ایک نظر میں
- دور
- العصر المعاصر
- خطہ
- maghreb
trade-and-financethe-poor-and-the-worker
خلاصہ
«الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی: دراسہ مقارنہ» جامعہ الحاج لخضر باتنہ (الجزائر) کے شعبۂ شریعت سے اسلامی معاشیات میں ایم اے کا مقالہ ہے، جسے الطاہر قانہ نے ڈاکٹر جمال لعمارہ کی نگرانی میں تعلیمی سال 2006–2007 میں لکھا اور جس کا دفاع 27 فروری 2008ء کو ہوا۔ 1 2
موضوع اور منہج
محقق کہتے ہیں کہ سابقہ مطالعات نے شریعت میں ملکیت کو مختلف پہلوؤں سے دیکھا، اور ان کا اضافہ یہ ہے کہ وہ اسلامی طرزِ ملکیت اور اس سے پیدا ہونے والی تقسیم کے باہمی اثر کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس کا روایتی معاشیات سے موازنہ کرتے ہیں۔ 3 وہ اپنے منہج کو وصفی تجزیاتی اور تقابلی بتاتے ہیں، جس کا مقصد نظاموں کا موازنہ ہے نہ کہ ان کے قائلین کا: متن میں علما کے نام کم ہیں اور تراجم نہیں دیے گئے؛ فقہی اختلافات صرف وہاں لیے گئے جہاں ایک رائے واضح طور پر راجح ہو یا معاصر ماہرینِ اسلامی معاشیات نے اسے قبول کیا ہو؛ اور احادیث کی تخریج کی کتابوں، خصوصاً البانی کی کتابوں، سے جانچ کی گئی۔ 3 4 5
ابواب
یہ چار فصلوں پر مشتمل ہے اور ہر فصل میں دو مباحث ہیں: 4 6 7 8 9 10
- پہلی فصل: روایتی معیشت میں ملکیت اور تقسیم میں اس کا کردار: سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظامِ ملکیت اور ان کے تقسیمی اثرات، اور ہر ایک کی خرابیوں کے علاج کا جائزہ (مطبوعہ ص 12–48)۔
- دوسری فصل: اسلامی معیشت میں ملکیت: لغت، قانون اور فقہ میں ملکیت کا مفہوم، مال کا مفہوم، پھر ملکیت کی تین قسمیں — نجی، عوامی اور ریاستی — ان کے دلائل اور ضوابط (ص 50–89)۔
- تیسری فصل: اسلامی معیشت میں تقسیم: پیداوار سے پہلے دولت کے ذرائع (زمین اور اس کے توابع) کی تقسیم، عواملِ پیداوار (محنت، سرمایہ اور زمین) اور ان کے عوائد، پھر ازسرِنو تقسیم: لازمی تضامنی اور اختیاری تکافلی (ص 91–133)۔
- چوتھی فصل: تقسیم میں ملکیت کا کردار: قدرتی دولت کی تقسیم اور آمدنی کی وظیفی تقسیم میں اس کا کردار، حدِ کفایت، پھر عملی تقاضے (اسلامی معیشت کے عوامی اداروں کا احیا) اور تربیتی تقاضے (عقیدے اور اخلاق کی تربیت) (ص 135–182)۔
اس کا مدعا
محقق ملکیت کی سہ گانہ تقسیم اختیار کرتے ہیں اور دو گانہ تقسیم (عوامی و نجی) سے اس کے فرق کو صوری سمجھتے ہیں، کیونکہ دو گانہ کے قائلین ریاستی ملکیت کو عوامی میں شامل کرتے ہیں؛ وہ سہ گانہ کو اس لیے ترجیح دیتے ہیں کہ اس سے ملکیت کے معاشی اور سماجی کردار زیادہ واضح ہوتے ہیں۔ 11 ان کے نزدیک اسلامی معیشت میں تقسیم پیداوار سے پہلے شروع ہوتی ہے، جب قدرتی دولت کے ذرائع ملکیت کی تین قسموں میں بانٹے جاتے ہیں: جس زمین پر اس کے لوگ اسلام لائے وہ ان کی نجی ملکیت ہے؛ بنجر زمین احیا سے پہلے ریاست کی ملکیت ہے اور احیا سے نجی ملکیت بن جاتی ہے؛ اور جو زمین پر قبضہ کر کے تین سال تک آباد نہ کرے اس سے لے لی جاتی ہے۔ 12 13 پیداوار کے بعد تقسیم میں ان کے نزدیک پہلے ضرورت اور پھر محنت کا لحاظ ہوتا ہے، نہ سرمایہ داری کی طرح خودکار بازار کا اور نہ اشتراکیت کی طرح صرف محنت کا۔ 14
نتائج، مصنف کے خلاصے کے مطابق
