ایک نظر میں
- خطہ
- south-asia
خلاصہ
«کتابِ نورس» ابراہیم عادل شاہ دوم کے دکنی اردو گیتوں کا مجموعہ ہے، جس کا فارسی دیباچہ ان کے ملک الشعرا ظہوری نے لکھا، جو ان کے تین رسائل میں پہلا ہے۔ 1 ظہوری نام کی وضاحت کرتے ہیں: ہندوستانی نو رسوں کے آمیزے کو نورس کہتے ہیں — ہندوستانی جمالیات میں ہر فن پارے میں ان نو کیفیات میں سے ایک یا زیادہ ہوتی ہیں — اور فارسی میں اس کے معنی «نو رس، تازہ» ہیں۔ 3
زیبروسکی کی قرأت میں مشمولات
مارک زیبروسکی کے نزدیک کتاب ابراہیم کی شخصیت اور ہندو و اسلامی روایات کے امتزاج کو ظاہر کرتی ہے: اس میں راگ مالا اور اپنے پسندیدہ ہاتھی آتش خان اور طنبورے موتی خان سے جدائی کے دکھ پر گیت ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ یہ ہندو لکھنے والوں کی طرح علم کی دیوی سرسوتی کی دعا سے شروع ہوتی ہے، پھر نبی محمد اور گلبرگہ میں مدفون دکنی بزرگ گیسو دراز کی مدح، اور چھپنویں گیت میں ابراہیم خود کو ایک ہندو دیوتا کی صفات اور سواری کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ 2 یہ ایک شعری متن کی مصنف کی قرأت ہے؛ میوزیم اسے بیان کرتا ہے اور سلطان کے عقیدے پر کوئی حکم نہیں لگاتا۔
مصوری سے تعلق
مصنف کے خیال میں یہ بیانات غالباً تصاویر کا موضوع بنے: پراگ میں سلطان کی شبیہ ان کے اپنے بیان سے ملتی ہے — ہاتھ میں ساز، گلے میں مالا، رنگے ناخن اور دور دو ہاتھی۔ 2
تعلقات
- About
- بیجاپور کی مصوری
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
جواہر الموسیقاتِ محمدی· نجوم العلوم· بیجاپور کی مصوری· دیوان الانشاء (دیوان الرسائل، شاہی دفترِ مراسلات)· کلیاتِ محمد قلی قطب شاہ (سالار جنگ میوزیم)· عباسی قلعی دار لعاب والے ظروف· احمد نگر کی مصوری· خطِ منسوب اور اقلامِ ستہ
ماخذ
- مارك زبروفسكي، التصوير الدكني (لندن: سوذبيز، 1983) , p. 67
- مارك زبروفسكي، التصوير الدكني (لندن: سوذبيز، 1983) , p. 69
- مارك زبروفسكي، التصوير الدكني (لندن: سوذبيز، 1983) , p. 68
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “کتابِ نورس”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/kitab-i-nauras/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON