلِ عبادت

وہ کہتے ہیں کہ فریب خوردہ عابدوں میں کوئی نماز میں دھوکا کھاتا ہے، کوئی تلاوت میں، حج، جہاد یا زہد میں۔ کچھ فرائض چھوڑ کر فضائل میں لگ جاتے ہیں یہاں تک کہ اسراف تک پہنچ جاتے ہیں، جیسے وضو میں وسوسے کا شکار جو اس پانی پر راضی نہیں ہوتا جسے فتویٰ پاک قرار دے، مگر جب حلال کھانے کی بات آئے تو ڈھیلا پڑ جاتا ہے۔ 16 17

صوفیہ

غزالی کہتے ہیں کہ صوفیہ پر غرور «کس قدر غالب ہے»، اور ان کا ایک گروہ، «ہمارے زمانے کے صوفی سوائے ان کے جنہیں اللہ بچا لے»، لباس، وضع اور گفتگو سے دھوکا کھا گیا: انہوں نے سچوں کی لباس، الفاظ اور آداب میں، سماع اور رقص میں، جائے نماز پر بیٹھنے اور سر جھکانے میں مشابہت اختیار کی اور سمجھا کہ اس سے صوفی بن گئے، حالانکہ مجاہدہ اور دل کی نگرانی میں محنت نہ کی۔ 15 18

مالدار

ان کے بقول ان میں وہ ہیں جو مساجد، مدارس، خانقاہیں اور پل بنانے کے شوقین ہیں اور ان پر اینٹوں سے اپنے نام لکھواتے ہیں تاکہ ان کی یاد باقی رہے۔ وہ دو طرح دھوکا کھاتے ہیں: یہ عمارتیں ظلم اور رشوت کے مال سے بناتے ہیں، حالانکہ واجب یہ ہے کہ مال اس کے مالکوں، ان کے وارثوں یا اہم ترین مصالح کو لوٹایا جائے؛ اور خود کو مخلص سمجھتے ہیں، حالانکہ اگر ان میں سے کسی سے کہا جائے کہ ایک دینار خرچ کرو اور نام نہ لکھو تو اس پر گراں گزرے۔ 19 20

علاج

غزالی غرور سے نجات کئی چیزوں میں رکھتے ہیں، ان میں عقل ہے جو ان کے نزدیک فطرت میں ودیعت کی گئی نعمت ہے؛ وہ عابد کی عقل کے بارے میں پوچھنے کی روایات لاتے ہیں جن کے ضعف کی طرف عراقی اشارہ کرتے ہیں۔ 21 22 دوسری چیز معرفت ہے، یعنی بندہ چار باتیں جانے: اپنے نفس کو بندگی، عاجزی اور حیوانی شہوات سے بیگانگی کے ساتھ، اپنے رب کو، دنیا کو اور آخرت کو؛ اس کے لیے وہ کتاب المحبۃ اور کتاب شرح عجائب القلب کا حوالہ دیتے ہیں۔ 22

دوسرے موضوعات سے تعلق

احیاء میں غرور حبِ جاہ، ریا اور عجب سے، اور غزالی کی علمِ معاملہ اور علمِ مکاشفہ کی تقسیم سے جڑتا ہے۔ 12 15

ننھے زائرین کے لیے

غرور یہ ہے کہ آدمی سمجھے کہ وہ ٹھیک ہے حالانکہ وہ غلطی پر ہو۔ غزالی کہتے ہیں کہ جو دوا کا نسخہ یاد کر لے مگر دوا نہ پیے وہ شفا نہیں پاتا، اور یہی حال اس کا ہے جو نیکی جانے اور اس پر عمل نہ کرے۔

محققین کے لیے نوٹ

  • متن دار المعرفہ کے ایڈیشن کی شاملہ فائل سے ہے؛ 1982 کے دار المعرفہ ایڈیشن میں یہ کتاب تیسری جلد کے آخر میں ہے۔ 23
  • صوفیہ، علما اور مالداروں پر غزالی کی تنقید ان کی اپنی رائے ہے، انہی کی طرف منسوب کر کے پیش کی گئی۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Mentioned in
احیاء علوم الدین
Part of
التصوف

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

فقر (تصوف میں)· حبِ جاہ· اخلاص· قضا پر رضا· علمِ معاملہ اور علمِ مکاشفہ· خلوت· عزلت· حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء (ابو نعیم)

ماخذ

  1. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6068
  2. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6071
  3. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6065
  4. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6067
  5. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6070
  6. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6072
  7. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6073
  8. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6074
  9. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6075
  10. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6076
  11. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6069
  12. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6114
  13. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6115
  14. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6116
  15. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6197
  16. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6180
  17. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6181
  18. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6198
  19. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6215
  20. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6216
  21. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6231
  22. غزالی، احیاء علوم الدین مع تخریجِ عراقی (دار المعرفہ کا متن، مکتبہ شاملہ فائل) , p. 6232
  23. غزالی، احیاء علوم الدین، جلد سوم (دار المعرفہ، بیروت 1982) , p. 5
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “غرور (فریبِ نفس)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/ghurur/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

فقر (تصوف میں)

غزالی کے نزدیک فقر «اس چیز کا نہ ہونا ہے جس کی ضرورت ہو»، اور اس معنی میں اللہ کے سوا ہر موجود فقیر ہے؛ مگر احیاء کی کتاب الفقر والزہد میں ان کی مراد مال کا فقر ہے، جس کے وہ پانچ احوال بتاتے ہیں: زاہد، راضی، قانع، حریص اور مضطر، اور ان سے اوپر «مستغنی» جس کے لیے مال کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہے ۔