ایک نظر میں
- دور
- الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك
- خطہ
- egypt-nile
وقت میں
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
خلاصہ
یومنز مقطم کی پہاڑی کے ابھار پر قلعے کی تعمیر کو قاہرہ کی تعمیراتی تاریخ میں صلاح الدین کا سب سے شاندار حصہ مانتے ہیں۔ 1 تعمیر 1176ء میں شروع ہوئی؛ مرکزی دروازے باب المدرج پر 1183ء کا تاسیسی کتبہ ہے، جسے یومنز پہلے مرحلے کا اختتام سمجھتے ہیں، اسی سال کے بعد صلاح الدین قاہرہ سے ہمیشہ کے لیے چلے گئے۔ 2 الملک الکامل نے اسے مکمل کیا اور وہ اس میں رہنے والے پہلے سلطان تھے۔ 3
جگہ کا انتخاب
یومنز مقریزی کی روایت نقل کرتے ہیں کہ صلاح الدین نے یہ جگہ تازہ ہوا کی وجہ سے چنی اور گوشت لٹکا کر آزمایا جو یہاں دو دن سے زیادہ تازہ رہا جبکہ باقی قاہرہ میں ایک دن رات میں خراب ہو جاتا تھا۔ 1 یومنز کے خیال میں اصل وجہ دفاعی ضرورت اور شامی و صلیبی قلعوں کی مثال تھی جنہیں صلاح الدین جانتے تھے: یہ ابھار شمال مشرق سے شہر کی حفاظت کرتا اور اندر حکومت اور فوج کو محفوظ رکھتا۔ 1 جگہ خالی نہ تھی: یہاں عباسی دور کا قبۃ الہوا تھا، اور جگہ صاف کرنے کے لیے فاطمی مساجد اور مقبرے گرائے گئے۔ 4 2
تعمیر اور مزدور
مقریزی کے مطابق پتھر کے لیے جیزہ کے بعض چھوٹے اہرام گرائے گئے، مگر زیادہ تر پتھر وہیں سے کاٹا گیا جس سے قلعے کی مشرقی دیواروں اور مقطم کے بیچ ایک خلا بن گیا۔ 1 اندلسی سیاح ابن جبیر (1183ء) نے بے شمار رومی قیدیوں کو پتھر کاٹتے، سنگِ مرمر چیرتے اور قلعے کے گرد چٹان میں کھودی گئی خندق بناتے دیکھا۔ 5 اندازہ تھا کہ 1187ء سے پہلے مصر میں پچاس ہزار جنگی قیدی کام کر رہے تھے؛ یومنز اس تعداد کو مبالغہ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ غالباً 1179ء کی مہمات کے قیدی تھے۔ 2
فصیلیں، برج اور دروازے
آج قلعہ شمالی، جنوبی اور زیریں احاطوں میں بٹا ہے؛ شروع سے مغرب کا رہائشی اور انتظامی حصہ شمال کے فوجی احاطے سے الگ تھا۔ 1 کریزویل کے مطابق صلاح الدین کی فصیلیں چودہ سو میٹر لمبی تھیں؛ ان کے چھوٹے نیم دائرہ برج ہموار پتھر سے ڈھکے، چٹان پر بنے ہیں، ان میں تیر انداز سوراخوں والے صلیب نما کمرے ہیں، یہ ہر سو میٹر پر ابھرتے ہیں، اور فصیل کے اندر مسلسل گیلری چلتی ہے۔ 2 1183ء کے تین اصل دروازے باقی ہیں: باب المدرج، باب القرافہ اور برج الامام کا مشرقی دروازہ۔ 2 باب المدرج اب محمد علی کے 1826ء کے نئے دروازے اور ایوبی فصیل کے بیچ ہے؛ اس کے داخلے پر خطِ نسخ کی قدیم ترین مثالوں میں سے ایک میں تاسیسی کتبہ ہے، سلاطین جقمق، قایتبای اور طومان بای اول کے مرمتی کتبے ہیں، اور اس کی ڈیوڑھی کے گنبد پر الناصر محمد کا نام ہے۔ 2 6 سلطان جانبلاط نے 1501ء میں عثمانیوں کے خوف سے باقی دو دروازے بند کرا دیے۔ 6
الکامل کے برج
الکامل نے موجودہ برجوں کو مضبوط اور وسیع کیا، برج الحداد اور برج الرملہ کو نئے نیم دائرہ حصوں میں لپیٹا، مشرقی دروازے کو برج الامام (1183ء تا 1207ء) کے جڑواں برجوں میں بڑھایا، اور بڑے مربع خود کفیل حصار بنائے، جن میں سب سے محفوظ برج کرکیلیان (برج الحیات) اور برج الطرفہ (1207ء) ہیں، دوسرا تقریباً تیس میٹر مربع ہے۔ 3 7 بعض کمرے قید خانے تھے، اور فاطمی خاندان کے آخری افراد برج الحیات میں فوت ہوئے۔ 8 9 الکامل کا کام ابھرے کھردرے پتھر سے پہچانا جاتا ہے، بخلاف صلاح الدین کے برجوں کے ہموار پتھر کے، اور یہی طرز دمشق اور بصریٰ کے قلعوں میں بھی ہے۔ 9
قلعے میں بئرِ یوسف ہے، اور بعد کی عمارتوں میں الناصر محمد کی مسجد اور قصرِ ابلق شامل ہیں۔ 5 6
تعلقات
- Built by
- صلاح الدین ایوبی
- Site of
- 1226ھ (1811ء) میں قلعے میں مملوک امرا کا قتل
- Located in
- القاهرة
- Related to
- دیوان البرید (ڈاک کا دیوان)
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· دخول شيركوه مصر وقتل شاور وولايته الوزارة· وقعة السودان بين القصرين· صلاح الدين: فاتح القدس· 1226ھ (1811ء) میں قلعے میں مملوک امرا کا قتل· القاهرة· باب الفتوح، قاہرہ· باب النصر، قاہرہ
ماخذ
- ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.105
- ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.107
- ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.109
- ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.27
- ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.106
- ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.108
- ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.110
- ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.101
- ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.111
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “قلعۂ قاہرہ (قلعۂ صلاح الدین)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/building/citadel-of-cairo/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON