فن القاهرة الإسلامية وعمارتها

نوادرات تخلیقات

مصنف ريتشارد يومانز

فن القاهرة الإسلامية وعمارتها

Richard Yeomans's English survey (Garnet, 2006) of the architecture and decorative arts of Islamic Cairo from the Arab conquest of 642 to the Ottoman conquest of 1517, dynasty by dynasty, from the Mosque of Amr to the Burji Mamluk foundations 1.

گہرائی

ایک نظر میں

دور
عصر الخلفاء الراشدين · عصر تفكك الخلافة العباسية · عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة · الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك · العصر المغولي وما بعده
خطہ
egypt-nile

وقت میں

1990عیسوی2000عیسوی2010عیسوی2020عیسوی

architecturecitiesimages-and-figural-art

خلاصہ

«اسلامی قاہرہ کا فن اور فنِ تعمیر» رچرڈ یومنز کی انگریزی کتاب ہے جس کا پہلا ایڈیشن 2006ء میں ریڈنگ (انگلستان) کے گارنٹ پبلشنگ نے شائع کیا۔ 2 کتاب عرب فتح سے عثمانی فتح تک (642ء تا 1517ء) قاہرہ کے فنِ تعمیر اور آرائشی فنون کا جائزہ لیتی ہے اور اسالیب کے ارتقا کو ان کے مذہبی، سماجی اور سیاسی پس منظر میں رکھتی ہے۔ 1

مصنف کے بیان کے مطابق کتاب کا مقصد

یومنز دیباچے میں لکھتے ہیں کہ وہ 1964ء میں پہلی بار صرف فرعونی آثار دیکھنے مصر گئے، پھر خان الخلیلی کے علاقے میں اسلامی فنِ تعمیر کو اس کے زندہ ماحول میں دیکھا، اور بعد میں اسلامی فن کے عجائب گھر کی زیارت کی۔ 3 ان کی رائے میں مغرب نے مصر کی اسلامی شناخت کو نظرانداز کیا اور اس کی تقریباً چودہ صدیوں کی تاریخ سے صرفِ نظر کیا؛ اس میں وہ ایڈورڈ سعید کا حوالہ دیتے ہیں، اور نپولین کی مہم (1798ء تا 1801ء)، «وصفِ مصر» اور مصریات کے آغاز کو یورپ کی توجہ صرف قدیم مصر کی طرف پھرنے کا نقطۂ آغاز سمجھتے ہیں۔ 3 4

وہ اسلامی مصر پر انگریزی میں لکھی گئی کتابیں گنواتے ہیں: ایڈورڈ ولیم لین کی جدید مصریوں کے رسوم پر کتاب (1836ء)، اسٹینلے لین پول کی «تاریخِ مصر» (1901ء) اور «مصر میں سراسنہ کا فن» (1886ء)، بٹلر کی «عربوں کی فتحِ مصر» (1902ء)، فسطاط پر کوبیاک اور ایوبی قاہرہ پر میکنزی کے مطالعے، اور فنِ تعمیر پر کریزویل اور بہرنز ابو سیف کی کتابیں۔ 4 وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس بکھرے ہوئے علم کو ایک جلد اور ایک مسلسل بیانیے میں عام قاری کے لیے یکجا کرنا چاہا، لین پول کی 1886ء کی کوشش کو تازہ کرتے ہوئے، اور اس میں مصر کے آثار کی برسوں تک مصوری کے ذاتی مشاہدے سے بھی کام لیا۔ 5 دیباچے کے آخر میں ان کی رائے ہے کہ قاہرہ کے اسلامی آثار غفلت، وسائل کی کمی اور زلزلوں سے بکھر رہے ہیں اور انہیں وینس کی طرح فوری بچاؤ کی ضرورت ہے؛ یہ ان کی اپنی رائے ہے۔ 5

ساخت اور ابواب

  • دیباچہ (ص 1)، پھر تمہید: مصر اور عرب فتح (ص 4)۔ 1
  • باب اول: اموی اور طولونی فنِ تعمیر، فسطاط اور القطائع (ص 14)۔ 1
  • باب دوم: فاطمی فنِ تعمیر (ص 42)؛ باب سوم: طولونیوں اور فاطمیوں کے آرائشی فنون (ص 70)۔ 1
  • باب چہارم: ایوبی فنِ تعمیر (ص 100)؛ باب پنجم: بحری مملوکوں کا فنِ تعمیر (ص 124)؛ باب ششم: ایوبیوں اور مملوکوں کے آرائشی فنون (ص 164)؛ باب ہفتم: برجی (چرکسی) مملوکوں کا فنِ تعمیر (ص 198)۔ 1
  • ضمیمے: حواشی و حوالہ جات (ص 240)، اسلامی اور انگریزی اصطلاحات کی دو فرہنگیں (ص 251، 253)، خاندانوں اور حکمرانوں کی تاریخ وار فہرست (ص 256)، خاندانوں کا جدول (ص 258)، کتابیات (ص 259) اور اشاریہ (ص 265)۔ 1

