باب النصر، قاہرہ

نوادرات مقام

باب النصر

القاهرة

Northern gate of Fatimid Cairo, built in Badr al-Jamali's stone rebuilding of the walls in 1087-1092, with two rectangular towers and a Kufic inscription of the Shi'i profession of faith 1 2.

گہرائی

ایک نظر میں

دور
عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة
خطہ
egypt-nile

وقت میں

1070عیسوی1080عیسوی1090عیسوی1100عیسوی1110عیسوی
عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة · الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

architecture

خلاصہ

باب النصر فاطمی قاہرہ کے دو شمالی دروازوں میں سے ایک ہے، جو اس وقت بنا جب خلیفہ المستنصر کے وزیر بدر الجمالی نے 1087ء اور 1092ء کے درمیان شہر کی فصیل اینٹ اور پتھر سے دوبارہ بنائی، کیونکہ پہلی کچی اینٹ کی فصیل گر چکی تھی۔ 1 یومنز مقریزی کا قول نقل کرتے ہیں کہ باب النصر، باب الفتوح اور باب زویلہ رُہا کے تین آرمینی عیسائیوں نے بنائے، اور اسے معقول سمجھتے ہیں کیونکہ سلجوقی فتح کے بعد بہت سے آرمینی قاہرہ آ بسے تھے اور بدر خود آرمینی الاصل تھا؛ اس سے ان کی بعض بازنطینی خصوصیات کی وضاحت ہوتی ہے۔ 1

ساخت

دروازے کے دونوں طرف تین منزلہ مضبوط مستطیل برج ہیں جنہیں دو تہائی بلندی پر کارنس کی ایک مضبوط پٹی تقسیم کرتی ہے؛ پہلی دو منزلیں ملبے کے مغز پر تراشیدہ پتھر کی ٹھوس چنائی ہیں اور قاعدے میں مضبوطی کے لیے آڑے ستون دبائے گئے ہیں۔ 2 تیسری منزل کے کمروں پر گنبد ہیں، اور برجوں پر گول سروں والے کنگرے تھے جو «وصفِ مصر» (1812ء) کی ایک کندہ تصویر میں نظر آتے ہیں؛ اب وہ بند ہیں اور اکثر تیر انداز سوراخ توپوں کے لیے چوڑے کر دیے گئے ہیں، جنہیں کریزویل نے نپولین کے سپاہیوں سے منسوب کیا جو 1798ء تا 1801ء برجوں میں رہے۔ 2

نیم دائرہ داخلہ، شیعی صیغے کی شہادت کے کوفی کتبے کے نیچے، ایک کشادہ ڈیوڑھی میں کھلتا ہے جس کے دونوں طرف طاق ہیں اور چھت پر گلاب کے نقش والا متقاطع قوس ہے۔ 2 برجوں کے سامنے کارنس کے نیچے کوفی پٹی اور بازنطینی و نارمن طرز کی گول اور نوکیلی ڈھالیں ہیں، جنہیں بہرنز ابو سیف شہر کی حفاظتی ڈھالیں سمجھتی ہیں؛ یومنز ان کا موازنہ ان بازنطینی شبیہوں سے کرتے ہیں جو شہر کے دروازوں پر رکھی جاتی تھیں۔ 2 3

شمالی مجموعہ

باب النصر اور باب الفتوح کے درمیان تقریباً دو سو میٹر فصیل ہے جس میں جامع الحاکم کی شمالی دیوار شامل ہے؛ یومنز ان فصیلوں اور دروازوں کو مشرقِ وسطیٰ میں صلیبیوں سے پہلے کے فوجی فنِ تعمیر کا بہترین باقی نمونہ سمجھتے ہیں۔ 2 بہرنز ابو سیف بتاتی ہیں کہ الآمر (1101ء تا 1131ء) کے زمانے میں باب النصر پر رصدگاہ بنانے کی کوشش ہوئی جو مکمل نہ ہوئی۔ 4

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Built by
بدر الجمالي
Burial place of
ابن بلبان علاء الدین علی
Located in
القاهرة

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

باب الفتوح، قاہرہ· باب زویلہ، قاہرہ· ابن بلبان علاء الدین علی· القاهرة· بئرِ یوسف، قلعۂ قاہرہ· قلعۂ قاہرہ (قلعۂ صلاح الدین)· سلطان الاشرف اینال کا جنازی مجموعہ، قاہرہ· الناصر محمد کا مدرسہ اور مقبرہ، قاہرہ

ماخذ

  1. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.46
  2. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.47
  3. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.48
  4. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p.58
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “باب النصر، قاہرہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/building/bab-al-nasr/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

نوادرات

مخطوطات، فن، فن تعمیر اور دنیا بھر کے مجموعوں کے تبرکات۔
متعلقہ

باب الفتوح، قاہرہ

The other northern gate of Fatimid Cairo, built by Badr al-Jamali in the rebuilding of the walls (1087-1092) with two bulging semicircular towers, forming with Bab al-Nasr and the Mosque of al-Hakim a unique military ensemble.