ایک نظر میں
- دور
- العصر النبوي
- خطہ
- global
- جائزہ
- مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
خلاصہ
شعراوی کے نزدیک جبر جسموں پر ہوتا ہے، جبکہ سچا ایمان اختیار سے ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ نے ایمان اور اطاعت کو اختیار پر چھوڑا 2۔
جبر اور محبت
وہ کہتے ہیں کہ انسان بدنی امور اور زندگی کے واقعات میں مجبور ہے، مگر محبت پر جبر نہیں ہو سکتا۔ وہ مثال دیتے ہیں کہ بندوق کے زور پر کسی کو سجدہ کرایا جا سکتا ہے مگر محبت پیدا نہیں کی جا سکتی 2۔
ابلیس
وہ ابلیس کی اللہ کی عزت کی قسم کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر اللہ چاہتا تو سب اطاعت کرتے، مگر وہ جاننا چاہتا ہے کہ کون خوشی سے آتا ہے، اس لیے بندہ خوف اور امید کے درمیان رہتا ہے 3۔
ابھی تک جانچ نہیں ہوئی
یہ شعراوی کی قراءت ہے۔ قدر اور کسب پر کلامی بحث، علمی رائے اور غیر سنی رائے کا موازنہ نہیں ہوا۔ دیکھیں قدر۔
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
حكم تارك الصلاة· أداء· اذان (نماز کی اطلاع: حکم، الفاظ، شرائط، سنتیں اور مؤذن کی صفات)· ہڈی (عظم)· خواہشات کی زینت اور دنیا کا متاع· اہل صفہ· الأرض مسجداً وطهوراً· الإنفاق في سبيل الله
ماخذ
- خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1075
- خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1076
- خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1077
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “اختیار اور جبر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/free-choice-and-compulsion/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.