طریقِ کار

کتاب فنِ تعمیر اور آرائشی فنون کے لیے الگ الگ ابواب رکھتی ہے، اور قاہرہ کے اسلامی فن کے عجائب گھر اور یورپ و امریکہ کے مجموعوں سے ظروف، شیشہ، لکڑی، دھات، کپڑے اور مخطوطات کا مطالعہ کرتی ہے۔ 1 اس کا بیانیہ عربی مآخذ پر ہے جیسا کہ جدید تحقیق انہیں نقل کرتی ہے، مثلاً مقریزی، ابن دقماق، قلقشندی اور بلوی، اور کریزویل، کوبیاک، بہرنز ابو سیف اور ہلنبرانڈ کی تحقیقات پر؛ اور جہاں عمارت کے حصوں کی تاریخ میں ان کا اختلاف ہے اسے بیان کرتی ہے، جیسے جامع ابن طولون کے مینار کے بارے میں۔ 6 7 8

باب اول کے مضامین سے

باب کا آغاز بابلیون کے قلعے کے پاس فسطاط کی تاسیس سے ہوتا ہے اور کوبیاک کے حوالے سے جامع عمرو کے گرد قبائلی خطوں کو بیان کرتا ہے۔ 9 10 پھر جامع عمرو کے مراحل کو کچی اینٹ اور کھجور کے تنوں کی پہلی عمارت سے 1800ء میں مراد بک کی تعمیرِ نو تک دیکھتا ہے۔ 11 12 اس کے بعد عباسی العسکر اور طولونی القطائع کا ذکر ہے، روضہ کا مقیاسِ نیل اور جامع ابن طولون اور اس کی سامرائی طرز کی گچ کاری بیان ہوتی ہے، اور باب خمارویہ کے محلات اور 905ء میں طولونی ریاست کے زوال پر ختم ہوتا ہے۔ 13 6 14 15

بعد کے ابواب سے

باب دوم ازہر، جامع الحاکم، بدر الجمالی کے دروازوں، الاقمر، علوی مشاہد اور الصالح طلائع کی مسجد کا مطالعہ کرتا ہے۔ 16 17 باب چہارم قلعے، شافعی کے مقبرے اور صالحیہ کو لیتا ہے۔ 18 19 باب پنجم بیبرس کی مسجد اور قلاوون کے مجموعے سے سلطان حسن کی مسجد تک بحری مملوک تعمیرات کا احاطہ کرتا ہے۔ 20 21 باب ہفتم برقوق سے قایتبای اور الغوری تک چرکسیوں کا، اور آخر میں عثمانی دور اور محمد علی کی مسجد پر ایک خاتمہ۔ 22 23 24

ایڈیشن

پہلا ایڈیشن، گارنٹ پبلشنگ، ریڈنگ، 2006ء، آئی ایس بی این 978-1-85964-154-5، لبنان میں طبع ہوا۔ 2 کتاب میں دو سو سے زیادہ تصاویر، نقشے اور خاکے اور تعمیراتی اصطلاحات کی فرہنگ شامل ہے۔ 25

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Authored by
ريتشارد يومانز
Mentions
مسجد عمرو بن العاص· جامع ابن طولون· جزیرۂ روضہ کا مقیاسِ نیل· القطائع· الفسطاط· سامرائی گچ کاری کے اسالیب (الف، ب، ج)

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

سامرائی گچ کاری کے اسالیب (الف، ب، ج)· القطائع· جامع ابن طولون· احمد بن طولون· القاهرة· مسجد عمرو بن العاص· الفسطاط· دار الأنماط

ماخذ

  1. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , contents
  2. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , imprint
  3. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.1
  4. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.2
  5. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.3
  6. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.29
  7. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.33
  8. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.34
  9. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.15
  10. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.16
  11. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.20
  12. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.23
  13. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.27
  14. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.32
  15. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.41
  16. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.42
  17. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.69
  18. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.100
  19. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.123
  20. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.124
  21. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.163
  22. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.198
  23. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.235
  24. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.239
  25. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , back flap
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “فن القاهرة الإسلامية وعمارتها”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/art-and-architecture-of-islamic-cairo/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

نوادرات

مخطوطات، فن، فن تعمیر اور دنیا بھر کے مجموعوں کے تبرکات۔
متعلقہ

سامرائی گچ کاری کے اسالیب (الف، ب، ج)

Herzfeld's and Creswell's division of the stucco excavated in the Abbasid palaces of Samarra into three coexisting styles, brought to Egypt by Ibn Tulun and preserved in situ in his mosque.