محقق کا نتیجہ یہ ہے کہ متعدد صورتوں والی ملکیت ہی منصفانہ اور فطرت سے ہم آہنگ نمونہ ہے، اور ایک ہی صورت کی طرف جھکاؤ ظلم ہے جس کے اثرات غربت، بے روزگاری اور غلط تقسیم میں ظاہر ہوتے ہیں؛ پیداوار کے ذرائع کی ابتدائی تقسیم ہی امیری اور غریبی کے اسباب پر حاکم ہے؛ اور اسلامی معیشت روایتی معیشت کے عواملِ پیداوار کو صورت میں مانتی ہے معنی میں نہیں: وہ تنظیم کو محنت سے جوڑتی ہے، سرمایہ دار کے لیے سود حرام کرتی ہے، اور عام حالات میں قیمتیں بازار پر چھوڑتی ہے، بغیر اجارہ داری اور نرخ بندی کے۔ 15 16 وہ قدرتی اثاثوں اور آمدنی کی تقسیم کے تعلق پر شماریاتی مطالعات اور غربت کے خلاف ملکیت کے کردار پر مزید تحقیق کی سفارش کرتے ہیں۔ 16 سرمایہ داری اور اشتراکیت پر یہ تقابلی آرا مصنف کی ہیں اور انہی کی طرف منسوب ہیں۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
مِلْک (ملکیت)· العطاء· تعظيم المنافع· الاقتصاد في القرآن· العاقلة والديات· القرض العام الإلزامي· التوزيع في الإسلام· القرعة في التوزيع
ماخذ
- الطاہر قانہ، الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی: دراسہ مقارنہ (ایم اے مقالہ، جامعہ الحاج لخضر باتنہ، 2006–2007) , p.1
- الطاہر قانہ، الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی: دراسہ مقارنہ (ایم اے مقالہ، جامعہ الحاج لخضر باتنہ، 2006–2007) , p.220
- الطاہر قانہ، الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی: دراسہ مقارنہ (ایم اے مقالہ، جامعہ الحاج لخضر باتنہ، 2006–2007) , p.10
- الطاہر قانہ، الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی: دراسہ مقارنہ (ایم اے مقالہ، جامعہ الحاج لخضر باتنہ، 2006–2007) , p.11
- الطاہر قانہ، الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی: دراسہ مقارنہ (ایم اے مقالہ، جامعہ الحاج لخضر باتنہ، 2006–2007) , p.13
- الطاہر قانہ، الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی: دراسہ مقارنہ (ایم اے مقالہ، جامعہ الحاج لخضر باتنہ، 2006–2007) , p.12
- الطاہر قانہ، الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی: دراسہ مقارنہ (ایم اے مقالہ، جامعہ الحاج لخضر باتنہ، 2006–2007) , p.213
- الطاہر قانہ، الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی: دراسہ مقارنہ (ایم اے مقالہ، جامعہ الحاج لخضر باتنہ، 2006–2007) , p.214
- الطاہر قانہ، الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی: دراسہ مقارنہ (ایم اے مقالہ، جامعہ الحاج لخضر باتنہ، 2006–2007) , p.215
- الطاہر قانہ، الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی: دراسہ مقارنہ (ایم اے مقالہ، جامعہ الحاج لخضر باتنہ، 2006–2007) , p.216
- الطاہر قانہ، الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی: دراسہ مقارنہ (ایم اے مقالہ، جامعہ الحاج لخضر باتنہ، 2006–2007) , p.70
- الطاہر قانہ، الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی: دراسہ مقارنہ (ایم اے مقالہ، جامعہ الحاج لخضر باتنہ، 2006–2007) , p.95
- الطاہر قانہ، الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی: دراسہ مقارنہ (ایم اے مقالہ، جامعہ الحاج لخضر باتنہ، 2006–2007) , p.96
- الطاہر قانہ، الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی: دراسہ مقارنہ (ایم اے مقالہ، جامعہ الحاج لخضر باتنہ، 2006–2007) , p.155
- الطاہر قانہ، الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی: دراسہ مقارنہ (ایم اے مقالہ، جامعہ الحاج لخضر باتنہ، 2006–2007) , p.187
- الطاہر قانہ، الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی: دراسہ مقارنہ (ایم اے مقالہ، جامعہ الحاج لخضر باتنہ، 2006–2007) , p.188
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “الدور التوزیعی للملکیہ فی الاقتصاد الاسلامی (دراسہ مقارنہ)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/al-dawr-al-tawzii-li-l-milkiyya/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON