السبي في الحرب الدينية والمحصنات

السبي في الحرب الدينية والمحصنات

The commentary on the Qur'anic verse about married women and those whom the right hand possesses, a point of disagreement on whether capture ends a marriage and on the conditions for lawful captivity. Rashid Rida reports the majority reading as an exception, and the Hanafi and some Hanbali view on women captured with their husbands. With Muhammad Abduh he holds that captivity is lawful only in a religious war and not in a war for worldly gain.

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
arabia
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

laws-of-war-and-peaceslavery-and-freedom

خلاصہ

اس آیت میں جہاں شادی شدہ عورتوں کا ذکر ہے اور اہلِ ایمان کی ملکیت میں آنے والی قیدی عورتوں کا استثناء ہے، اس میں اختلاف ہے کہ قید ہونے کا نکاح پر کیا اثر ہے، اور قید کو حلال ہونے کی شرائط کیا ہیں۔ محمد رشید رضا جمہور کا قول نقل کرتے ہیں کہ یہ استثناء ان شادی شدہ عورتوں سے ہے جو دینی جنگ میں قید ہوں، اور محمد عبدہ کے ساتھ ان کا موقف ہے کہ دنیاوی مفاد کی جنگ میں قید جائز نہیں۔ 1 2

جمہور کا قول

رضا نقل کرتے ہیں کہ جمہور نے استثناء کو محصنات (شادی شدہ عورتوں) سے مستثنیٰ سمجھا، یعنی وہ عورتیں جو دینی جنگ میں قید ہوں جس میں مسلمان اپنے دین کا دفاع کریں، اور ان کے نزدیک قیدی عورتیں دارالحرب میں اپنے کافر شوہروں کی طرف نہیں لوٹتیں، لہٰذا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور استبراء کے بعد ان سے مباشرت حلال ہو جاتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ حاملہ کا استبراء حمل کے وضع ہونے سے ہوتا ہے، اور غیر حاملہ کا حیض کے بعد طہر سے۔ اور نزولِ آیت کے سبب کے بارے میں ایک روایت ابو سعید خدری سے ہے جو اوطاس کی قیدی عورتوں سے متعلق ہے۔ 1

جو عورت شوہر کے ساتھ قید ہوئی

رضا نقل کرتے ہیں کہ حنفیہ اور بعض حنابلہ کے نزدیک جو عورت اپنے شوہر کے ساتھ قید ہوئی وہ کسی دوسرے کے لیے حلال نہیں، اس لیے انہوں نے حلت میں دار کے اختلاف کو معتبر مانا۔ دوسروں نے کہا کہ دار کے اختلاف کا کوئی اثر نہیں، اور جو عورت شوہر کے بغیر قید ہوئی وہ استبراء کے بعد حلال ہے، کیونکہ اس کا شوہر قتل ہوا ہو یا فرار ہو گیا ہو۔ 1

حکم کی حکمت

رضا بتاتے ہیں کہ اکثر قیدی عورتوں کے شوہر قتل ہو جاتے یا فرار ہو جاتے، اور مسلمانوں پر ان عورتوں کی کفالت لازم ہوتی، اس لیے ان کے اور معاشرے کے مفاد میں یہ تھا کہ ہر عورت کا کوئی کفیل ہو۔ وہ اس سوال کا جواب دیتے ہیں کہ اسلام نے قید کو نہ فرض کیا، نہ واجب کیا، نہ حرام، کیونکہ بعض حالات میں اس میں مصلحت ہے، جیسے جب جنگ کسی قبیلے کے مردوں کا صفایا کر دے۔ اور جب مسلمان قیدیوں کو ان کی قوم کی طرف لوٹانے میں مصلحت دیکھیں تو ایسا کرنا جائز بلکہ واجب ہو سکتا ہے۔ یہ سب دینی جنگ کے بارے میں ہے؛ دنیاوی مفاد کی جنگ میں قید جائز نہیں۔ 2

ملکیت کے الفاظ پر رضا کی رائے

رضا کا موقف ہے کہ ملکیت کے ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکیت قید سے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ کسی پہلے کی ملکیت کی خبر دیتے ہیں۔ وہ دارِ اسلام میں شادی شدہ لونڈی کو ایک الگ مسئلہ قرار دیتے ہیں جس پر یہ استثناء نہیں آتا۔ وہ بعض صحابہ، جن میں ابن مسعود بھی شامل ہیں، سے مروی ایک قول نقل کرتے ہیں کہ نیا مالک لونڈی کا نکاح باطل کر دیتا ہے، اور بتاتے ہیں کہ یہ قول جمہور امامیہ کا بتایا جاتا ہے۔ رضا کے نزدیک یہ قول جمہور اہلِ سنت کے مذہب سے راجح ہے، اگر عبدہ کی وہ رائے نہ ہوتی کہ ایسے نکاح کو شمار نہ کیا جائے۔ یہ سب رضا اور عبدہ کا کلام ہے۔ 2 3

تکمیل کے لیے

قدیم اسلام میں قید کی تاریخ پر جدید مطالعات ابھی شامل نہیں ہوئے، نہ وہ فقہی کتب جو ہر قول کو اس کے قائلین کی طرف منسوب کرتی ہیں، اور نہ وہ روایات جو رضا نے استبراء کے بارے میں اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کی ہیں۔

سوال پر آراء

پہلی رائے · اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · sunniبنیادی حوالہ

قائل: سعد بن مالك الخدري

بنیاد: تفسير المنار، المجلد الخامس

مزید آراء (2)

اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · sunniبنیادی حوالہ

بنیاد: تفسير المنار، المجلد الخامس

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

عتق أرقاء العدو عند لجوئهم للمسلمين· أسر ابنة حاتم الطائي وإطلاقها· المؤلفة قلوبهم· العارية المضمونة· الفتح عنوة· تحريم الغلول· حریم (گرد کا حق)· هُدْنَة

ماخذ

  1. تفسير المنار، المجلد الخامس , p.4
  2. تفسير المنار، المجلد الخامس , p.5
  3. تفسير المنار، المجلد الخامس , p.6
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “السبي في الحرب الدينية والمحصنات”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/al-sabi-fi-al-harb-al-diniyya/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-19.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

عتق أرقاء العدو عند لجوئهم للمسلمين

A legal principle in Islamic law of war established during the siege of Ta'if when the Prophet proclaimed: 'Whichever slave descends from the fortress to us is a free man', freeing over a dozen men including Abu Bakra as 'freemen of God' and refusing to return them upon Ta'if's submission.